BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 September, 2006, 23:35 GMT 04:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سروے ٹیموں کے خلاف عوامی غصہ

آسیہ، ان کی دیورانی اور ان کا بیٹا آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں بچ گئے تھے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہر مظفرآباد میں بہت سارے لوگوں نے متاثرہ علاقوں میں گھروں کا جائزہ لینے والی ٹیموں میں شامل بعض اہلکاروں کی طرف سے غیر ضروری کاغذات طلب کرنے، باپردہ خواتین کی ان کی روایات کے خلاف تصویریں لینے اور ہتک آمیز رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

زلزے سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کا سروے کرنے والی یہ ٹیمیں دو فوجی اہلکاروں، ایک پٹواری اور کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کے ایک افسر پر مشتمل ہوتی ہیں۔

یہ ٹیمیں گھروں کا جائزہ لے کر نقصانات کا تعین کرتی ہیں اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو امداد ادا کی جاتی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ دیہی علاقوں میں یہ سروے مکمل کرنے کے بعد وہاں ان نوے فیصد لوگوں کو امددادی رقم دے دی گئی ہے جنکے گھر تباہ ہوئے ہیں یا ان کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

جن لوگوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے تین اقساط میں ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے جائیں گے اور پہلے مرحلے میں پچھہتر ہزار روپے دیئے جارہے ہیں اور جن کے گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ان کو پچاس سے پچھہتر ہزار روپے ایک ہی بار دیئے جارہے ہیں۔

دیہی علاقوں کا سروے کرنے کے بعد اب گزشتہ ماہ سے متاثرہ علاقوں کے شہروں میں سروے شروع کیا گیا ہے جہاں پر بہت سارے لوگوں کو سروے ٹیموں کے اہلکاروں سے یہ شکایت ہے کہ وہ بے جا تنگ کرتے ہیں اور غیر ضروری کاغذات طلب کرتے ہیں۔

شہر مظفرآباد کے سب سے زیادہ تباہ ہونے والے علاقے خواجہ محلہ کی آسیہ رفیق میر کہنا ہے کہ ’انھوں نے سروے ٹیم کو زمین کی ملکیت کے کاغذات فراہم کئے لیکن اس ٹیم میں شامل فوجی اہلکار حوالدار شیر افضل نے اصرار کیا کہ پرانے بجلی اور پانی کے بل بھی فراہم کئے جائیں بصورت دیگر یہ ملکیتی کاغذات تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔‘

ان کاکہنا ہے کہ ’ہمارے گھر کے بجلی کے بل ہمارے بزرگوں کے نام پر چلا آرہا ہے البتہ میرے شوہر کے نام پر ٹیلیفون بل ہے جو ان کو فراہم کیا گیا لیکن فوجی اہلکار کا یہ اصرار رہا کہ بجلی بل ہی فراہم کیا جائے۔‘

آسیہ جو پیشے سے استاد ہیں ان کے گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے زلزے میں خاندان کے آٹھ لوگ جن میں ان کے شوہر انکی واحد اولاد تین سالہ بیٹی، تین دیور ان کی ساس اور ایک نند ہلاک ہوگئے تھے اور ان کا تین منزلہ گھر زمین بوس ہوا تھا۔
اس خاندان میں آسیہ، ان کی دیورانی اور ان کا بیٹا بچ گئے۔ لیکن فوجی اہلکار کا کہنا تھا کہ آسیہ اور نہ ہی ان کی دیورانی یا ان کا بیٹا زمین کے مالک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہم نے سب کچھ کھو دیا ہے اور اب ہمارے پاس ہماری عزت کی باقی بچی ہے اور اگر توہین کرکے مدد دینی ہے تو ہمیں ایسی مدد کی قطعاً ضرورت نہیں۔‘

شہر مظفرآباد میں بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض بھی ہے کہ باپردہ خواتین کی ان کی مرضی اور روایت کے خلاف تصویریں لی جاتی ہیں ۔

خواجہ محلہ کی فریدہ بٹ کہتی ہیں کہ’ان کو مجبوراً اپنی تصویر بنوانا پڑی کیوں کہ سروے ٹیم میں شامل فوجی اہلکار نے ہم سے کہا کہ جن کے شوہر گھر پر موجود نہیں ہیں ان کے بیویاں اپنی تصویر دیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کا اٹھارہ سال کا بیٹا گھر پر موجود تھا لیکن اس کی تصویر نہیں لی گئی۔ فریدہ بٹ کے شوہر مزدوری کے خاطر سعودی عرب میں ہیں۔
بہت سارے لوگوں کو خواتین کی تصاویر پر اعتراض تو ہے ہی اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خواتین کے گلے میں ایک پلیٹ لٹکا دی جاتی ہے جس پر رجسڑیشن فارم کا نمبر درج ہوتا ہے۔

لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ٹیموں کے اہلکار خواتین کی نقاب میں تصویر قبول نہیں کرتے ہیں۔

کچھ لوگوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ ان ٹیمیوں کے بعض اہلکار گھر کے مردوں کے علاوہ خواتین اہل خانہ سے ملنے پر بھی اصرار کرتے ہیں۔

نصرت وسیم کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے ملکیتی کاغذات فراہم کرنے کے باوجود سروے ٹیم کے اہلکار نے کہا کہ اگر تم شادی شدہ ہو تو اپنی اہلیہ اور بچوں سے ملواؤ۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے مجوراً ان کے سامنے آنا پڑا اور پھر ان کے اصرار پر نکاح نامہ بھی دکھایا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ’یہ بہت ہی ہتک آمیز بات ہے کہ زمین کی ملکیتی کاغذات فراہم کرنے کے باوجود یہ کہا جاتا ہے بیوی بھی دکھاؤ، بچے بھی دکھاؤ اور نکاح نامہ بھی فراہم کرو ۔ ان کا کہنا ہے کہ’ اگر مدد کرنی ہے تو تذلیل کئے بغیر کریں۔‘

مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر ظہورالحسن گیلانی کا کہنا ہے کہ ’ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کے شخص کی اہلیہ سے ملنے پر اصرار کرے اور نہ ہی یہ حق ہے کہ وہ لوگوں سے ٹیلیفون یا بجلی بل طلب کرے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’ کچھ لوگ اپنے آپ کو منوانے کے لئے ایسا کرتے ہیں اور ہمیں بھی کچھ اس طرح کی شکایات ملی ہیں اور ہم ان کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

کشمیر کے اس علاقے میں اب یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ تعمیر نو کا کام کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کے حوالے کیا جائے۔

حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سنئیر نائب صدر راجہ فاروق حیدر نے کا کہنا ہے کہ’ تعمیر نو کا کام اس وقت بہت سارے ادارروں کے ہاتھ میں ہے جن میں ان کے کہنے کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کا دفتر، جی ایچ کیو، فوج کی ایک کور نائنٹین ڈیو، پاکستان اور کشمیر کے اس علاقے کے ادارے برائے بحالی اور تعمیر نو، کشمیر کے اس علاقے کی حکومت شامل ہے۔‘

’ایسی صورت حال میں کئی ادارے بے ہنگم طور ایک ہی کام میں الجھے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں اور اس کی وجہ سے کوئی بھی کام ٹھیک طرح سے نہیں ہورہا ہے ۔ فاروق حیدر پچھلی مسلم کانفرنس کی حکومت میں مشیر بھی رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’یہ کام کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کو سونپا جائے بصورت دیگر تعمیر نو کا کام بیس سال میں مکمل نہیں ہوگا اور یہ بھی اس کے سیاسی نتائج بھی برے ہوں گے۔‘

اسی بارے میں
زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد