BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 March, 2006, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ستائیس سو حاملہ عورتوں کو خطرہ

ماں بچے
پاکستان میں زچگی کے دوران اموات ویسے ہی بہت ہوتی ہیں متاثرہ علاقوں میں مزیداحتیاط کرنا ہوگی
اقوام متحدہ کے ادارے ’یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ‘ یعنی یو این ایف پی اے کی نمائندہ ڈاکٹر فرانس ڈونے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح زیادہ ہےاور ایسی صورتحال میں زلزلہ زدہ علاقوں میں موجود ستائیسں سو حاملہ خواتین کے لیے مناسب طبی انتظامات کرنا ضروری ہیں۔

منگل کے روز نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پچیس ہزار خواتین بچوں کو جنم دیتے وقت مرجاتی ہیں۔ ان کے مطابق اس اعتبار سے روزانہ ستر اور فی گھنٹے تین خواتین زچگی کے وقت مرجاتی ہیں۔ جبکہ روزانہ پیدا ہونے والے چار سو بچوں میں سے ایک سو پیدا ہوتے ہی مرجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں زلزلہ زدہ علاقوں میں حاملہ خواتین کی محفوظ زچگی کے لیے انتظامات ایک بڑا کام ہے۔ ان کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موجود ستائیس سو میں سے ایک ہزار خواتین ایسی ہیں جوکہ آئندہ تین ماہ میں بچوں کو جنم دیں گی۔

ان کے مطابق دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں خواتین ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کی قلت ہے اور ایسے میں تعمیر نو اور بحالی کے مرحلے کے دوران ان کا ادارہ خواتین کو بہتر طبی سہولیات مہیا کرنے کے انتظامات کر رہاہے۔

ڈاکٹر ڈونے نے کہا کہ آٹھ مارچ کو زلزلے کو پانچ ماہ ہوچکے اور یہ اتفاق ہے کہ اس روز خواتین کا عالمی دن بھی منایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں نہ صرف زلزلہ زدہ علاقوں بلکہ پورے ملک میں زچگی کے وقت اموات کی اس بڑی شرح کو کم کرنے کے لیئے اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس نیوز کانفرنس کا بنیادی مقصد تو یہ بتانا تھا کہ اپریل کی ابتدا میں پاکستان میں تعمیر نو اور بحالی کے تیسرے مرحلے کے دوران اقوام متحدہ نے ایک سالہ ’ایکشن پلان‘ تیار کرلیا ہے جوکہ سینیئر بش جلد ہی نیویارک میں جاری کرنے والے ہیں۔

نیوز بریفنگ میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے متعلق نائب رابطہ کار جیمی میک گولڈرک نے بتایا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے فوجی اور سویلین حکام کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں امدادی کیمپ بند کرنے اور متاثرین کو اپنے علاقوں میں واپس بسانے کے لیے اقدامات تجویز کیئے گئے ہیں۔

ان کے مطابق یہ تعمیر نو اور بحالی کا ایک سالہ منصوبہ پاکستان میں بھی آئندہ تین سے چار ہفتوں میں سینیئر بش کی پاکستان آمد کے موقع پر جاری ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کو پانچ ماہ پورے ہوچکے ہیں اور اس ماہ کے آخر میں امدادی کاموں کے جاری دوسرے مرحلے سے تعمیر نو اور بحالی کے تیسرے مرحلے کا کام شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت، عالمی اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی نے زلزلے کی آفت کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے بروقت امدادی کام کیے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اموات کی دوسری لہر نہیں آئی اور نہ ہی کوئی وبائی بیماری پھیلی۔

اقوام متحدہ کے نائب رابطہ کار نے کہا کہ سخت سردی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پہاڑوں سے لوگوں کے نیچے آنے کا خدشہ تھا لیکن اب موسم سرما کی شدت کم ہوتی جارہی ہے اور وہ خدشہ بھی ختم ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لوگ رضاکارانہ طور پر واپس اپنے علاقوں میں جارہے ہیں لیکن واپسی کا اصل کام رواں ماہ کے اختتام پر اس وقت شروع ہوگا جب کیمپ ختم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس وقت خواتین، یتیموں، بچوں، اور بیواہوں کی امداد اور ان کی بحالی کا چیلینج شروع ہوگا۔ جس بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ تیار کردہ ’ایکشن پلان‘ میں انتظامات تجویز کیے گئے ہیں۔

نیوز کانفرنس میں عالمی امدادی ادارے ’آکسفیم‘ کی نمائندہ فرحانہ فاروقی اور پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی نمائندہ بیگم شہناز وزیر علی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے تعمیر نو اور بحالی کے نئے مرحلے میں خواتین اور بچوں کی امداد اور ان سے متعلقہ حساسیت والے معاملات کی نشاندہی کی اور کہا کہ ان کے لیے مخصوص انتظامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے نشاندہی کہ کئی خواتین جن کے شوہر ہلاک ہوچکے ہیں ان کے شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ انہیں حکومت کیسے امدادی رقوم فراہم کرے گی؟ انہوں نے بیوہ خواتین کے حق ملکیت، مکان اور زمین وغیرہ ان کے نام منتقل کرنے میں دشواریوں کی بھی نشاندہی کی۔

اسی بارے میں
زلزلہ: سردی سے 18 بچے ہلاک
05 January, 2006 | پاکستان
خیمہ بستیوں میں بے پردگی
19 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد