BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد میں پانی کی قلت

پانی
پانی کی قلت کے باعث شہری بعض اوقات مضر صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں
موسم گرما جوبن پر ہے اور ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی گرمی کی آمد کے ساتھ ہی ہر علاقے سے پانی کی کمی کی شکایات سے اخبارات بھر گئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں چاہے کاشت کار ہوں یا عام شہری ہوں دونوں ہی آبپاشی اور پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ مسئلہ ایک ایسے وقت سر اٹھاتا ہے جب صوبہ سرحد نہری نظام کے تحت ملنے والے اپنے حصے کے پانی سے بھی پوری طرح استفادہ نہیں کر پاتا۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے فارمولے کے تحت ملنے والا بیس سے پچیس فیصد پانی کو استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔

ضلع مردان کے قدیم گاؤں طورو جہاں زراعت کا زیادہ انحصار ٹیوب ویلوں کے ایک کاشکار ماجد خان پانی کی دستیابی پر کہتےہیں کہ پانی کی سطح مسلسل گرنے اور بجلی کی کمیابی یا گرانی کی وجہ سے ان کے لیئے اپنے کھیتوں کو سیراب کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

’پہلے ایک بیگا زمین گھنٹے دو میں سیراب ہوجاتی تھی مگر اب تو گرم موسم اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے چار پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔‘

پانی قلت کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر عورتوں کو کئی کئی میل سے پانی لانا پڑتا ہے
دوسری جانب شہری علاقوں میں پینے کا پانی موسم گرما میں نایاب ہوجاتا ہے۔ پشاور جیسے بڑے شہروں کا پینے کے پانی کے لیئے زیادہ انحصار ٹیوب ویل پر ہے۔ بارشیں ہوں نہ ہوں بجلی ہونی چاہیے تاکہ لوگ پانی کی گرتی ہوی سطح کا مقابلہ مزید گہرائی تک اس کا پیچھا کر کے کرتے رہیں۔

پشاور کے بھانہ ماڑی علاقے میں ایک نالی میں لگے سرکاری نلکے کے پاس بالٹی پکڑے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے ستر سالہ امین خان سے یہاں سے پانی لیجانے کی وجہ دریافت کی تو ان نے کہا ’یہاں کونسا دریا ہے یا جھیل ہے جہاں سے پانی لائیں۔ یہ سرکاری نلکے ہی ہیں جو پانی مہیا کرتے ہیں۔‘

وہیں کھڑے عمر خان نے گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے نشاندہی کی کہ پانی کا پائپ رس بھی رہا ہے اور اس سے نالی کا گندا پانی داخل بھی ہوتا ہے۔ ’ایک تو پانی ضائع ہو رہا ہے دوسرا جو آ رہا ہے وہ بھی پینے لائق نہیں۔‘

اس نلکے کے گرد جمع لوگوں کا کہنا تھا کہ گرمیوں میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ ’اکثر گرمیوں میں ٹیوب ویل خراب ہوجاتے ہیں جس سے لوگ بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔‘

اس بات چیت سے واضع ہے کہ پانی کی کمی کی ایک وجہ پانی کا زیاں بھی ہے۔ جو ہے اس کا بھی بہتر استعمال نہیں ہو پا رہا ہے۔

گرمی کی شدت اور پانی کی کمیابی سے پرندے بھی پریشان ہیں

پشاور کے سابق ضلع ناظم اعظم آفریدی شہر کی پانی کی ضروریات پورا کرنے کا واحد حل ورسک ڈیم سے پانی کی ترسیل کو قرار دیتے ہیں۔ ’ہم ہزار ٹیوب ویل مزید بھی لگا لیں لیکن پانی کی قلت رہے گی۔ اس شہر کے پانی کے مسلہ کا واحد حل اسے تقریباً تیس کلومیٹر دور ورسک ڈیم سے پائپ کے ذریعے پانی کی ترسیل میں ہے۔‘

اعظم آفریدی نے شکایت کی کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ریفرینڈیم کے موقعہ پر پشاور میں ایک ریلی سے خطاب میں دو سو ٹیوب ویلوں کے لیئے فنڈ مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ وعدہ آج تک پورا نہ ہوسکا۔

ان کاکہنا ہے کہ موسم گرما میں پانی کی کمی کی وجہ سے شہر کا امن وامان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

جب معمول کے حالات میں پانی کا مسئلہ اتنا سنگین ہے تو محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کے مطابق اس سال خشک سالی سے صورتحال کیا ہوگی۔ صوبہ کے بارانی اور جنوبی اضلاع آج بھی پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ تاہم صوبائی حکام خشک سالی کی پیش گوئیوں سے کوئی زیادہ فکرمند دکھائی نہیں دیتے۔

محکمہ آبپاشی کے چیف انجنیر وزیر خان کا کہنا تھا کہ انہیں فل الحال نہری نظام سے ان کی ضرورت کے مطابق پانی مل رہا ہے۔ ’پانی کی صورتحال فل الحال تسلی بخش ہے اور ہمارے پاس پہاڑوں پر برف کے ذخائر کافی ہیں لہذا امید ہے کوئی بڑا مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے اور ضرورت کے وقت استعمال میں لانے کے لیئے ڈیموں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبے ابھی صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔

پانی کی مناسب مقدار دستیاب ہونے کے باوجود کاشتکاروں کی شکایات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ شکوہ اکثر نہر کے آخری سرے پر رہنے والے لوگوں کو ہوتا ہے کیونکہ نہر کے آغاز پر کاشتکار زبردستی پانی زیادہ لے لیتے ہیں۔ ’اس مسئلے کا خشک سالی سے تعلق نہیں ہے۔‘

صوبہ سرحد میں نہری نظام پر انحصار کرنے والے کاشت کار تو شاید ممکنہ خشک سالی سے زیادہ متاثر نہ ہوں لیکن اس سے سب سے بڑا خطرہ صوبہ کے بارانی اور جنوبی اضلاع کو ہے۔ البتہ اس بارے میں صوبائی حکام کی جانب سے پیشگی منصوبہ بندی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

ایسے میں کاشت کار دعاگو ہیں کہ خشک سالی کی پیش گوئی غلط ثابت ہو۔

اسی بارے میں
بدترین خشک سالی کا خطرہ
08 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد