پنج کوٹ کے رہائشی کہاں جائیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتوبر کے زلزے نے لاکھوں گھروں کو صرف منہدم ہی نہیں کیا بلکہ ان کے مکینوں کو بے زمین بھی کردیا ہے۔ شہروں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں اور ڈھلوانوں پر گزشتہ کئی عشروں سے لوگ چھوٹے چھوٹے قطعاتِ زمین پر اپنے گھرتو تعمیر کرتے رہے ہیں مگر زمین کی ملکیت ان کے پاس نہیں ہوتی۔ مظفرآباد کی تحصیل پنچ کوٹ میں بسنے والے بہت سے خاندان اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اور اب جبکہ حکومت نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ مارچ کےاختتام تک متاثرین کی زیادہ تر خیمہ بستیوں کی بساط لپیٹ کر تعمیر نو کا بھر پور آغاز ہوگا تو یہ لوگ انتہائی بے یقینی اور پریشانی کی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ گھر تعمیر کریں تو کہاں۔ برفیلی چوٹیوں کے دامن میں ایک قدرتی چشمے کے دونوں کناروں پر آباد تحصیل پنج کوٹ کبھی ایک خوبصورت بستی ہوگی مگر اب یہ کسی تاریک ویرانے کا منظر پیش کررہی تھی۔ پنج کوٹ تک کے سفر کو اگر میں اپنی زندگی کا ہولناک ترین سفر کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔ مظفر آباد سے کوئی پنیتالیس کلومیٹر دور پنج کوٹ جانے والی سڑک زلزے میں بلکل تباہ ہوچکی ہے۔ اب اس کو سڑک کہنا مناسب نہیں ہوگا البتہ یہ ایک کچا اور بےحد مخدوش راستہ ہے اور خوفناک بھی۔
پہاڑ اپنی جگہ سے کھسک کر کئی جگہوں پر سڑک پر اتنے آگے آچکے ہیں کہ وہاں سے گاڑی گزرتے وقت کئی مرتبہ ایسا محسوس ہوا کہ کہیں یہ زندگی کا آخری سفر تو نہیں۔ کچھ مقامات پر میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے تودے لڑھک کرسڑک کے بالکل قریب آچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ذرا سا بھی جھٹکا لگا تو یہ تودے نیچے آ گریں گے اور یہاں چلنے والوں کو کچل ڈالیں گے۔ مگر مظفرآباد میں زلزلے کے بعد یونین کونسلوں تک جانے والی سڑکوں کی تعمیر کا مرحلہ ابھی آیا ہی نہیں۔ پنج کوٹ کی آبادی کوئی بیس پچیس ہزار نفوس پر مشتمل تھی مگر زلزلے کے بعد آبادی کا بیشتر حصہ آج کل مظفر آباد کے کیمپوں میں مقیم ہے۔ یہ لوگ اب لوٹنا چاہتے ہیں۔ کچھ خاندان محض اپنی ملکیت برقرار رکھنے کی خاطر شدید سردی، برفباری اور گھپ اندھیرے میں بھی اپنے اپنے مکانوں کے ملبوں پر بیٹھے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ زلزلے سے پہلے بجلی اور پانی دستیاب تھا۔ زلزلے کو آئے پانچ ماہ ہونے کوآئے مگر یہ سہولتیں بحال نہیں ہوسکیں۔ کم از کم میں نے پنج کوٹ میں کوئی ایسا کام ہوتے نہیں دیکھا۔ یوں تو تعمیر نو کے لیے ان سہولتوں کی فراہمی بھی ایک لازمی شرط ہوتی ہے۔ مگر یہ سادہ لوح تومحض اپنے سر چھپانے کے ایک چھوٹے سے قطع اراضی کے طالب ہیں۔ اگر حکومت اس معاملے میں سنجیدگی سے مداخلت نہیں کرے گی تو شاید بہت سے متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر نو ممکن بھی نہ ہو۔ | اسی بارے میں زلزلہ کے بعد تعمیر نو کی صورتحال31 December, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا14 February, 2006 | پاکستان کیا کریں آنسو نہیں تھمتے: متاثرین 22 December, 2005 | پاکستان ’قبر بن جائے مجھے بھی سکون ملے‘16 January, 2006 | پاکستان ’تعمیر نو: چار سال، 180 ارب روپے‘ 02 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||