BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 March, 2006, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وادی نیلم میں، امدادی کارکن کی ڈائری
گل حسن
ہم گل محمد کے بغیر اپنا مشن مکمل نہیں کرسکتے تھے: ایزا بیلا
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نامی امدادی ادارے سے منسلک ایزابیلا گائیسن نے یہ موسم سرما پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں بسنے والے زلزلہ متاثرین کے ساتھ گزارا ہے۔ انہوں نے متاثرین اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وادی نیلم میں گزارے ہوئے ان آخری لمحات کو قلمبند کیا ہے جب وہ امدادی کام ختم کرکے اپنے وطن واپس رخصت ہوئیں۔ یہاں ہم آپ کو ان کا تجربہ انہیں کی زبانی سناتے ہیں:

’آج ہم نے پہاڑی علاقے کو ہمیشہ کے لیئے خیر باد کہہ دیا۔ یہ یہاں ہمارے مشن کا اختتام ہے۔

یہاں گزارے ہوئے چار ماہ کسی کو جاننے اور دوست بنانے کے لیئے کافی تھے اور اس جگہ کو چھوڑنا تکلیف دہ بھی تھا اور جذبات سے پُر بھی۔

 گل محمد دور دراز گاؤں سے ہمیں وہ ٹوپی لوٹانے آیا تھا جس پر ہمارے ادارے کا نام لکھا تھا۔ ہم نے اسے کہا کہ اس ٹوپی کو تحفتاً اپنے پاس رکھ لے تو اس لمحے اس لمبے چوڑے مضبوط شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
ایزا بیلا

رخصت کے وقت پچاس سالہ گل محمد شدید موسمی حالات کے باوجود مجھ سے اور میرے شوہر ڈینیئل سے ملنے آیا۔ اس نے شروع سے ہی ہمارے ساتھ امدادی کاموں میں حصہ لیا تھا۔ وہ دتورا گاؤں کا رہنے والا ہے۔

ہم ہمیشہ اس کے بڑے خاندان کے بارے میں اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے۔ ہم کہتے تھے کہ تمہارا خاندان تو ایک پوراگاؤں ہے۔ ہم صرف ایک ہی ایسے شخص کو جانتے ہی جس کی دو بیویاں اور چودہ بچے ہیں۔

گل حسن پڑھا لکھا تو نہیں پھر بھی اپنی تنخواہ لیتے وقت وہ کراس ڈالنے کے بجائے اپنا نام لکھنا پسند کرتا تھا۔

ایزا بیلا
’یہاں گزارے ہوئے دو ماہ، کوگوں کو جاننے اور دوست بنانے کے لیئے کافی تھے‘

اگرچہ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی مرحلہ تو ختم ہوگیا مگر اب بھی لوگوں کو اپنے گھر تعمیر کرنے تک امداد کی اشد ضرورت ہے۔

گل محمد دور دراز گاؤں سے ہمیں وہ ٹوپی لوٹانے آیا تھا جس پر ہمارے ادارے کا نام لکھا تھا۔ ہم نے اسے کہا کہ اس ٹوپی کو تحفتاً اپنے پاس رکھ لے تو اس لمحے اس لمبے چوڑے مضبوط شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

ہم گل محمد کے بغیر اپنا مشن مکمل نہیں کرسکتے تھے۔ اور بھی کئی کارکن مثلاً نصیر اور حنیف نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔

چار ماہ گزارنے کے بعد ان لوگوں سے جدا ہونا کافی مشکل تھا۔ نصیر وہ واحد شخص تھا جو یونیورسٹی تک پڑھا ہوا تھا جبکہ حنیف بھی تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا جانتا تھا۔

ان سب کو شروع میں تربیت دینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مگر ایک مرتبہ سمجھ لینے کے بعد ہمارا کام آسان ہوگیا۔

ہم نے اپنے مشن کے دوران 25 گاؤوں کے 12000 افراد تک امداد پہنچائی۔ اس دشوار گزار علاقے تک امدادی اشیاء پہنچانا کافی مشکل ثابت ہوا۔ اگرچہ موسم سرما ختم ہوچکا ہے تاہم ہم نے ٹین کی جو چھتیں اور کمبل یہاں پہنچائے ہیں وہ کافی عرصے تک ان کے کام آسکیں گے۔

ہم دتورا گاؤں میں لڑکیوں کا سکول کھولنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ یہ گاؤں وادی نیلم میں 6000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں غیر سرکاری تنظیمیں لڑکوں کے سکول کھولنے کے لیئے پہلے ہی کوشاں ہیں تاہم لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی پراجیکٹ موجود نہیں ہے۔

ڈینیئل اور گل حسن
ان لوگوں سے جدا ہونا تکلیف دہ بھی تھا اور جذبات سے پُر بھی

دتورا میں ایک خاتون استانی موجود ہے جوکہ سکول کے قیام کے لیئے خوش آئند ہے۔ وہ گاؤں کی 70 لڑکیوں کو پڑھاتی ہے۔ یہ بچے تباہ شدہ عمارت میں بیٹھ کر پڑھتے ہیںں کیونکہ یہاں نہ تو پین، پنسلیں ہیں اور نہ ہی کاپیاں، کتابیں اور بلیک بورڈ۔

خراب موسم کے باعث ہم یہاں سے ہیلی کاپٹر کے بجائے پیدل ہی واپس روانہ ہوئے۔

موسم سرما لوگوں کے لیئے اتنا سخت ثابت نہیں ہوا جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ صرف چند ہفتے نہایت دشوار تھے۔

لوگوں میں جینے کی امنگ ہے یہی وجہ ہے کہ سخت سردی بھی جان لیوا ثابت نہیں ہوئی۔

اگر میں اور ڈینیئل کسی چیز کے بارے میں مطمئن ہیں تو وہ یہ کہ ہم نے علاقے میں امداد کی تقسیم نہایت منصفانہ کی ہے۔ لیکن یہ کرنا کوئی اتنا آسان نہ تھا۔

ابھی بھی ان افراد کو کئی آزمائشوں کا سامنا رہے گا۔ زلزلہ سے ان کے بیجوں کے ذخائر ضائع ہوگئے اس لیئے اگلے موسم میں کھیتی باڑی ان کے لیئے مشکل ہوگی۔ ابھی تو ان کی ساری توجہ گھروں کی تعمیر پر ہے۔

کئی متاثرین جو زلزلہ کے بعد یہاں سے چلے گئے تھے، اب واپس لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔ کئی کے پاس واپس آنے کے لیئے کچھ بھی نہیں بچا۔ نہ گھر اور نہ ہی خاندان۔

ان افراد کو کئی سالوں تک امداد کی ضرورت رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد