آلودہ پانی سے تین سو افراد بیمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے علاقے لانڈھی میں آلودہ پانی کے استعمال سے تین سو سے زائد لوگ بیمار ہوگئے ہیں۔ مریضوں میں بچے بھی شامل ہیں اور مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ محکمہ صحت کے صوبائی وزیر شبیر احمد قائمخانی نے بی بی سی کو بتایا کہ عوامی کالونی میں پینے کے پانی کی لائن میں گٹر کی لائن مل گئی تھی جس سے پانی آلودہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ آلودہ پانی کے استعمال سے تین سو کے قریب لوگ اسہال میں مبتلا ہوگئے۔ متاثرہ افراد کو کورنگی کے گورنمنٹ ہسپتال، جناح ہسپتال اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں داخل کیا گیا ہے۔ وزیر صحت کے مطابق کورنگی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ ہسپتال میں پیرامیڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ اس وقت صرف اسّی مریض کورنگی کے ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلودہ پانی کے استعمال سے کسی ہلاکت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے جبکہ مریضوں میں تیس بچے بھی شامل ہیں۔ سندھ کے وزیر بلدیات وسیم اختر کا کہنا ہے کہ علاقے میں سابق یوسی ناظم نے غیر قانونی طریقے سے ایک آبادی کو پینے کے پانی کی لائن دی تھی جو گندے پانی کی لائن کے قریب سےگزر رہی تھی جس کی وجہ سے اس میں گندا پانی شامل ہوگیا۔ وسیم اختر نے بتایا کہ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ بیمار ہوگئے۔ فوری طور پر علاقے میں پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے اور نئی لائن بچھائی جا رہی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں داخل ایک بچی کے والد شبیر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بچی کی طبیعت رات سے خراب تھی۔ وہ رات کو ہی اپنی بیٹی کو مقامی ڈاکٹروں کے پاس لے کرگئے مگر انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ابھی وقت نہیں ہے۔ جناح اسپتال میں داخل مریضوں کے رشتہ داروں شہزاد اور امان اللہ نے بتایا کہ عوامی کالونی میں گزشتہ تین روز سے کالا پانی آ رہا ہے۔ لگتا ہے کہ پینے کے پانی میں کوئی کیمیکل مل گیا تھا جس کے استعمال کے بعد پوری کالونی بیمار ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں پانی کا دوسرا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور اب لوگوں نے پانی ا بال کر استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ شہزاد نے بتایا کے اس پانی کے استعمال کی وجہ سے گزشتہ دو دن میں علاقے میں ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں صحت کی کوئی سہولت مہیا نہیں کی گئی اور وہ ایدھی کی ایمبولینس میں اپنے رشتہ داروں کو جناح ہسپتال لے کر آئے۔ جناح ہسپتال کے ڈاکٹر شام داس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس چھ، سات مریض آئے تھے جنہیں ڈرپ اور اینٹی بائیوٹک ادویات دی گئیں۔ طبیعت بہتر ہونے کے بعد ان کو فارغ کردیا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||