آلودہ پانی: 4 ہلاک، سینکڑوں بیمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد شہر کے ایک علاقہ میں آلودہ پانی پینے سے دستوں کی بیماری پھوٹ پڑی ہے جس سے گزشتہ دو دنوں میں چار افراد ہلاک ہوئے، پانچ سو سے زیادہ ہسپتالوں سے رجوع کرچکے ہیں اور تین سو سے زائد افراد ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیصل آباد کے جنرل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انیس خواجہ نے تصدیق کی کہ غلام محمد آباد علاقہ سے تعلق رکھنے والے چار افراد اسہال اور جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بدھ سے بیمار ہونا شروع ہوئے تھے تاہم جمعہ کو مریضوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کی سہ پہر تک ان کے ہسپتال میں تقریبا 450 مریض علاج کے لیے آچکے تھے۔ فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال کے ماہر بچگان پروفیسر رضا بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے جمعہ کا سارا دن بہت مصروف گزارا کیونکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں غلام محمد آباد کے علاقہ سے آئے ہوئے 170 مریض بچے ان کے وارڈز میں داخل کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں کو دست لگے ہوئے تھے، جسم میں پانی کی کمی ہوچکی تھی اور وہ غشی کی حالت میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کے وارڈ میں زیادہ تر بچے چھ ماہ سے بارہ سال کی عمر کے ہیں۔
پروفیسر رضا بلوچ کا کہنا ہے کہ اس بیماری کو ابھی ہیضہ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ مریضوں کے پاخانوں کی کلچر ٹیسٹ کی رپورٹیں موصول ہوں گی تو بیماری کا صحیح تعین ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ یہ تمام بچے آلودہ پانی پینے سے پیٹ کی بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر انیس کا کہنا ہے کہ ان کے ہسپتال میں پچاس بستر ہیں جبکہ اس میں اس وقت پیٹ کا مرض پھوٹ پڑنے سے 110 سے زیادہ مریض داخل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مریض ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بھی بھیجے گئے ہیں۔ فیصل آباد کے ڈاکٹروں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متاثرہ علاقہ غلام محمد آباد میں آلودہ پینے کے پانی کی وجہ سے اسہال کی بیماری کے ساتھ ساتھ ٹائفائڈ اور ہیپاٹائٹس اے بھی وبا کی شکل میں پھیل سکتے ہیں کیونکہ سیوریج کے پانی میں ایک سے زیادہ جراثیم ہوتے ہیں۔ پروفیسر رضا بلوچ نے کہا کہ ان کے ہسپتال نے ضلعی ناظم، ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) اور ای ڈی او صحت کو خطوط فیکس کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقے میں خدشہ ہے کہ سیوریج کا پانی پینے کے پانی کے ساتھ مل گیا ہے جس سے لوگ بڑی تعداد میں اسہال میں مبتلا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جگہ کی نشان دہی ہونی چاہیے جہاں سیوریج کا پانی صاف پانی میں مل رہا ہے اوراس کے ٹھیک ہونے تک ٹیوب ویل کا پانی لوگوں کو فراہم نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ پینے کے لیے ٹینکروں میں پانی فراہم کیا جانا چاہیے اور اسے بھی لوگ ابال کر پیئیں۔ | اسی بارے میں آلودہ پانی پینے سے چار ہلاک08 July, 2004 | پاکستان لاہور میں ہیضے کی وبا: 2000 متاثر30 June, 2005 | پاکستان آلودہ پانی پینے سے چار ہلاک29 June, 2005 | پاکستان پانی زہریلا، سات سو متاثرین :حکام18 September, 2005 | پاکستان آلودہ پانی پینے سے انیس ہلاک11 July, 2005 | پاکستان کراچی: آلودہ پانی سےآٹھ ہلاک17 September, 2005 | پاکستان پاکستان: پانی کے مسائل کا خطرہ15 May, 2006 | پاکستان اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت03 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||