’ماسجد کی تعمیر مخیرحضرات پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے ملک کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیئے جو تعمیر نو کا منصوبہ تیار کیا ہے اس میں مساجد و مدارس کی بحالی شامل نہیں ہے۔ البتہ حکومت توقع کر رہی ہے کہ مساجد کی دوبارہ تعمیر میں مخیر حضرات اور غیرسرکاری تنظیمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی۔ صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ہزاروں مساجد بھی یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئیں یا پھر انہیں جزوی نقصان پہنچا۔ کئی غیرسرکاری اسلامی تنظیمیں جن میں الرشید ٹرسٹ بھی شامل ہے پہلے ہی مساجد کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہیں۔ ٹرسٹ کی سروے ٹیم نے حال ہی میں سرحد اور کشمیر کی مزید تقریباً دو سو مساجد کی نقصان کے اعتبار سے تعمیری کیفیت اور لاگت کے تخمینے کا اندازہ لگایا ہے۔ ٹرسٹ کے مطابق ان مساجد کی بحالی کے لیئے ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے درکار ہونگے۔ الرشید ٹرسٹ کے عمران قریشی سے مساجد کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ شہید تو مساجد کم ہوئیں لیکن ہر مسجد کو نقصان ضرور پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’تقریباً ہر مسجد کو مرمت کی ضرورت ہے۔ ہم ایک ہزار مساجد کی بحالی کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ وقت میں بھی نو مساجد پر کام جاری ہے۔’ الرشید ٹرسٹ صرف مساجد کی بحالی پر توجہ دے رہی ہے جبکہ مدراس اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ عمران قریشی نے کہا کہ ’ہم اس وقت ساری توجہ مساجد پر دے رہے ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو اکا دکا مدرسوں کی مدد بھی کی جاسکتی ہے۔’ ادھر صوبہ سرحد کے وزیر اوقاف و مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مرکزی حکومت نے مساجد کی بحالی کو تعمیر نو کے پروگرام میں جگہ نہیں دی ہے۔ انہوں نے اس بابت وفاقی حکومت سے اپنے مطالبے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے کہا ہے کہ اگر تعمیر نو کے پہلے مرحلے میں نہیں تو دوسرے میں مساجد و مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت مساجد اور مدراس کی بحالی کے لیئے بہت جلد ذرائع ابلاغ پر اشہتارات کے ذریعے مخیر حضرات سے امداد کی اپیل کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس اشتہار میں مخیر حضرات سے کہا جائے گا کہ وہ یا تو خود یا پھر حکومت کے ذریعے مساجد کی دوبارہ تعمیر میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہمیں امید ہے لوگ اس کار خیر میں ضرور آگے آئیں گے۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا دینی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ہونے کے ناطے یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ مساجد کی تعمیر کرے، مولانا امان اللہ کا کہنا تھا کہ یہ تو اللہ تعالی کی جانب سے ایک بہت بڑا حادثہ اور امتحان تھا۔ انہوں نے کہا کہ’بیک وقت لوگوں کی مدد کرنا اور مساجد کو تعمیر کرنا ہماری استطاعت سے باہر تھا۔ اس سلسلے میں ہم اپنے وسائل بھی استعمال کریں اور اور اہل خیر سے بھی اپیل کریں گے۔‘ | اسی بارے میں بالاکوٹ میں بےیقینی 07 June, 2006 | پاکستان بالاکوٹ سے بکریال06 June, 2006 | پاکستان بالاکوٹ: کاروباری طبقے کو نیا چیلنج08 April, 2006 | پاکستان حادثوں سے زیادہ منہ زور زندگی31 March, 2006 | پاکستان بالاکوٹ: کچھ حصوں کی منتقلی 30 January, 2006 | پاکستان لاشوں کے بعد سریے کی تلاش12 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||