آنتوں کی سوزش سے گیارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں اطلاعات کے مطابق پچھلے اڑتالیس گھنٹوں میں پیٹ اور آنتوں کی بیماری گیسٹروانٹرائٹس کی علامات کے تحت چھ بچوں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق گیسٹروانٹرائٹس یا آنتوں کی سوزش نے علاقے میں ایک وبا کی سی صورت اختیار کر لی ہے اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہاسپٹل میں چند روز کے اندر تین سو سے زائد مریض اسی بیماری کی علامات کے تحت داخل ہوئے ہیں۔ ڈیرہ کے ضلعی رابطہ افسر خسرو پرویز نے اگرچہ اس بیماری کے تحت ہونے والی اموات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹرز ہاسپٹل میں ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیئے مزید دو سو بستروں کو انتظام کر دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آنتوں کی سوزش عام طور پر آلودہ پانی پینے سے پھیلتی ہے۔ شہریوں کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے اور سرکاری نلوں کے ذریعے گھروں میں جو پانی فراہم کیا جارہا ہے اس میں کئی دفعہ انسانی فضلے اور گندگی کی آمیزش ہوتی ہے۔ گیسٹروانٹرائٹس کی ’وبا‘ سے متاثرہ علاقوں میں رکن آباد کالونی، شکور آباد، خیابان سرور، پل ڈاٹ، بھٹہ کالونی اور ماڈل ٹاؤن شامل ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق صرف جمعرات کے روز اس بیماری کی علامات کے تحت پینسٹھ افراد ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔
گیسٹروانٹرائٹس سے ہلاک ہونے والے افراد کے نام کچھ یوں بتائے جارہے ہیں پانچ سالہ ایمن، آٹھ سالہ ارم، دس سالہ فرحت، پینتیس سالہ آمنہ، پینسٹھ سالہ رمضان، دس سالہ احسان اللہ، ایک سو پانچ سالہ سکینہ مائی، سترہ سالہ گلشن، چھ سالہ اسامہ، پینتالیس سالہ غلام حسین اور آٹھ سالہ محمد رمضان۔ میونسپیلٹی کی طرف سے اگرچہ مضر صحت فراہمی آب کی روک تھام کا فوری حل نظر نہیں آرہا لیکن جمعرات کے روز دن بھر یہ اعلانات کرائے جاتے رہے کہ شہری پانی ابال کر پیئیں اور ریڑھیوں سے کٹے پھٹے پھل خریدنے سے اجتناب کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے ساتھ ہی دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت گلے سڑے پھل اور غیر معیاری مشروبات فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ | اسی بارے میں کراچی: آلودہ پانی سے 70 افراد بیمار24 May, 2006 | پاکستان شاہجہان کی نہر اب گندہ نالہ 29 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||