BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 August, 2006, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ زدہ علاقوں میں ہیضہ، 9 ہلاک

ایک مریض فائل فوٹو
صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ متاثرین کی تعداد سے اتفاق نہیں کرتے۔
حکام کے مطابق صو بہ سرحد میں ہیضے، اسہال اور معدے کی دیگر بیماریاں پھیلنے سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران زلزلہ زدہ علاقوں کم سے کم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

ضلع بٹگرام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد کے زلزلہ سے متاثرہ بیشتر اضلاع میں آلودہ پانی کے پینے سے ہزاروں لوگ ہیضے، اسہال اور معدے کی دوسری بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق مسلسل بارشوں اور سیلاب کے باعث مانسہرہ، اوگی، بٹاگرام اور الائی کے علاقوں میں چشموں کا پانی الودہ ہوگیا ہے اور ہیضے کا باعث بنا ہے۔

ریڈ کراس کے ایک اہلکار ڈاکٹر ضیاء نے بٹاگرام سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد پیٹ کے بیماریوں میں مبتلا ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو تین دن کے دوران انہوں نے سینکڑوں ایسے مریض دیکھے ہیں جو اسہال، ہیضے اور پیٹ کی دیگر بیماریوں کا شکار تھے۔

چشموں کا پانی آلودہ ہو گیا
 مسلسل بارشوں اور سیلاب کے باعث مانسہرہ، اوگی، بٹاگرام اور الائی کے علاقوں میں چشموں کا پانی الودہ ہوگیا ہے اور ہیضے کا باعث بنا ہے

انہوں بتایا کے اکثر متاثرہ علاقے پہاڑوں میں واقع ہیں جہاں پر چشمے لوگوں کے لیئے پینے کے پانی کا واحد ذریعہ ہیں۔

ڈاکٹر ضیاء نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے علاقوں پر خصوصی توجہ نے دی تو یہ بیماریاں دوسرے علاقوں تک منتقل ہو سکتی ہیں۔

بٹاگرام کے ایک مقامی صحافی احسان دواڑ کا کہنا ہے کہ مانسہرہ ، بٹاگرام، اوگی اور الائی کے علاقوں میں اب تک دس ہزار سے زائد افراد پیٹ کے بییماریوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹ کے امراض کی رپورٹیں زلزلہ زدہ علاقوں سے ملی ضرور ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت زلزہ زدہ علاقوں میں بدستور فعال ہے اور متاثرہ لوگوں کو ہر قسم کی طبی سہولیات پہنچانے کے لیئے سرگرم ہے۔

اسی بارے میں
سرحد بارشیں، دو سو ساٹھ ہلاک
15 February, 2005 | پاکستان
ہلاکتیں 130 سے تجاوز کر گئیں
14 February, 2005 | پاکستان
بارشیں، برفباری، 160 ہلاک
14 February, 2005 | پاکستان
ژوب: ہیضے سے بائیس ہلاک
08 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد