BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 June, 2006, 15:53 GMT 20:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹھ ماہ بعد ملبے سے لاشیں برآمد

دیگر لوگوں کی تلاش کے لیئے امدادی کام جاری ہے
زلزے کے آٹھ ماہ بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک متاثرہ علاقے سے ملبے میں دبی ایک درجن سے زائد لاشیں نکالی گئی ہیں۔ یہ لاشیں گزشتہ دو دنوں کے دوران نکالی گئی ہیں۔

ان لاشوں کی برآمدگی سے چند روز قبل بین الااقومی کمیٹی آف ریڈ کراس نے کہا تھا کہ کشمیر اور پاکستان کے متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد افراد اب تک لاپتہ ہیں، جن میں سے لگ بھگ ایک سو کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں سے ہے ۔

یہ لاشیں مظفرآباد سے تقریباً دس کلومیڑ کے فاصلے پر چھل پانی کے مقام پر دریائے نیلم کے کنارے ملبے میں دبی ہوئی ایک تباہ شدہ وین سے برآمد ہوئی ہیں۔

جن لوگوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان کا تعلق وادی نیلم کے گاؤں جھینگ سے بتایا جاتا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں پہچانی نہیں جاسکتی تھیں لیکن ان کے عزیزوں نے ان کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور ان سے برآمد ہونے والے دستاویزات سے ان کی شناخت کرلی ہے۔

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے روز یہ مسافر وین پرجھینگ سے مظفرآباد آرہے تھے کہ چھل پانی کے مقام پر وین مٹی کے ایک بہت بڑے تودے کی زد میں آگئی تھی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کو اس وقت یہ معلوم ہوگیا تھا کہ گاڑی اس مقام پر تودے کی زد میں آئی ہے جب ان کو چند ماہ قبل وہاں سے گاڑی کا انجن ملا تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ کوششوں کے باوجود بھی اس وقت گاڑی کے باقی حصے اور مسافروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔

کوئی مدد نہیں ملی
 پولیس یا کسی ملکی یا بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم یا اقوام متحدہ کے کسی ادارے نے امدادی کام میں ہماری کی کوئی مدد نہیں کی۔
مقامی افراد

لیکن ہفتے کو وہاں سے گزرنے والے جھینگ گاؤں کے کچھ لوگوں کو دریائے نیلم کے کنارے دبی گاڑی کا ایک حصہ نظر آیا جس سے ان کی توجہ اس طرف گئی۔

حالیہ بارشوں کی وجہ سے دریا کی سطح بلند ہوئی ہے اور زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے گاڑی کا کچھ حصہ سامنے آگیا۔ گاؤں کے لوگ اس مقام پر پہنچے اور انہوں نے وہاں امدادی کام شروع کیا اور اتوار کی شام تک انہوں نے وہاں سے تیرہ لاشیں برآمد کیں۔

مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ ملبے کے اندر اور بھی لاشیں ہیں کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق زلزے کے روز اس گاڑی میں جھینگ سے انیس لوگ سوار ہوئے تھے۔ دیگر لوگوں کی تلاش کے لیئے امدادی کام جاری ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس یا کسی ملکی یا بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں یا اقوام متحدہ کے کسی ادارے نے امدادی کام میں ان کی کوئی مدد نہیں کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مظفرآباد میں پولیس سے ان لاشوں کی برآمدگی کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لیئے ٹیلیفون پر رابط کیا گیا تو انھوں اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ ان لاشوں کے برآمدگی سے چند روز قبل ریڈ کراس نے کہا تھا کہ پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے زلزے سے متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد افراد اب تک لاپتہ ہیں۔

آسیہ میرقبر بنے تو سکون ہو
’چاہتی ہوں کہ بیٹی کو اپنی مٹی نصیب ہو‘
متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
زلزلہ زدگانیہ سفید پوش لوگ
’سمجھ نہیں آتا کہ زندگی کہاں سے شروع کریں‘
گھر بنائیں تو کہاں
پنج کوٹ کے لوگوں کی پریشانیاں
زلزلہ اور سیاحت
جنگلات اور آثارقدیمہ پر حکومتی توجہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد