زلزلہ: امدادی چیک ملے، پیسے نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں نے سولہ فروری کو مظفرآباد میں قائم نیشنل بینک کے ایک برانچ میں اپنے اکاؤنٹ میں پچیس ہزار روپے کا چیک جمع کرایا لیکن میں کئی مرتبہ وہاں پتہ کرنے گیا کہ آیا میرے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل ہوئے ہیں، لیکن ہر بار یہ جواب ملتا ہے کہ ابھی پیسے نہیں آئے ہیں۔‘ مظفرآباد کے محمد طارق اقبال نے مزید تلخ آواز میں کہا کہ’میں آخری بار پیر کو بینک میں گیا تھا اور پھر یہی جواب ملا کہ ابھی پیسے نہیں آئے۔ جب بھی رقم آئے گی آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائے گی۔‘ طارق نے جنجھلاہٹ کے ساتھ کہا کہ ’ہمارے ساتھ حکومت مذاق کر رہی ہے۔ ہم کس کا گریبان پکڑیں اور کس کو کہیں۔‘ آٹھ اکوبر کے زلزے کے فوراً بعد پاکستان کی حکومت نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو عارضی رہائش کی تعمیر کے لیئے فی چھت کے حساب سے پچیس پچیس ہزار روپے کی امداد دینے کا آغاز کیا۔ حکام کے مطابق صرف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہی دو لاکھ پچہتر ہزار سے زائد گھر یا تو مکمل طور پر تباہ ہوئے یا ان کو نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بیشتر لوگوں کو پچیس پچیس ہزار روپے کی ابتدائی امداد کی رقم دے دی گئی ہے۔ بینکوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ مظفرآباد شہر کے خواجہ صلاح الدین بھی انہیں بارہ ہزار افراد میں شامل ہیں جنکو چیک تو ملا لیکن ان کو ابھی تک ادائیگی نہیں ہوسکی ہے۔ صلاح الدین اپنی بینک رسید دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے چوبیس فروری کو پچیس ہزار روپے کا چیک مظفرآباد میں یونائیٹڈ بینک کی ایک برانچ میں جمع کرایا لیکن ابھی تک میرے کھاتے میں رقم جمع نہیں ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں بینک روزانہ جاتا ہوں لیکن ہمیں وہاں سے یہی کہا جاتا ہے کہ کل آئیں پرسوں آئیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ’ہم مشکلات میں ہیں اور میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت تک اپنے گھر کا ملبہ نہیں اٹھوا سکا ہوں۔‘ بینک حکام کا کہنا ہے کہ اٹھائیس فروری کے بعد سے حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی رقم نہیں ملی ہے اور یہ اٹھائیس فروری کو آخری بار پندرہ کروڑ روپے کی رقم حکومت پاکستان سے ملی تھی جو لوگوں میں تقسیم کی گئی تھی۔ متاثرین کو کشمیر کے اس علاقے کی انتظامیہ چیک جاری کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انتظامیہ یہ جانتے ہوئے کہ بینکوں میں لوگوں کو امداد دینے کے لیئے رقم موجود ہی نہیں ہے اس کے باجود لوگوں کو چیک جاری کیے گئے ہیں۔اگر لوگوں کو چیک تقسیم کیے گئے تو پھر حکومت نے رقم فراہم کیوں نہیں کی؟
انہوں نے کہا کہ ’حکومت پاکستان بھی بیورونی ڈونرز پر انحصار کرتی ہے اور اس میں کبھی کبھار تاخیر ہوجاتی ہے۔‘ تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ’حکومت پاکستان کی طرف سے رقم پہنچ رہی ہے اور اسی ماہ لوگوں کو رقم مل جائے گی۔‘ جمیل انور کشمیری بھی ان بارہ ہزار افراد میں شامل ہیں جن کو پچیس ہزار روپے کی ابتدائی امداد کا چیک تو ملا لیکن ان کو ادائیگی نہیں ہوئی۔ کشمیری کہتے ہیں کہ’ زلزے کو چھ ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک لوگوں کو ابتدائی امداد کی رقم بھی نہیں ملی ہے اور گھروں کی تعمیر کے لیئے پیسے کہاں سے ملیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت لوگوں کے ساتھ زیادتی کررہی ہے۔‘ یہ تو وہ بارہ ہزار لوگ ہیں جن کو چیک ملے لیکن ابھی تک ان کو پیسے نہیں ملے ہیں لیکن لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو یہ شکایت کرتے ہیں ان کو ابتدائی امداد کے چیک بھی نہیں ملے۔ یہ بات ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے جب حکومت پاکستان لوگوں کے گھروں کی تعمیر نو کے لیئے امداد کی دوسری قسط فراہم کرنے کے لیئے سروے کرارہی ہے۔ ایسی صورت حال میں لوگوں میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ابھی تک ان کو ابتدائی امداد کی رقم ہی نہیں ملی ہے اور نہ جانے گھروں کی تعمیر کے لیئے اصل رقم کے چیک کب ملیں گے؟ اگر چیک مل بھی گئے تو آیا وقت پر پیسے مل بھی پائیں گے یا نہیں۔ |
اسی بارے میں ’حکومت زبردستی نکال رہی ہے‘01 April, 2006 | پاکستان بالاکوٹ کہیں اور بسایا جائے گا02 April, 2006 | پاکستان بٹہ گرام میں زلزلے سے انیس زخمی04 April, 2006 | پاکستان تھر اور بدین میں زلزلے کے جھٹکے06 April, 2006 | پاکستان زلزلہ: متاثرہ اضلاع میں تعمیر نو شروع07 April, 2006 | پاکستان زلزلہ: ’جن کی تلاش جاری ہے‘ خصوصی ویڈیو07 April, 2006 | پاکستان بالاکوٹ: کاروباری طبقے کو نیا چیلنج08 April, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین: صدر مشرف کا وعدہ09 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||