پانی زہریلا، سات سو متاثرین :حکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے محکمۂ صحت نے لانڈھی کی عوامی کالونی میں فراہم کیے جانے والے پانی کو زہریلا قرارا دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پانی کسی صورت میں استمال کے قابل نہیں ہے۔ کراچی میں گزشتہ تین روز میں آلودہ پانی کے استعمال سے پانچ بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک جبکہ سات سو سے زائد بیمار ہوچکے ہیں۔ محکمۂ صحت کے سیکریٹری ڈاکٹر نوشاد نے بتایا کہ لیبارٹری ٹیسٹ میں ثابت ہوا ہے کہ پانی نوے فیصد آلودہ ہے۔ اس میں گٹر کا پانی شامل ہوگیا تھا۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ جبکہ سندھ کے گورنر عشرت العباد نے واٹر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ پانی کی فراہمی کی نگرانی کی جائے۔ واضح رہے کہ لانڈھی اور عوامی کالونی کے بعد شہر کے دیگر علاقوں میں بھی صورتحال خراب ہوگئی ہے اور داؤد چالی میں آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے ہفتے کے روز چھ بچے ہلاک ہوگئے جن کی عمر چھ سے دس برس کے درمیان ہے۔ ٹاؤن ہیلتھ افسر ڈاکٹر خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ داؤد چالی میں بھی پینے کی پانی میں گٹر کا پانی شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کچھ مریض ہیں جن کے لیے علاقے میں طبّی کیمپ قائم کیا جارہا ہے جبکہ جن مریضوں کی حالت تشویشناک ہے انہیں دیگر ہسپتالوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم او نظیر لاکھانی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے جن میں سے چھ داؤد چالی میں ہلاک ہونے والے بچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ داؤد چالی ایک کچی آبادی ہے جہاں کے لوگوں نے پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے کچھ جوہڑوں سے بھی پلاسٹک کے پائپ سے کنکشن لیے ہوئے ہیں جبکہ یہ پائپ گندی نالے کے برابر یا ان کے اندر سےگزر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||