BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 May, 2006, 23:05 GMT 04:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: آلودہ پانی سے 70 افراد بیمار

کراچی میں ہسپتالوں کی حالت بھی بدتر ہے
کراچی میں سخت گرمی اور آلودہ پانی کی فراہمی کی وجہ سے 70 سے زائد لوگ پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں جنہیں شہر کے مختلف ہسپتالوں میں طبی امداد کے لیئے لایا گیا ہے۔

ہسپتالوں میں لائے گئے ان مریضوں کا تعلق شہر کے مختلف علاقوں سے ہے جن میں بچے، خواتین اور مرد شامل ہیں۔ ان میں اکثریت لیاری کے لوگوں کی ہے۔ کراچی کے سرکاری سول ہسپتال میں پچاس سے زائد مریض لائے گئے جن میں سے اکثر کو طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا۔

کیماڑی ٹاؤن سے لائے گئے محمد صدیق نے، جو پانچ روز قبل دبئی سے آئے ہیں، بتایا کہ علاقے میں بدبودار اور آلوہ پانی فراہم کیا جارہا ہے جو لانچ کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کے ان کے علاقے بابا بھٹ میں پانی کی کوئی لائین نہیں ہے، دیگر علاقوں سے یہ پانی لایا جاتا ہے، انہوں نے یہ پانی استعمال کیا تو پیٹ خراب ہوگیا اور الٹی ہونے لگی بعد میں انہیں ہسپتال لایا گیا ہے۔

لیاری میں آلودہ پانی کی فراہمی
 لیاری میں گزشتہ ایک ماہ سے گندہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ اس پانی میں کبھی کیڑے ہوتے ہیں، کبھی اس کا رنگ کالا ہوتا ہے۔ اس پانی کی وجہ سے سارے بچے بیمار ہیں، کسی کو پیٹ میں درد ہے تو کسی کو بخار ہے۔
شہر کے گنجان آبادی لالو کھیت کے رہنے والے محمد عرفان نے بتایا کہ ایک ہفتے سے باالکل پانی نہیں آرہا تھا، گزشتہ دن آیا جو انتہائی آلودہ اور بدبدار تھا جس کے استعمال سے میری حالت خراب ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’لالو کھیت میں زیادہ تر لوگ نجی ہسپتالوں میں گئے ہیں، میں نے بھی وہاں دکھایا تھا مگر طبیعت میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے سول ہسپتال آیا ہوں۔‘

نیو کراچی سے سول ہسپتال لائے گئے شکیل نے بتایا کہ وہ اور ان کی والدہ ساری رات پانی کا انتظار کرتے رہے، رات کو تین بجے پانی بھرا ہے۔صبح کو اس پانی کے استعمال سے ان کی والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی جنہیں ڈرپ لگائی گئی۔

شکیل نے بتایا کہ ’میں کام پر گیا تو وہاں گرگیا اب پیٹ میں شدید مروڑ ہو رہے ہیں۔ ڈرپ لگائی ہے مگر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔‘

لیاری کی ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ لیاری میں گزشتہ ایک ماہ سے گندہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ اس پانی میں کبھی کیڑے ہوتے ہیں، کبھی اس کا رنگ کالا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا اس پانی کی وجہ سے سارے بچے بیمار ہیں کسی کو پیٹ میں درد ہے تو کسی کو بخار ہے۔

لیاری کے ایک اور رہائشی یونس کھتری نے بتایا اس آلودہ پانی کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا مگر پھر بھی اس کی فراہمی جارہی ہے۔ سول ہسپتال کے شعبے حادثات کے انچارج ڈاکٹر قمرزماں نے بتایا کہ صبح سے شام تک پچاس مریض ہسپتال میں علاج کے لیئے آچکے ہیں جن میں زیادہ تر کو دست الٹی اور کچھ کو بخار ہے۔

ان کے مطابق مریضوں کا تعلق کسی ایک علاقے سے نہیں ہے پورے کراچی سے مریض آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرمی کی وجہ سے وبا پھوٹ پڑتی ہےہر سال اس موسم میں لوگوں میں پیٹ کی بیماریاں ہوتی ہیں، آلودہ پانی بھی اس بیماری کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب فیصل آباد اور حیدرآباد میں گیسٹرو کی وبا پھوٹنے کے بعد کراچی میں ادارۂ فراہمی و نکاسئ آب نے شہر میں آلودگی سے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے ایک مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس طرح شہری انتظامیہ کے حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسا پانی استعمال نہ کریں جس سے بدبو آرہی ہو، پانی کو صرف ابال کر ہی استعمال کیا جائے۔ حکام کے مطابق کراچی کی کچی آبادیوں میں گیسٹرو کی وبا پھلنے کا خدشہ ہے، اس لیئے ان علاقے کے لوگوں کو زیادہ احتیاط برتنا چاہیئے۔

واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ کافی دنوں سے بجلی کا بحران جاری ہے جس سے پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ لوڈشیڈنگ اور گرمی میں اضافے کی وجہ سے لوگ گیسٹروں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں
سرحد میں پانی کی قلت
22 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد