مظفرآباد، 63 فیصد علاقہ خطرناک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکریڑی کاشف مرتضیٰ نے بدھ کو بعض متاثرہ علاقوں کے بارے میں ترکی کے ماہرین کی تیار کردہ زلزلہ پیمائی یا ’سسمک سٹڈی‘ رپورٹ کی تفصیلات بتائیں۔ تاہم یہ رپورٹ ایک محدود علاقے کے بارے میں ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے متاثرہ علاقوں کے بارے میں ایسی زلزلہ پیمائی جلد ہی شروع کی جائے گی۔ کاشف مرتضیٰ نے مظفرآباد میں نیوز کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں شہر مظفرآباد اور اس کے ارد گرد سترہ کلومیڑ کے علاقے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں کچھ علاقوں کو کم خطرے والے، کچھ کو درمیانے اور بعض علاقوں کو زیادہ اور بہت زیادہ خطرناک قرار دیا۔ اس رپورٹ میں سات فیصد علاقے کو کم خطرناک جبکہ تیس فیصد علاقے کو درمیانے درجے اور تریسٹھ فیصد علاقے کو بہت زیادہ خطرناک پایا گیا۔
چیف سیکریڑی نے کہا کہ ان علاقوں میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ تعمیر کی جاسکتی ہے لیکن بعض علاقوں میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ترکی کے ماہرین کی رپورٹ پاکستان کی کنسلٹنگ فرم نیشنل انجئنرنگ سروسز پاکستان نیسپاک کے تجزیئے کے بعد منظر عام پر لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ’زیادہ خطرناک علاقوں میں ریاست کے اہم اداروں کی تعمیرات سےگریز کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کی جیو ٹیکنیکل سٹڈی بھی کرانا مقصود ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’حکومت لوگوں کو بتائے گی کہ وہ کس طرح کی تعمیرات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے متاثرہ علاقوں میں زلزے کے جھٹکے برداشت کرنے والی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگرچہ اس رپورٹ میں بہت زیادہ خطرناک قرار دیے جانے والے علاقوں میں بھی تعمیر کی جاسکتی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ’ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو میرا یہی مشورہ ہے کہ وہ فی الحال ان علاقوں میں تعمیرات سے اجتناب کریں‘۔ اس رپورٹ میں دریائے نیلم اور جہلم کے دائیں اور بائیں جانب کے کچھ علاقوں کو بہت زیادہ خطرے والے علاقے قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ڈب گلی، پچگران، دنی مائی صاحبہ، سمان بانڈی بیلا نوشاہ، رنجاٹا اپر چھتر، امبور شوکت لائنز اور دریائے جہلم اور نیلم کے دونوں کناروں پر پچاس سے لے کردو سو میڑ کے فاصلے تک کے علاقے شامل ہیں۔
ان میں کچھ علاقے آٹھ اکتوبر کے زلزے میں نسبتاً محفوظ رہے جہاں بہت سےگھر کھڑے رہے اور لوگ ان گھروں میں رہتے ہیں۔ چیف سیکریڑی کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ خطرناک علاقوں کے نیچے ایک اور فالٹ لائن گزر رہی ہے جو آٹھ اکتوبر کے زلزے میں متحرک نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے ان علاقوں کو بہت زیادہ خطرے والے علاقے قرار دیا گیا۔ کشمیر کے اس علاقے کے چیف سیکریڑی کاشف مرتضیٰ نےمزید کہا کہ’شہر مظفرآباد ماسڑ پلان کے تحت ہی تعمیر ہوگا اور یہ کہ ماسڑ پلان جولائی تک تیار ہونے کی امید ہے لیکن لوگ حکومت سے مشورہ کرکے فی الحال عارضی رہائش تعمیر کرسکتے ہیں‘۔ ایک طرف تو حکومت کا کہنا ہے کہ دو اضلاع کی سسمک سٹڈی اب شروع کی جائے لیکن دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پہاڑی اور دیہی علاقوں میں اپریل سے تعمیر نو کا آغاز کرے گی۔
جب چیف سیکریڑی سے یہ پوچھا گیا کہ ایسی صورت میں جب پہاڑی اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ کون سے علاقے محفوظ ہیں اور کون سے غیر محفوظ ہیں تو وہ کس طرح اپنے گھر تعمیر کر سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ’ لوگوں کو زلزے کے جھٹکے برداشت کرنے والے گھر بنانے کے لیے ڈیزائنز اور رہنمائی فراہم کی جارہی ہے اور اگر ان کے مطابق گھر تعمیر کیے جائیں گے تو یہ ریکڑ سکیل پر آٹھ اعشاریہ پانچ کی شدت والے زلزے کو بھی برداشت کر سکیں گے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں سے پٹھنے والی فالٹ لائن گزر رہی تھی وہاں تعمیر نسبتاً محفوظ ہوگی۔ ’یہ ڈیزائنز بہت زیادہ خطرے والے علاقوں کے لیے مناسب ہیں اور اس لیے اس کے بارے میں کوئی تشویش کی بات نہیں ہے لیکن ڈھلوانوں اور ان علاقوں میں تعمیر سے گریز کیا جانا چاہیے جہاں زمین مسلسل کھسک رہی ہے‘۔ |
اسی بارے میں وادی نیلم میں، امدادی کارکن کی ڈائری14 March, 2006 | پاکستان ’امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے‘10 March, 2006 | پاکستان نقشہ کو کوئی ملنے نہیں آتا09 March, 2006 | پاکستان زلزلہ زدگان کے مظاہرے پر کارروائی06 March, 2006 | پاکستان پنج کوٹ کے رہائشی کہاں جائیں24 February, 2006 | پاکستان موگادیشو سے مظفر آباد تک24 February, 2006 | پاکستان پونچھ میں جماعت اسلامی کی ہڑتال22 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||