BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 July, 2006, 09:29 GMT 14:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تحقیق کے لیئے اڑتالیس کروڑ منظور

زلزلہ سے متاثرہ بچے
اکتوبر کے زلزلے نے مستقبل کی منصوبہ بندی کی اہمیت اجاگر کر دی ہے
حکومت پاکستان نے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں زلزلہ انجینئرنگ مرکز کو توسیع دے کر اسے بین القوامی معیار کاادارہ بنانے کے لیئے اڑتالیس کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ مرکز یونیورسٹی آف انجینئرنگ پشاور میں دو ہزار تین میں اڑتیس کروڑ روپے کی رقم سے قائم کیا گیا تھا۔ اس مرکز میں زلزلے سے بچاؤ اور تعمیرات میں نقصانات کم سے کم کرنے جیسے اہم مسائل پر تحقیق کی جاتی ہے۔


آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد اس مرکز کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ کے وائس چانسلر سید امتیاز حسین گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب وفاقی و صوبائی حکومتوں نے اس مرکز کی افادیت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے قومی اور بین القوامی سطح کا ایک مرکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

پلاننگ کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر اکرم شیخ نے گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں اس رقم کی منظوری دی۔

امتیاز حسین گیلانی کا ماننا تھا کہ اس توسیع سے انسانی وسائل کو جدید سہولتوں کے مدد سے زیادہ بہتر انداز میں نکھارا جا سکے گا۔ ’اس مرکز کا بنیادی مقصد ملک کو آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلوں سے بہتر اور موثر حکمت عملی کے ذریعے مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے‘۔

اکتوبر کے زلزلے کے بعد مرکز نے صوبائی حکومت کو متاثرہ پانچ اضلاع میں تعمیراتی ڈیزائن اور کوڈ کی تیاری میں مدد دی۔ یہ مرکز زلزلہ انجینئرنگ کے مضمون میں پاکستان کا پہلا پی ایچ ڈی ماہر بھی تیار کر چکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں ان پی ایچ ڈیز کی ضرورت ہے، سید امتیاز حسین گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ سٹرکچرل انجینئرنگ کی ہی ایک شاخ ہے جس کا فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ایسی عمارتیں تعمیر کرنے پر تحقیق کرتے ہیں جو زلزلے کی اثرات سے محفوظ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’جہاں بھی سٹرکچرل انجینئرز کی ضرورت ہوگی وہاں یہ انجینئر بھی کام کر سکیں گے‘۔

اس مرکز کی افادیت کے بارے میں وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ اگر ماضی میں تعمیرات ایسے مرکز کی تحقیق کے تحت ہوتیں تو نقصانات بہت کم ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سرمایہ کاری سے مستقبل میں نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے‘۔

آٹھ اکتوبر نے جہاں انسانی مدد اور ایثار کے جذبات کو نکھارا وہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے حکومت کو مستقبل کی فکر سے بھی دوچار کیا ہے۔ اس مرکز کی توسیع اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔

مساجدمساجد کی تعمیر؟
مساجد کی تعمیر مخیر حضرات پر چھوڑ دی ہے
اور بھی مل سکتی ہیں
آٹھ ماہ بعد 18 لاشیں برآمد مزید کا امکان
زلزلہ زدگانزلزلہ زدگان کے لیے
بحالی کا نیا صوبائی منصوبہ
بالاکوٹبالاکوٹ میں بے یقینی
بکریال میں نیا ’ماڈل‘ شہر کب تعمیر ہوگا؟
اسی بارے میں
تعمیر نو میں پانچ سال
23 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد