BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تودے گرنے سے بارہ زلزلہ متاثرین ہلاک

ہلاک ہونے والوں میں نو بچے، دو خواتین اور ایک مرد شامل ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے متاثرین کی ایک خیمہ بستی پر تودے گرنے سے بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بچے ہیں۔ مسلسل بارشوں کی وجہ سے کئی متاثرہ علاقوں میں تودے گرے ہیں ۔

یہ واقعہ گزشتہ رات شہر مظفرآباد کے نواح میں واقع چہلا بانڈی میں پیش آیا جہاں یہ خیمہ بستی قائم ہے۔ تقرباً نوخیموں پر مشتمل یہ خیمہ بستی اس وقت تودوں کی زد میں آئی جب لوگ سوئے ہوئے تھے۔ تودے گرنے سے خیمہ بستی تباہ ہوگئی اور بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔

خیمہ بستی کے بچ جانے والے مکینوں نے مقامی لوگوں کی مدد سے تمام مرنے والوں کی لاشیں نکال لی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے ، دو خواتین اور ایک مرد شامل ہیں اور ان کا تعلق تین مخلتف خاندانوں سے تھا۔ مرنے والوں میں سات کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جن میں ایک خاتون اور ان کے چھ بچے اور بچیاں ہیں۔ البتہ اس واقعہ میں اس خاتون کی بہو بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہوگئی۔

خیمہ بستی کے متاثرہ ایک شخص محمد صدیق کا کہنا ہے کہ ’ ہم اپنے خیمے میں سوئے ہوئے تھے کہ ماموں زاد بھائی کی بیوی کے شور سے جاگے اور اس نے ہمیں بتایا کہ اس کے گھر کے تمام افراد ملبے کی زد میں آگئے ہیں۔‘ اس واقعہ میں محمد صدیق کے چھ ماموں زاد بھائی اور ممانی ہلاک ہوگئے۔

محمد صدیق کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ان کو ملبے سے نکالنے کی کوشش کی لیکن اندھیرا بھی تھا اور اس کے ساتھ ملبہ ہماری طرف سرک رہا تھا اس لیئے ہم اپنی جان بچانے کے لیئے وہاں سے ہٹ گئے ۔ ہم نے مقامی لوگوں کو مدد کے لیئے پکارا اور اس دوران پولیس کو بھی اطلاع دی گئی لیکن پولیس اہلکاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی ہم نے مقامی لوگوں کی مدد سے ملبے سے لاشیں نکال لیں۔‘

اس خیمہ بستی میں وہ لوگ رہ رہے تھے جن کی زمینیں آٹھ اکتوبر کے زلزے میں تباہ ہوگئی تھیں۔ بستی کے میکنوں کوحکومت، ملکی اور بین الا اقوامی غیر سرکاری تنظیموں اور متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں پر غصہ ہے اور وہ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری ان سب پر عائد کرتے ہیں۔

محمد صدیق نے کہا ’ ہم نے حکام اور متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی این جی اوز اور اداروں کو کئی مرتبہ کہا کہ وہ ہمیں یہاں سے منتقل کریں کیونکہ یہ علاقہ خطرناک ہے لیکن ہماری بات کسی نے نہ سنی۔‘

ان کا کہنا ہے ’جب ہمیں مدد کی ضرورت تھی اس وقت کوئی نہیں آیا۔ اب سب آئیں تو ہمیں اس کا کیا فائدہ جب ہماری بارہ قیمتی جانیں چلی گئیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد