اس بار بھی سردیاں خمیوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کو ایک سال ہونے کو ہے لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی تیس ہزار متاثرین کو اس سال بھی سردیاں خیمہ بستیوں میں ہی گزارنا پڑیں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زمین زلزلے میں ضائع ہوگئی تھی یا ان کے علاقوں میں زمین کی صورت حال کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ وہاں تودے گرنے کے خطرات ہیں۔ ایسی ہی ایک خیمہ بستی مظفرآباد کے نواحی علاقے چہلہ بانڈی میں ہے جہاں لگ بھگ پونے دو سو خاندان آباد ہیں۔ اس خیمہ بستی میں ایک تو وہ لوگ رہتے ہیں جن کی زلزلے کے دوران زمینیں ضائع ہوگئیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جن کے گھر اور زمینیں بارشوں کے دوران تودوں کی زد میں آگئے۔ اس بستی میں لوگوں کو بہت حد تک وہ رہائشی سہولتیں حاصل ہیں جنہیں زندگی گزارنے کے لیئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ترتیب میں لگے ہوئے مضبوط کینوس کے خیمے جہاں کھانے پکانے کی سہولت ہے اور پینے کا پانی دستیاب ہے۔ عبادت کے لیئے مسجد ہے، صفائی ستھرائی کا انتظام اور غسل خانے ہیں، کیا کوئی کنیوس کی چار دیواری کو گھر کہہ سکتا ہے؟ کیا اس میں مستقلاً رہا جاسکتا ہے؟ بستی کے مکین کہتے ہیں کہ یہ خیمہ بستی بنیادی مادی ضرورتیں وقتی طور پر تو پورا کر رہی ہے لیکن اس گھر کو گھر کہیں تو کیسے اور اس میں وہ کب تک رہتے رہیں گے۔ نصرت کاظمی کہتی ہیں کہ ’خیمہ بستی کی زندگی کیا ہوتی ہے یہ کوئی ہم سے پوچھے، ہم ایک سال سے ایک خیمہ بستی سے دوسری خیمہ بستی میں منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ زندگی بہت مشکل ہے اور بچوں کے لیئے اور بھی زیادہ مشکل ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ’خیمہ بستیوں کی زندگی کتنی مشکل ہے اس کا اندازہ کوئی اسی وقت لگا سکتا ہے جب وہ خود اس میں رہے ۔‘ تین بچوں کی ماں نصرت کا تعلق شہر مظفرآباد کے ایک نواحی گاؤں سماں بانڈی سے ہے۔ ان کا گھر زلزے میں تباہ ہوا اور ان کی پانچ سالہ بیٹی وفات پاگئی۔ نصرت بھی دوسرے گاؤں والوں کی طرح اپنے ہی گاؤں میں چھ ماہ تک خیمہ بستی میں رہیں لیکن ان پر ایک بار پھر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب بارشوں میں ان کا گاؤں تودوں کی زد میں آکر تباہ ہوا اور ان کو بہت سارے دوسرے خاندانوں کی طرح چہلہ بانڈی کی خیمہ بستی میں منتقل ہونا پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے بھی گھر تھے ہم سکون اور عزت کی زندگی گزار رہے تھے لیکن آج ہمارے پاس سوائے خیمہ بستی کی زندگی کے کچھ نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’خیموں میں گھر کا تصور نہیں ہوتا۔ ان میں رہ کر ہر وقت نصرت کے شوہر فوج میں ملازم ہیں اور وہ باہر ہوتے ہیں اور نصرت اپنے تین چھوٹے بچوں کے ہمراہ ایک خیمے میں رہتی ہیں۔ وہ بھری ہوئی آواز میں کہتی ہیں کہ خیمہ بستی کی زندگی ذلت کی زندگی ہے۔ ’اس سے بہتر ہے کہ اللہ ہمیں موت دے دے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’ ہم کب تک ان خیموں میں رہیں۔ جن کو مرنا تھا وہ مرگئے لیکن جو زندہ ہیں ان کو تو مرنے سے بچائیں۔‘ نصرت کہتی ہیں کہ اس خیمہ بستی میں کوئی سکول بھی نہیں جہاں ان کے چھوٹے بچے پڑھ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کا سکول دور ہے اور وہ صبح سکول جاتے ہیں اور شام کو لوٹتے ہیں۔ ان کو اب یہ بھی پریشانی ہے کہ سردیاں سر پر ہیں اور وہ کیسے سردیوں میں ان خیموں میں رہیں گے۔ ان کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور وہ کہتی ہیں کہ آخر کب تک انہیں ان خیموں میں رہنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ’حکومت ہمیں زمین فراہم کرے تاکہ ہم اپنے گھر بنائیں اور اپنے بچوں کے ساتھ عزت کی زندگی گزاریں۔‘ محمد فرید کا تعلق بھی سمان بانڈی سے ہے اور وہ اسی خیمہ بستی میں رہتے ہیں۔ زلزے میں ان کا گھر تو بچ گیا لیکن مون سون کی بارشوں کے دوران تودوں کے باعث ان کا گھر اور زمین تباہ ہوگئی۔
محمد فرید کا کہنا ہے کہ’حکومت کی طرف سے ہمیں زمین فراہم کرنے کا تو اعلان کیا گیا ہے لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں زمین ملے گی بھی یا نہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ ابھی تک حکومت نے ہمیں مستقل طور پر آباد کرنے کے لیئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’اس سال سردیوں میں بھی ہم اور یہ خیمے ہیں۔‘ محمد فرید کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے گھر سے بے گھر ہوگئے اور اپنے ہی وطن میں بے وطن ہوگئے ہیں، ہم مجبور اور بے بس ہیں۔ ہمارے بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں، یہی بچے ہماری دولت اور مستقبل ہیں اور ہمارے مستقبل کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔‘ انہوں نے غصے میں کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں بہت امداد ملی، میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ آکر ان خیموں میں رہیں اور یہ امداد وہ لے لیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری حکومت بڑے دعوے کرتی ہے کہ ہم نے پہاڑوں کے اوپر سونا بچھا دیا اور اور زمین پر قالینیں بچھا دیں۔ آپ خود دیکھیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے بھی گھر تھے، ہم سب کھانے پینے والے لوگ تھے لیکن حالات نے ہمیں ان خیموں میں رہنے پر مجبور کردیا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری یہی درخواست ہے کہ ہمیں جلد از جلد مستقل طور پر آباد کیا جائے۔‘
ان خیمہ بستیوں کے دیکھ بھال کرنے والے ادارے کیمپ منیجمنٹ آرگنائزیشن یعنی سی ایم او کے اہلکار فاروق اعوان کا کہنا ہے کہ اس وقت کشمیر کے اس علاقے میں متاثرین کی چوالیس خیمہ بستیاں ہیں جہاں لگ بھگ چھ ہزار خاندانوں پر مشتمل کوئی تیس ہزار افراد آباد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان خیمہ بستیوں میں وہ لوگ رہتے ہیں جن کی زلزے میں زمینیں ضائع ہوگئی ہیں یا ان کے علاقوں میں زمین کی صورت حال کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ وہاں تودے گرنے کے خطرات ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب کیا دیا جائے کہ خیمہ بستیوں کے مکین ایسے گھروں میں کب جا کر آباد ہوں گے جن کو واقعی اپنا گھر کہیں۔ کشمیر کے اس علاقے کے زلزے سے متعلق تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے سربراہ سردار محمد صدیق خان کا کہنا ہے کہ’ان لوگوں کو آباد کرنے کے لیئے چھوٹے قصبے تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور یہ کہ اس کے لیئے چار مقامات پر جگہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور وہ زمینیں حاصل کی جارہی ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ان قصبوں کو اگر حکومت خود تعمیر کرے گی تو اس میں بارہ سال لگ سکتے ہیں اور اگر پرائیویٹ سیکٹر کو یہ کام سونپا جائے گا تو اس میں پانچ سے چھ سال لگ سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’ ہم یہ کام پرائیویٹ سیکٹر کو سونپنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو کم سے کم وقت میں آباد کیا جاسکے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’مستقل آبادکاری سے قبل ان لوگوں کی عارضی رہائش گاہیں فراہم کیے جانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔‘ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کی بات پر یقین نہ کیا جائے لیکن وہ جو کسی نے کہا تھا: |
اسی بارے میں زلزلہ: ’جن کی تلاش جاری ہے‘ خصوصی ویڈیو07 April, 2006 | پاکستان زلزلہ: اقوام متحدہ کا امدادی پروگرام 17 May, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ علاقوں میں ہیضہ، 9 ہلاک07 August, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے 04 September, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیئے یورپی امداد21 September, 2006 | پاکستان امداد: زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی21 September, 2006 | پاکستان جنہیں زلزلہ اپاہج کر گیا29 September, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ خاندانوں کے لیئے بھینسیں26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||