BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 August, 2006, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی تنظیموں کے لیئے ضابط اخلاق

(فائل فوٹو)
زلزلے سے متاثرہ خاتون (فائل فوٹو)
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع مانسہرہ میں حکام متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی غیر ملکی غیر سرکاری امدادی تنظیموں کے لیئے ضابطہ اخلاق تیار کر رہے ہیں۔

اس علاقے میں بعض علماء کی طرف سے بین الااقوامی غیر سرکاری تنظیموں پر بےحیائی پھیلانے کے الزام اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی کے بعد یہ ضابطہ اخلاق مرتب کیا جا رہا ہے ۔

مانسہرہ کے ضلعی ناظم سردار یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ان امدادی تنظیموں کے لیئے ضابطہِ لباس، مقامی روایات اور تہذیب کے بارے میں رہنما اصول طے کرے گی اور ان پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

ناظم کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی عوامی اور غیر سرکاری تنظیموں کےنمائندوں، علماء، فوجی اور سول حکام پر مشتمل ہے۔

مانسہرہ میں ایک مذہبی تنظیم تحریک اصلاح معاشرہ نے بین الااقوامی غیر سرکاری امدادی تنظیموں کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے اور اس تنظیم کے سربراہ معظم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں میں کام کرنے والی پاکستانی اور غیرملکی خواتین قابل اعتراض لباس پہنتی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ وہ رقص و سرور کی محفلوں میں شریک ہوتی ہیں جو اسلام اور ان کی روایات کے خلاف ہے۔

اس تنظیم نے حکام سے کہا تھا کہ اکتیس جولائی تک پاکستانی خواتین کو ان تنیظیموں سے علیحٰدہ کیا جائے اور غیر ملکی خواتین اپنے لباس اور رہن سہن میں مقامی روایات کا خیال رکھیں بصورت دیگر وہ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

کئی دیگر علماء اور مذہبی تنظیمیں اس تنظیم کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ اس دھمکی کے بعد حکام نے ان تنظیموں کے لیئے ضابط اخلاق ترتیب دینے کا اعلان کیا ہے۔

ضلعی ناظم سردار یوسف کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی تمام تنظیموں چاہے وہ مقامی ہیں یا غیر ملکی، سرکاری ہیں یا غیرسرکاری ان سب کو ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض تنظیموں کو یہ معلوم ہے کہ ان کا رویہ کیا ہونا چاہیے لیکن وہ عورتوں کے لباس کے بارے میں ایسی صورت حال نہیں دیکھنا چاہتے ہیں جس سے مسائل پیدا ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کو ایسا لباس پہنا چاہیے جس سے ان کا جسم اور سر ڈھکا رہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کچھ امدادی تنظیموں نے متاثرہ علاقوں میں اچھا کام کیا ہے لیکن ان کو مقامی احساسات اور جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔

یہی مسئلہ کشمیر میں بھی
 غیرملکی غیرسرکاری تنظیموں کے بارے میں یہ اعتراضات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی کیئے جا رہے ہیں جہاں مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی امدادی تنظیمیں مقامی اخلاقی اقدار کے منافی کام کر رہی ہیں اور معاشرے میں بےحیائی پھیلا رہی ہیں۔

غیرملکی غیرسرکاری تنظیموں کے بارے میں یہ اعتراضات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی کیئے جا رہے ہیں جہاں مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی امدادی تنظیمیں مقامی اخلاقی اقدار کے منافی کام کر رہی ہیں اور معاشرے میں بےحیائی پھیلا رہی ہیں۔

ان تنظیموں کے رویے کو کتنا سنجیدہ لیا جا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سابق مسلم کانفرنس کی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الااقوامی امدادی تنظیموں پر اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔

اگرچہ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے احساسات کا خیال رکھتے ہیں لیکن لوگ ان کی بات سے اتفاق نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان تنظیموں کے خلاف مقامی لوگوں کے اعتراضات اور غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد