BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 October, 2006, 04:36 GMT 09:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالاکوٹ میں پانی کی قلت برقرار

بالاکوٹت
دریا پر ہونے کے باوجود بالاکوٹت میں پانی کی سخت قلت ہے
آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے صوبہ سرحد کا بری طرح تباہ شدہ بالاکوٹ شہر میں تقریباً ایک برس گزر جانے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہیں کھڑا ہے جہاں شاید زلزلے کے چند گھنٹوں بعد تھا۔

اس شہر کو قدرتی آفت کے بعد سے روزانہ ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کل یہ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔

شہر آج بھی ملبے کا ڈھیر محسوس ہوتا ہے، ایک ایسا ڈھیر جس میں سے آج بھی لاشیں نکالی جا رہی ہیں، عارضی خیمہ بستیاں ختم ہوئی ہیں لیکن خیمے نہیں اور امدادی تنظیمیں کم ہوئی ہیں لیکن امداد کی ضرورت نہیں۔ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد آج بھی متبادل رہائش نہ ملنے پر خیموں میں راتیں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

آٹھ اکتوبر کے بعد سے نت نئے مسائل اس کے باسیوں کو پریشان کیئے ہوئے ہیں۔ کبھی متبادل رہائش، امداد نہ ملنے کا مسئلہ ہے، تو کبھی تعمیرات کے لئیے ناموزوں قرار دیئے جانے کی پریشانی۔

آج کل اس شہر کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ بالاکوٹ کے چند شہریوں سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان میں انہیں پینے کے لیئے پانی کوسوں دور سے لانا پڑتا ہے۔ شہر میں ایک مسجد کے قریب ایک کنویں پر لمبی قطاریں ظاہر کرتی ہیں کہ امداد کے بعد اب پانی کے لیئے بھی متاثرین کو قطاریں بنانی پڑ رہی ہیں۔

مقامی صحافی جاوید اقبال سے میں نے پانی کی کمی کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے بعد سے اس تقریباً ایک سال میں کسی نے یہاں کی تباہ شدہ واٹر سپلائی سکیموں پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

’لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس سے پیٹ کی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آپ اس کی تصدیق کسی ہسپتال یا کلینک جا کر کر سکتے ہیں۔‘

 قدرت کی ستم ظریفی یا اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ گزر رہا دریائے کنہار بھی اس شہر کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس کی وجہ ناران اور کاغان میں ہوٹلوں کا تمام تر فضلہ اس میں جھونکنا ہے

ان کا کہنا تھا کہ گردو نواح تو چھوڑیں اگر شہر کی بات بھی کریں تو آپ کو پینے کا ایک گلاس نہیں مل سکتا۔ اس کے لیئے آپ کو دوچار ہوٹلوں میں جاکر تلاش کرنا پڑے گا۔ ’اگر آپ کسی ہوٹل میں کھانا بھی کھائیں گے تو پانی آپ کو ناپ تول کر ملے گا۔‘

قدرت کی ستم ظریفی یا اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ گزر رہا دریائے کنہار بھی اس شہر کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس کی وجہ ناران اور کاغان میں ہوٹلوں کا تمام تر فضلہ اس میں جھونکنا ہے۔

حاجی معروف مقامی سماجی کارکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بالاکوٹ کو ریڈ زون قرار دیئے جانے کے بعد سے غیر سرکاری تنظیموں نے اس علاقے کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ’اگر آپ نے یہ شہر بکریال کے مقام پر آئندہ تین برسوں میں منتقل کرنا ہے تو کم از کم اس دوران یہاں رہنے والوں کو تو پیاسا نہ ماریں۔‘

عوام کی طرح میں بھی پانی کا مسئلہ لے کر بالاکوٹ کی دو یونین کونسلوں کے ناظمین بالاکوٹ کے سجاد احمد اور گرلاٹ کے منیر لغمانی کے پاس پہنچا۔ ان کو بھی بےبس پایا۔

سجاد احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں جرمنی کی ایک امدادی تنظیم سے رابطہ کیا تھا لیکن نہ اس نے اور نہ کسی اور نے اس بابت کوئی مدد کی ہے۔

ان سے پوچھا کہ وہ خود یا حکومت اس سلسلے میں کیا کر رہی ہے تو ان کا مختصر جواب تھا کہ ان کے پاس اس کے وسائل ہی نہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ’ہم تو لوگوں کو امدادی چیکس وغیرہ فراہم کرانے میں مصروف ہیں۔‘

گرلاٹ کے منیر لغمانی کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں آکسفیم نامی ایک تنظیم نے کام شروع کیا ہے اور انہیں توقع ہے کہ وہ ایک ماہ میں مکمل کر لی جائے گی جس سے پانی کا مسئلہ حل ہوسکے گا۔

ان سے پوچھا کہ کیا حکومت یا انہوں نے اس مسئلے کی سنگینی کو دیر سے تو نہیں جانچا۔ ان کا جواب تھا کہ انہوں نے چند مقامات پر پائپ ڈالے تھے لیکن حالیہ بارشوں سے ندی نالوں میں تغیانی آئی جو یہ سب کچھ ساتھ لے گئی۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے اور بعد میں بارشوں سے صاف پانی کے کئی چشمے خشک ہونے سے بھی صورتحال خراب ہوئی ہے۔

سجاد احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت بالاکوٹ کے رہائشی صرف اللہ کے رحم و کرم پر ہی ہیں اور ان کے لیئے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ ایسے میں بالاکوٹ مسائل کے گرداب سے کیسے نکلے گا کچھ بتانا زیادہ مشکل نہیں۔

بالاکوٹ سے بکریال
ریڈ زون سے تیس کلومیٹر دور نئے شہر میں
بالاکوٹ: چھ ماہ بعد
زندگی کی واپسی، مقامی تاجروں کو چیلنج
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد