BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 September, 2006, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے

حکومتی ٹیمیں گھروں کا جائزہ لے کر نقصانات کا تعین کرتی ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزے سے متاثرہ علاقوں میں بہت سارے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں گھروں کا جائزہ لے کر نقصانات کا تعین کرنے والی بعض ٹیموں کے ارکان نے ان سے رقم وصول کی ہے یا رقم کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت پاکستان کا بحالی اور تعمیر نو کا ادارہ اس لیئے یہ سروے کرا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کتنے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں اور کتنے گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور وہ قابل مرمت ہیں۔

زلزے سے متعلق حکومت پاکستان کے بحالی اور تعمیر نو کے ادارے کی جانب سے بنائی جانے والی ٹیمیں چار افراد پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کے ایک افسر اور ایک پٹواری کے علاوہ دو فوجی اہلکار شامل ہوتے ہیں۔

یہ ٹیمیں گھروں کا جائزہ لے کر نقصانات کا تعین کرتی ہیں اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو امداد ادا کی جاتی ہے۔

جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں ان کو حکومت پاکستان تین اقساط میں ڈیڑھ لاکھ روپے فراہم کر رہی اور جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان کو پچاس سے پچھتر ہزار روپے فراہم کیئے جارہے ہیں۔

دیہی علاقوں میں یہ سروے مکمل کیا گیا ہے اور حکام کے مطابق سروے کے بعد نوے فیصد لوگوں کو رقم تقسیم کی گئی ہے۔

ان لوگوں کو پچھتر ہزار روپے کی پہلی قسط ادا کئی گئی جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں اور جن لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور قابل مرمت ہیں ان کو طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق یک مشت ایک ہی بار پچاس سے پچہتر ہزار روپے ادا کر دیئے گئے ہیں اور دیگر کو بھی رقم جلد ادا کردی جائے گی۔

لیکن دیہی علاقوں میں بہت سارے لوگ یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان سے بعض ٹیموں کے ارکان نے رقم طلب کی ہے اور رقم ادا نہ کرنے یا کم ادا کرنے پر ان کے گھروں کو جائزے میں شامل ہی نہیں کیا گیا اور اگر کیا بھی گیا تو جان بوجھ کر نقصانات کا تخمینہ یا تو لگایا ہی نہیں گیا اور لگایا بھی گیا تو بہت کم لگایا گیا۔

کرامت حسین کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے قریب واقع گاؤں گیل جبڑا میں رہتے ہیں اور زلزے میں ان کا گھر تباہ ہوگیا لیکن حسین کا کہنا ہے کہ انھیں صرف پچیس ہزار روپے کی ابتدائی امداد ملی ہے اور اسکے بعد انہیں کوئی قسط نہیں ملی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ زلزے سے متعلق بحالی اور تعمیر نو کے ادارے نے بھی تنگ کیا ہے اور پٹواری بھی پیسے طلب کر رہے ہیں‘۔


کرامت حسین کا کہنا ہے کہ ’سروے ٹیم میں شامل پٹواری نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر پونے دو لاکھ روپے چاہیں تومجھے پانچ ہزار روپے ادا کرو ۔ لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اور میں نے دو ہزار روپے قرض لیئے اور پٹواری کو دیئے لیکن پٹواری کا جواب یہ تھا کہ پوری رقم دو ورنہ اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سروے ٹیم نے جائزہ میں میرا گھر شامل نہیں کیا جس کی وجہ سے مجھے گھر کی تعمیر کے لیئے پچہتر ہزار روپے کی پہلی قسط ابھی تک ادا نہیں کی گئی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں مظفرآباد میں بحالی اور تعمیر نو کے ادارے کے دفتر بھی گیا اور وہاں پر یہی کہا گیا کہ پٹواری نے لکھا ہے کہ میرا گھر ہے ہی نہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرا گھر زلزے میں تباہ ہوا اور میں اپنے طور پر کچھ قرض لے کر گھر تعمیر کر رہا ہوں۔ لیکن پرانے گھر کے نشانات اب بھی وہاں موجود ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ کم پیسے ادا کرنے کی سزا اب تک بھگت رہاں ہوں اور آج تک در بدر کی ٹھوکریں کھارہا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے گھر کا دوبارہ سروے کیا جائے‘۔

یہ اکیلے کرامت حسین کی ہی کہانی نہیں ہے اور بھی بہت لوگ اسی طرح کی شکایت کرتے ہیں ۔

سابق اسکول ٹیچر نوید عادل کا تعلق ایک دور دراز گاؤں موہڑہ مشٹنبھ سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹواری نور علی مجھ سی پچیس سے تیس ہزار روپے طلب کر رہا تھا لیکن میرے پاس پچیس روپے بھی نہیں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ’اب مسئلہ یہ ہے کہ مجھ سے ایرا والے کہتے ہیں ہیں کہ سروے ٹیم نے میرے تباہ ہوئے گھر کے نقصان کی تفصیل نہیں دی ہے اور میرے والد کے گھر کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ان کا کس قسم کا گھر تھا یعنی کچا تھا یا پکا اور کتنے کمروں پر مشتمل تھا اور ہمیں معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے‘۔

ان کا کہنا ہےکہ’ ہم اب بس دفتروں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی ہی نہیں ہو رہی ہے ۔

دیہی علاقوں میں سروے مکمل ہونے کے بعد اب متاثرہ علاقوں کے شہروں میں بھی سروے شروع کیا گیا ہے اور وہاں سے بھی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ سروے ٹیموں کے بعض اہلکار ان سے رقم طلب کر رہے ہیں۔

مظفرآباد کے محمد عادل شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر کے سروے کے دوران اس میں شامل ایک فوج کے حوالدار ریاست نے ان سے دو ہزار روپے طلب کیئے لیکن میں نے ان کو رقم دینے سے انکار کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ’ فوجی اہلکار کے رویے کے خلاف لوگوں کے احتجاج پر فوج کے ایک میجر فواد ان کے علاقے میں آئے اور انہوں نے زلزے میں تباہ ہونے والے میرے گھر کا دوبارہ معائنہ کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ’میں نے میجر فواد سے بھی یہ شکایت کی کہ حوالدار ریاست نے ان سے رقم طلب کی تھی‘۔

لیکن مظفرآباد میں فوجی حکام نے اس کی سختی سے تردید کی کہ سروے کے دوران کسی فوجی اہلکار نے کسی متاثر سے رقم طلب کی ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص یہ ثبوت فراہم کرے کہ کسی فوجی اہلکار نے رقم طلب کی تو اس کو سزا دی جائے گی۔

ان حکام کا کہنا ہے کہ ان کو بھی لوگوں سے یہ شکایت ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

کون صیح ہے اور کون غلط یہ اسی وقت معلوم ہوسکے گا جب کوئی غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائے گی جس کا فی الوقت کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

زلزلہ سے تباہ عمارتزلزلہ انجینئرنگ مرکز
پشاور مرکز کی توسیع اور فنڈز کی منظوری
پروین رشیدون وومن آرمی
سروسز کی بحالی کے لیے پروین رشید کی جدوجہد
زلزلہ پروف سکولزلزلہ پروف سکول
بالاکوٹ میں پری فیبریکیٹڈ سٹیل کا سکول
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد