BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پونچھ میں جماعت اسلامی کی ہڑتال

جماعت اسلامی
ہڑتال پونچھ میں’گھروں کے معاوضوں کی غیرمنصفانہ تقسیم‘ کیخلاف کی گئی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ ضلع پونچھ کی جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی ہڑتال کامیاب رہی ہے جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال ناکام رہی۔

جماعت اسلامی نے ہڑتال کی کال پونچھ کے علاقے میں ان کے کہنے کے مطابق ’گھروں کے معاوضوں کی غیر منصفانہ تقسیم‘ کے خلاف دی تھی۔

جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ اس دوران پولیس نے بعض مقامات پر آنسوں گیس کا استعمال کیا اور ہوا میں فائرنگ بھی کی لیکن مقامی انتظامہ نے ہوا میں فائرنگ کرنے کے الزام کی تردید کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر راولاکوٹ میں آج سڑکوں پر ٹریفک بہت کم رہی اور بیشتر پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی۔

راولاکوٹ میں ایک گھریلو خاتون سائرہ سجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں دوپہر تک تقریباً تمام دوکانیں بند رہیں اور سڑکوں پر بہت کم سرکاری اور پرائیوٹ گاڑیاں دکھائی دیں۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ لوگوں نے شہر میں سڑکوں پر جگہ جگہ روکاٹیں کھڑی کی تھیں اور پولیس اہلکار ان رکاوٹوں کو ہٹاتے رہے۔

تاہم اس دوران شہر میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ جماعت اسلامی ضلع پونچھ کے سیاسی شعبہ کے سیکریڑی جنرل سردار قیوم افسر نے بی بی سی سے گفگتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ راولاکوٹ شہر کے علاوہ اس ضلع کے دوسرے قصبوں میں بھی مکمل طور پر پہیہ جام ہڑتال رہی اور بازار کلی طور پر بند رہے ۔

انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ شہر سے باہر چند ایک مقامات پر پولیس نے سڑکوں پر رکاوٹیں ہٹانے کے دوران لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوا میں فائرنگ بھی کی لیکن پونچھ کے ڈپٹی کمشنر سردار فاروق تبسم نے اس کی تردید کی کہ پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے کی جماعت اسلامی کی طرف سے دی جانے والی ہڑتال کی کال مکمل طور پر ناکام رہی اور یہ کہ علاقے میں بازار کھلے رہے اور سڑکوں پر ٹریفک چلتی رہی۔ تاہم ان کا کہنا تھا ٹریفک معمول سے کچھ کم تھی۔

ضلع پونچھ کی جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ہڑتال معاوضوں کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف، فی چھت کے بجائے فی کنبہ کی بنیاد پر امدادی رقوم ادا کرنے اور اس سال جون تک بجلی اور ٹیلیفون کے بل معاف کیے جانے کے حق میں کی گئی تھی۔

کشمیر کے اس علاقے کی حکومت نے گزشتہ سال دسمبر تک بجلی کے بل معاف کیے تھے۔ البتہ ٹیلیفون کے بلوں کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

جماعت اسلامی پونچھ کے سکریڑی جنرل سردار قیوم افسر نے الزام عائد کیا کہ پونچھ میں لوگوں کو سیاسی وابستگی اور اثر رسوخ کی بنیاد پر معاوضہ تقسیم کیا گیا ہے اور یہ کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے گھروں کو زلزلے سے نقصان پہنچا لیکن وہ اب تک معاوضے سے محروم ہیں۔

ڈپٹی کمشنر سردار فاروق تبسم نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ معاوضوں کی تقسیم منصفانہ طور پر کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک اکیاون ہزار گھروں کا معاوضہ ادا کیا جاچکا ہے اور یہ کہ صرف ایک فیصد ایسے لوگ ہوں گے جنکو گھروں کا معاوضہ ابھی ادا کرنا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو بھی جلدی ہی معاوضہ ادا کردیا جائے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں بہت سارے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کو معاوضہ ادا نہیں کیا گیا لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو بغیر کسی تفریق کے معاوضہ ادا کیا جارہا ہے جن کے گھروں کو زلزے میں نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں
ڈرامۂ بحالی وتعمیرِ نو
27 January, 2006 | پاکستان
’امدادی‘ ہیلی کاپٹر لاپتہ
22 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد