BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ زدہ علاقے پھر لرز گئے

گزشتہ اکتوبر میں آنے والے زلزلےنے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی
پاکستان میں منگل کے روز زلزلے کے دو بڑے جھٹکے محسوس کیے گئے لیکن تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

محکمہ موسمیات کے سربراہ قمر الزمان چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا جھٹکا مقامی وقت کے مطابق دو بج کر بارہ منٹ پر آیا جس کی شدت زلزلہ پیما پر پانچ اعشاریہ دو ریکارڈ کی گئی۔

ان کے مطابق یہ جھٹکا مظفرآباد، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹہ گرام، اسلام آباد اور پشاور میں بھی محسوس کیا گیا اور اس کا محور پشاور سے دو سو کلومیٹر شمال میں تھا۔

جبکہ دوسرا جھٹکا چار منٹ بعد یعنی دو بج کر سولہ منٹ پر محسوس کیا گیا اور اس کی شدت چار اعشاریہ دو ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ جھٹکے گزشتہ سال سات اکتوبر کو پاکستان میں آنے والے شدید زلزلے کے ’ آفٹر شاکس‘ ہیں اور تاحال اٹھارہ سو بیالیس ’آفٹر شاکس‘ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال خطے کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ آیا تھا جس کی شدت سات اعشاریہ دو ریکارڈ کی گئی تھی۔

اُس زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے سات اضلاع میں پانچ لاکھ سے زیادہ مکانات اور سینکڑوں سکولوں اور ہسپتالوں ہزاروں عمارتیں منہدم ہوگئیں تھیں۔

آٹھ اکتوبر کے اُس زلزلے میں تہتر ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوگئے تھے جبکہ تیس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔

اس شدید ترین زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں حکومت نے سات اپریل سے تعمیر نو کا مرحلہ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد