نقشہ کو کوئی ملنے نہیں آتا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں آنے والے قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں جہاں ہزاروں لوگ ہلاک ہو گئے تھے وہیں مظفر آباد کے قریب واقع کمسر مہاجر کیمپ میں رہنے والی نقشہ بی بی کو دو ماہ سے زائد عرصے تک ملبے کے نیچے دبے رہنے کے بعد گزشتہ سال دس دسمبر کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ چالیس سالہ نقشہ بی بی کا دو ماہ بعد ملبے کے نیچے سے زندہ بچ نکلنا ناصرف عام لوگوں کے لیے تعجب کا باعث تھا بلکہ ڈاکٹر بھی اس کو ایک معجزہ قرار دے رہے تھے۔ نقشہ بی بی گزشتہ تین ماہ سے اسلام آباد میں پاکستان انسٹیویٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیر علاج ہیں۔ جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اب وہ نہ صرف چل پھر سکتی ہیں، بلکہ کبھی کبھار بولنے کے علاوہ ہنستی بھی ہیں۔ ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کا یہ بھی کہنا ہے کہ نقشہ بی بی ٹی وی بھی بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے زلزلے سے متاثرہ تمام لوگوں کو بہترین علاج کی سہولیات پہنچائی ہیں لیکن نقشہ بی بی کے لیئے ذرا زیادہ سہولیات ہیں۔ نقشہ بی بی کوگزشتہ تین ماہ سے ناصرف ایک علیحدہ پرائیویٹ کمرہ دیا گیا ہے بلکہ وہاں ٹی وی اور ائیر کنڈیشنر جیسی سہولیات بھی ہیں اور اُسے ایک خاص اور اہم مریضہ کی طرح علاج کی سہولیات دی جا رہی ہے۔ ہسپتال کے میڈیا کوآرڈنیٹر ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کا ایک بورڈ روزانہ نقشہ بی بی کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد وزارت صحت، فیڈرل ریلیف کمشنر اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کو ایک رپورٹ بھیجتا ہے۔
نقشہ بی بی جب پاکستان انسٹیویٹ آف میڈیکل سائنسز میں آئی تھیں تو اُس وقت اُن کا وزن صرف چھبیس کلو تھا جو اب بڑھ کر اُنتالیس کلو ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا تھا کہ جب نقشہ بی بی کو اسلام آباد لایا گیا تو اُس وقت ان کے تمام ممکنہ طبی ٹیسٹ کئے گئے تھے اور اُن تمام ٹیسٹوں سے کسی طرح کی بیماری کی علامات نہیں ملی تھیں۔ البتہ دماغ کے ٹیسٹوں کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اُن کے دماغ میں کچھ تبدیلی ہے اور بعد میں نقشہ بی بی کے والد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زلزلے کے آنے سے پہلے بھی وہ خاموش اور تنہا رہتی اور اُن کے دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت عام خواتین سے قدرے کم تھی۔ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے نقشہ بی بی کے والد اور بھائی بھی زلزلے کے بعد زندہ بچ جانے والے خوش نصیبوں میں سے تھے۔ لیکن ان کے والد کی ایک ٹانگ ناکارہ ہونے کے باعث کاٹ دی گئی ہے اور وہ ان دنوں راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ہسپتال کے عملے کا یہ بھی کہنا تھا کہ نقشہ بی بی تنہائی کا شکار ہے اس کی شادی نہیں ہوئی ہے اور کوئی خاتون رشتہ دار بھی ابھی تک اس سے ملنے نہیں آئی ہے۔ ڈاکٹر وسیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھرپور اور معیاری طبی علاج کے باوجود نقشہ بی بی کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اس سے بات چیت کریں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ نقشہ بی بی کو کب تک ہسپتال میں رکھا جائے گا ڈاکٹر وسیم کا کہنا تھا کہ جب نقشہ کے والد روالپنڈی کے ہسپتال سے فارغ ہونگے تو انہیں بھی اپنے والد کے ساتھ ان کے آبائی گاؤں واپس بھیج دیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں نکشہ بی بی نفسیاتی دباؤ میں14 December, 2005 | پاکستان ’دو ماہ بعد ملبے سے زندہ برآمد‘12 December, 2005 | پاکستان ستائیس سو حاملہ عورتوں کو خطرہ08 March, 2006 | پاکستان زلزلہ زدگان کے مظاہرے پر کارروائی06 March, 2006 | پاکستان موگادیشو سے مظفر آباد تک24 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||