کراچی: آلودہ پانی سےآٹھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں آلودہ پانی کے استعمال سے پانچ بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ بیمار ہونے والوں کی تعداد ساڑھے چار سو سے زائد ہوگئی ہے۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔گوادر سے کراچی پہنچنے پر انہوں نے سندھ حکومت اور سٹی گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ اس بات کا پتہ کیا جائے کہ یہ ہلاکتیں کیسے ہوئیں اور اس میں کس کی لاپرواہی شامل ہے۔ لانڈھی اور عوامی کالونی کے بعد شہر کے دیگر علاقوں میں بھی صورتحال خراب ہوگئی ہے اور داؤد چالی میں آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے چھ بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ٹاؤن ہیلتھ اافیسر ڈاکٹر خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ داؤد چالی میں بھی پینے کی پانی میں گٹر کا پانی شامل ہوگیا ہے جس سے چھ بچے فوت ہوگئے ہیں جن کی عمر چھ سے دس برس کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کچھ مریض ہیں جن کے لیے علاقے میں طبّی کیمپ قائم کیا جارہا ہے جبکہ جن مریضوں کی حالت تشویشناک ہے انہیں دیگر ہسپتالوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم او نظیر لاکھانی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے جن میں سے چھ داؤد چالی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ داؤد چالی ایک کچی آبادی ہے جہاں کے لوگوں نے پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے کچھ جوہڑوں سے بھی پلاسٹک کے پائپ سے کنکشن لیے ہوئے ہیں جبکہ یہ پائپ گندی نالے کے برابر یا ان کے اندر سےگزر رہے ہیں۔ نظیر لاکھانی کے مطابق بارش کی وجہ سے جوھڑ کا پانی خراب ہوگیا ہے یا گٹر کا پانی اس پانی میں مل گیا ہے، اس سلسلے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ لانڈھی اور عوامی کالونی سے گزشتہ شب سے لیکر ہفتے کی صبح تک مزید مریضوں کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ کورنگی ہسپتال کے ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مزید نو مریض آئے ہیں جن کی حالت اب بہتر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہسپتال میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تاہم انہوں نے سنا ہے کہ دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب ایدھی سینٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے تیس کے قریب لوگوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا ہے۔ آلودہ پانی کی فراہمی بند ہونے کے بعد علاقے میں پانی کی قلت ہوگئی ہے۔ رینجرز کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ علاقے میں رینجرز کی جانب سے یومیہ اکیس ہزار گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے جب تک صورتحال معمول پر نہیں آتی پانی کی مفت فراہمی جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ محکمہ صحت کے صوبائی وزیر شبیر احمد قائم خانی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عوامی کالونی میں پینے کے پانی کی لائین میں ڈرینج کی لائن مل گئی تھی جس سے پانی آلودہ ہوگیا۔ سندھ کے وزیر بلدیات وسیم اختر کا کہنا تھا کہ علاقے میں سابق یوسی ناظم نے ایک آبادی کو پینے کے پانی کے غیر قانونی کنکشن دیے تھے۔ گندے پانی کی لائن جو ان کنکشنوں کے قریب سے گزر رہی تھی پانی کی لائن میں مل گئی جس کی وجہ سے پینے کے پانی میں گندا پانی شامل ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ آلودہ پانی کی فراہمی کی وجہ سے لوگ بیمار ہوگئے۔ فوری طور پر علاقے میں پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے اور نئی لائن بچھائی جا رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||