’حکومت زبردستی نکال رہی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع زلزلہ متاثرین کے ایک بڑے کیمپ کے کئی رہائشیوں نے انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ انہیں زبردستی کیمپ خالی کرکے اپنے علاقوں میں بھیج رہی ہے۔ سنیچر کے روز کیمپ میں مقیم رحمت اللہ، شاہین بی بی، سلیمہ بیگم اور ان کے شوہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، یعنی ’سی ڈی اے‘ والوں نے سکول اور ہسپتال چلانے والی تنظیموں کو کام ختم کرنے کی ہدایت کی ہے اور کھانا فراہم کرنے والے کیمپ بند کرنا شروع کردیے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی ko انتظامیہ والے کبھی بجلی بند کرتے ہیں تو کبھی پانی اور انہیں کہا جاتا ہے کہ اب حالات بہتر ہوچکے اور وہ واپس جائیں۔ جبکہ راجہ اعجاز اور محمد سلیم نے کہا کہ ’اصل میں کشمیر میں انتخابات کا بھی چکر ہے۔ جو کشمیری سیاستدان چھ ماہ تک ان کے پاس نہیں آئے اب روزانہ چکر کاٹتے ہیں اور ان سے ہمدردی جتاتے ہیں‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کشمیر کے سیاستدان سی ڈی اے کی ملی بھگت سے انہیں واپس لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ رواں سال کے وسط تک ہونے والے عام انتخابات میں ان سے ووٹ لے سکیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر وہ کیمپوں میں ہوں گے تو ان کے ووٹ کوئی زبردستی نہیں لے سکے گا اور اگر اپنے علاقوں میں جائیں گے تو با اثر لوگ دھاندلی کریں گے۔ ایچ الیون میں قائم خیمہ بستی جہاں گیارہ ہزار کے قریب زلزلہ زدگان رہائش پذیر ہیں وہاں الہٰدیٰ ٹرسٹ نامی ایک امدادی تنظیم کے کارکن اپنا سکول ختم کرکے سامان ٹرک میں ڈالتے نظر آئے۔ امان اللہ نامی اس تنظیم کے کارکن نے کہا کہ ’سی ڈی اے، والوں نے انہیں اکتیس مارچ کی حتمی تاریخ دی تھی کہ اس وقت تک اپنا سکول بند کرکے سارا سامان واپس لے جائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ میں موجود بچے پڑھنا چاہتے ہیں اور وہ بھی سکول چلانا چاہتے ہیں لیکن ان کے مطابق انتظامیہ نے ان کے سکول کی بجلی کاٹ دی اور سکول بند کرنے کا حکم دیا۔ سکول کے قریب کھڑی ایک بچی نے بتایا کہ وہ تیسری کلاس کا امتحان پاس کرکے اب چوتھی میں گئیں لیکن انتظامیہ نے سکول بند کرا دیا ہے اور وہ بیکار پھرتی ہیں۔ اس سکول میں پڑھنے والے ایک اور بچے کی والدہ سلیمہ نے کہا کہ ان کے بچے سارہ دن گھر میں بور ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم سخت متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہر کے ممالک نے اربوں روپے متاثرین کی مدد کے لیئے دیے لیکن انتظامیہ والے انہیں کیمپ میں بھی رہنے نہیں دیتے۔ اس بارے میں جب کیمپ کے منتظم ریاض احمد چوہان سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ بچوں کے امتحان ہوچکے ہیں اور اب سکولوں کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ اب یہ لوگ ویسے ہی واپس جارہے ہیں۔ تاہم انہوں نے زبردستی سکول اور ہسپتال بند کرانے کے الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ایک ہفتے تک گیارہ ہزار افراد کا یہ کیمپ خالی کرایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ تاحال چھتیس سو کے قریب لوگ واپس جاچکے ہیں۔ مظفر آباد جانے والے عبدالرشید نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کو پہلے ہی روانہ کرچکے ہیں اور آج سوزوکی میں اپنے زیر استعمال تمام سامان لے جارہے ہیں۔ البتہ انہوں نے انتظامیہ کے متعلق کوئی شکایت نہیں کی بلکہ پوری پاکستانی قوم کا مصیبت کے وقت مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اس کیمپ میں لیپا سیکٹر کی رہائشی ایک خاتون روبینہ حبیب نے بتایا کہ ان کے شوہر فوج میں کلرک ہیں اور پہلی بار ان کا مکان بانوے کے سیلاب میں گر گیا جبکہ دوسری بار بھارتی فوج کے گولے لگنے سے تباہ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا وہ مظفرآباد میں ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ واپس مظفرآباد جاکر کیا کریں؟ انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ راولپنڈی میں کرائے کے مکان میں رہیں گی۔ تاہم انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ کرائے کے مکانوں میں رہنے والوں کو اپنے تباہ شدہ سامان کا معاوضہ دینے کی سکیم شروع کریں۔ وادِی نیلم کے رہائشی محمد دین نے بتایا کہ ان کے علاقے میں زلزلے کے بعد پہاڑوں میں دراڑیں پڑچکی ہیں اور زمین مکان بنانے کے قابل نہیں رہی۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ موٹروے کے قریب سرکاری زمین انہیں فراہم کرے تاکہ وہ مکان بناکر اپنی زندگی شروع کرسکیں۔ | اسی بارے میں زلزلہ متاثرین کی واپسی شروع 09 March, 2006 | پاکستان مزید متاثرین اپنے علاقوں کو روانہ24 March, 2006 | پاکستان متاثرین کی گھروں کو واپسی30 March, 2006 | پاکستان پاکستان میں زلزلے کے جھٹکے10 March, 2006 | پاکستان ’تعمیرنوکا تیسرا مرحلہ شروع ہوگا‘17 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||