BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 May, 2006, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: پانی کے مسائل کا خطرہ

سوکھی زمین
پاکستان میں 2025 تک پانی کی قلت تیس ’ایم اے ایف‘ ہوجائے گی۔
پاکستان کے مختلف علاقوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ ایک طرف نہروں میں پانی کم ہےجس سے زرعی پیداوار کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی کمی بھی ہے۔

چولستان کے ٹوبوں یعنی تالابوں میں پانی کم ہورہا اور کئی بالکل خشک ہوچکے بڑی تعداد میں جانور مر چکے ہیں اور انسان جانیں بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

پنجاب اور سندھ میں دریائی پانی پر انحصار کرنے والوں کے لیے نہریں ایک ماہ کی تاخیر سے کھولی گئی ہیں اور ان کے جلد بند ہونے کی پیشگوئی ہے کئی نہریں ابھی بھی خشک ہیں۔

بہاولنگر اور ڈیرہ غازی خان میں چند احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہو رہے ہیں جس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

پنجاب کے جوعلاقے زیر زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں اس کے مکین اس لیے پریشان ہیں کہ پانی مزید گہرائی میں چلا گیا ہے کنویں خشک یاگہرے ہونا شروع ہوگئے ہیں ٹیوب ویلوں کی کارکردگی کم ہو رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں زیر زمین پانی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور چھ سال کے دوران یہ اضافہ تیس لاکھ ایکڑ فٹ سالانہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹھے اور قابل استعمال پانی کے ذخیرہ میں کمی ہو رہی ہے اور اس سال بارش کی کمی سے اس کی ری فلنگ بھی نہیں ہوپائی۔

زیر زمین پانی
 پاکستان میں زیر زمین پانی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور چھ سال کے دوران یہ اضافہ تیس لاکھ ایکڑ فٹ سالانہ ہوا ہے

پنجاب میں کاشتکاروں کی ایک تنظیم کے عہدیدار اور زرعی ماہر
ابراہیم مغل کا کہنا ہے کہ تین دریا ستلج بیاس اور راوی کا پانی بھارت کے حوالے کردینے کے بعد یہ دریا نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور ان کاجوپانی زیر زمین رستا تھا وہ اب نہیں رہا۔

دریائے راوی کے کنارے آباد شہر لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح چار فٹ سالانہ کے حساب سے گر رہی ہے اور جہاں پانی ڈیڑھ دو سو فٹ گہرائی پر مل جاتا تھا وہاں اب چھ سو فٹ کے بعد پینے کے قابل پانی ملتا ہے۔

پانی کی قلت سے پنجاب کی زراعت پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور زرعی پیداوار میں کمی کا خطرہ پیدا ہوچلا ہے۔

محمد ابراہم مغل کہتے ہیں کہ ملک کی ستر فی صد سے زائد برآمدات کا انحصار چاول اور کپاس کی فصل پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کپاس کی کاشت یکم مئی سے تیس مئی تک کی جاتی ہے لیکن پانی کی قلت کی وجہ سے ابھی تک تیس فی صد کاشت بھی نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ ’بیس مئی تک چاول کی پنیری کے لیے اراضی ہموار ہونی چاہیے لیکن پانی کا نام و نشان نہیں ہے جس کی وجہ سے خاص طور پر چھوٹا کسان پریشان ہے‘۔

پانی کی قلت کا اثر بجلی کی پیداوار پر بھی پڑا ہے شہری لوگ گرمی سے پریشان ہیں تو دیہی علاقوں میں زراعت کے لیے ٹیوب ویلوں کو چلانے کی دقت ہوگئی ہے۔

ابراہم مغل کہتے ہیں کہ ’جب بجلی ہی نہیں ہے تو ٹیوب ویل کیسے چلیں گے‘؟

ڈیرہ غازی خان میں پینے کے پانی کی قلت کی وجہ سے ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی احتجاجی مظاہرہ ہوجاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک تو زیر زمین پانی مزید نیچے چلاگیا ہے اور دریائے سندھ سے پانی لانے کے لیے ٹیوب ویل، بجلی کے محتاج ہیں جو پانی کے ساتھ ہی روٹھ جاتی ہے۔

پاکستان میں بجلی اور پانی کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے واپڈا کے چئیرمین طارق حمید نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی قلت سے بجلی کی پیداوار میں گیارہ سو میگا واٹ کی کمی ہوئی ہے تاہم انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ شمالی علاقہ جات اور سکردو میں درجہ حرارت بڑھ جانے سے برف پگھلے گی اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا۔

ممبر واٹر چودھری مشتاق نے اعداد وشمار کے ذریعے یہ ثابت کیاکہ دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھ چکاہے تاہم بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بارشوں کی کمی کی وجہ سے زرعی زمین کو پانی کم ملا ہے جس کی وجہ سے انہیں نہری پانی کی زیادہ ضرورت ہے اور حکام کو زیادہ پانی چھوڑنا پڑ رہا ہے جو پھر بھی ضرورت پوری نہیں کر پا رہا۔

ضرورت پوری نہیں ہو رہی
 بارشوں کی کمی کی وجہ سے زمین کو پانی کم ملا ہے جس کی وجہ سے انہیں نہری پانی کی زیادہ ضرورت ہے اور زیادہ پانی چھوڑنا پڑ رہا ہے جو پھر بھی محکمہ ضرورت پوری نہیں کر پا رہا

راول جھیل اور خانپور ڈیم میں پانی تقریبا خشک ہو چلاہے۔

حکام کا کہنا ہے پانی کے ذخائر کم ضرور ہوئے ہیں لیکن حالات اتنے خراب نہیں کہ اسے بحران کا نام دیا جائے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ سندھ طاس معاہد ے کے تحت تین دریاؤں راوی ستلج اور بیاس کے پانی کے استعمال پر انڈیا کو پورا اختیار حاصل ہے تاہم پاکستان کو ان دریاؤں کا وہ پانی نہیں ملا جسے عام حالات میں فاضل قرار دے کر پاکستان آنے دیا جاتا ہے۔

واپڈا حکام کے مطابق ان تین دریاؤں سے اب بھی اسی لاکھ ملین ایکڑ فٹ پانی ملتا ہے جس میں اس سال بہت زیادہ کمی ہوئی ہے۔

بہاولنگر میں مقامی اخبار کے نامہ نگار شفیق خان نے بتایا کہ وسیع علاقے کو سیراب کرنے والی فوڈا نہر اس سال ایک ماہ کی بجائے پانچ ماہ تک بند رکھی گئی ہے۔

حکام کے دعوے اور تاویلیں اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ پانی کی قلت کا شکار ہیں ۔

پنجاب واٹر کونسل کی ترجمان رابعہ سلطان سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی زیادہ برف پگھلنے کی وجہ سے پانی کا بحران پیدا نہیں ہوگا؟

تو ان کا جواب تھا کہ اس سال بیس سے پچیس فی صد تک کم برف پڑی ہے تو جب برف ہی کم ہے تو پھر جتنی بھی پگھل جائے کمی کو پورا نہیں کرپائے گی۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملک شدید قسم کی خشک سالی کا شکار
ہونے والا ہے

پاکستان کے حکام اس بات پر آس لگائے بیٹھے ہیں کہ پندرہ جون سے موسم برسات کی بارشوں کا آغاز ہوتے ہیں یہ بحران ختم ہوجائے گا تاہم اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ کپاس اور چاول کی بیجائی میں ہونے والے موجودہ نقصان کی تلافی ہوپائےگی یا نہیں اور یہ کہ اگر پندرہ جون کی بارشیں میں تاخیر ہوگئی تو ان لوگوں کا کیا بنے گا جنہیں پانی کی قلت نے ابھی سے شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد