BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 March, 2006, 01:40 GMT 06:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھاشا ڈیم، رائلٹی اور آئینی حقوق

پہاڑوں سے نکلتا ہوا ایک دریا
’صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک کو درپیش آبی قلت اور توانائی کے مسائل کے خاتمے کے لیے نئے بڑے ذخیرہ آب بنانے اور ان سے بجلی پیدا کرنے کے عزائم اور اقدامات اپنی جگہ، تاہم کالا باغ کی طرح بھاشا ڈیم پر بھی لوگوں کے خدشات اور تحفظات دور نہیں ہوئے ہیں۔

’اگرچہ شمالی علاقہ جات کے لوگوں کی تشویش کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے گزشتہ ماہ اپنے اس بڑے آبی منصوبے کو بھاشا کے بجائے ’بھاشا دیامر ڈیم‘ کا نام تو ضرور دے دیا ہے، لیکن ابھی تک متنازع گردانے جانے والے اس خطے کے باسیوں میں یہ تشویش موجود ہے کہ آئین میں ترمیم کے بغیر حکومتِ پاکستان ڈیم کی رائلٹی کی مد میں کس طرح شمالی علاقہ جات کو ادائیگی کرنے کی پابند ہوگی اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ صوبہ سرحد اپنی جغرافیائی حدود کا صرف ایک فیصد اس ڈیم میں شامل ہونے کے سبب رائلٹی کے ضمن میں یہاں کے لوگوں کا استحصال نہیں کرے گا۔‘

چلاس میں مجوزہ ڈیم سے کچھ فاصلے پر دریائے سندھ کے پُر شور بہاؤ والے کنارے پر کھڑے محمد اسماعیل خان نے یہ باتیں بڑے ناراض لہجے میں کی۔ ورلڈ ماؤنٹین فورم میں گزشتہ برس ایشیا پیسیفک سے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن منتخب ہونے والے اسماعیل خان کا تعلق اسکردو کے ایک نواحی گاؤں سے ہے اور شمالی علاقہ جات کے دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی ڈیم کی تعمیر کے مخالف نہیں ہیں، البتہ ان کا موقف بھی سندھ میں کالا باغ ڈیم کے ناقدین سے مختلف نہیں ہے۔ سندھ میں لوگوں کو کالا باغ ڈیم سے نہریں نکال کر پنجاب کو سیراب کیے جانے کا خدشہ ہے تو شمالی علاقہ جات کے باشندوں کو صوبہ سرحد سے خطرات لاحق ہیں۔

سندھ ہو یا شمالی علاقہ جات، ایک بات دونوں میں مشترک ہے۔ وفاقی حکومتِ پاکستان پر دونوں میں سے کوئی ایک بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔

رائلٹی ملے گی؟
 شمالی علاقہ جات تو آئینی طور پر پاکستان کا حصہ بھی نہیں ہے، مگر پھر بھی ہم یہ قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آئین میں ترمیم اور ہمیں تسلیم کیے بغیر رائلٹی بہ آسانی مل جائے گی؟
طالبِ علم حمید بلتستانی
صدر جنرل مشرف نے اس سال جنوری کے اوائل میں بھاشا ڈیم کے قیام کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے چند ہفتوں بعد ہی حکومت نے شمالی علاقہ جات کے لوگوں کے احتجاج پر اس کا نام تبدیل کرکے ’بھاشا دیامر ڈیم‘ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ نام کی تبدیلی احسن فیصلہ ہے، البتہ ڈیم سے وابستہ سنجیدہ اقدامات کے متقاضی معاملات کو حکومت ہاتھ بھی نہیں لگارہی ہے۔ ڈیم کے اعلان سے لے کر اب تک شمالی علاقہ جات کے صلح جُو، شیریں گفتار اور دھیمے مزاج کے باسیوں میں غصہ بھی ہے اور خدشات بھی۔ سخت سرد موسم بھی جذبات کی اس شدت کو کم نہیں کرسکا ہے۔

حمید بلتستانی طالبِ علم اور اسکردو کے باشندے ہیں۔ عالمی تعلقات و سیاسیات ان کا موضوع ہے، لیکن اپنے علاقے کے بارے میں بھی ان کی معلومات کم نہیں ہیں۔ مقامی قہوہ خانے میں سبز چائے کی چسکیاں بھرتے ہوئے اس نوجوان کا ڈیم کے بارے میں کہنا تھا!

’دیامر ضلع میں اس ڈیم کے بننے سے32گاؤں زیرِ آب آجائیں گے۔ ان تمام گاؤں کی مجموعی آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تو26ہزار ہے لیکن درحقیقت یہ 42ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان لوگوں کے بے گھر ہونے کے علاوہ ہزاروں کنال وہ زمین بھی تہہِ آب آجائے گی، جس کی کاشت پر ان لوگوں کی زندگیوں کا انحصار ہے۔ بات یہں پر نہیں رکتی۔ شاہراہِ قراقرم کا لگ بھگ125 کلومیٹر طویل حصہ بھی متاثر ہوگا‘۔

وادئ اسکردو کا ایک منظر
حمید اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں: ’صوبہ سرحد میں تربیلا ڈیم کے متاثرین اب تک حکومت کی جانب سے عدم بحالی پر نالاں ہیں تو ہم کیسے یقین کرلیں کہ ہمارے متاثرین کی درست طریقے سے دوبارہ آباد کاری کی جائے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات تو آئینی طور پر پاکستان کا حصہ بھی نہیں ہے، مگر پھر بھی ہم یہ قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آئین میں ترمیم اور ہمیں تسلیم کیے بغیر رائلٹی بہ آسانی مل جائے گی اور جب تک ہماری متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوتی، ہمارے لیے آئین میں کس طرح ترمیم ہوگی اور کیا اس کی مستقل حیثیت برقرار بھی رہ پائے گی؟‘

سن 1973 میں تکمیل کے بعد متعدد بار ترامیمی عمل سے گذرنے والے آئینِ پاکستان کی شق161 کی ذیلی شق2 میں تحریر ہے کہ وفاق ملک کے کسی بھی پن بجلی گھر سے ہونے والی آمدنی کا حصہ اس صوبے کو ادا کرے گا کہ جہاں پر وہ بجلی گھر واقع ہوگا۔

بھاشا دیامر ڈیم کے حوالے سے مقامی دانشور و سیاسی کارکن احد جان کا کہنا ہے کہ ’اس ڈیم کا صرف ایک فیصد رقبہ صوبہ سرحد کے بھاشا گاؤں پر مشتمل ہے اور اقدامات کیے جارہے ہیں کہ بجلی گھر وہیں بنے۔ یوں اس ڈیم سے ہونے والی آمدنی تو سرحد کو ہی ملے گی، کیونکہ وہ پاکستان کا ایک صوبہ ہے اور آئین میں اس کی گنجائش بھی ہے۔ شمالی علاقہ جات کو تو پاکستان کا حصہ ہی نہیں مانا گیا ہے، یوں ہمیں تشویش ہے کہ99 فیصد رقبہ دیے جانے کے باوجود بھی آئینی ترمیم کے بغیر ہم رائلٹی کے حقدار نہیں ٹھہریں گے۔‘

اسماعیل کہتے ہیں: ’بات صرف ڈیم کی رائلٹی تک ہی محدود نہیں۔ اصل سوال حقوق کا ہے۔ بھاشا دیا مر ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن ہم سے کسی نے نہیں پوچھا۔ دریائے سندھ ہماری حدود میں سے گزرتا ہے۔ اس دریا کے پانی پر پاکستانی معیشت اور باشندوں کا بڑی حد تک انحصار ہے، لیکن دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے نگراں ادارے ’انڈس ریور سسٹم اتھارٹی‘ میں ہماری کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ زندگی کے ہر شعبے کا یہی حال ہے۔ ہم کچھ نہیں مانگتے۔ بس ہمیں پاکستانی تسلیم کرو، ہمیں ہمارا حق دو۔ آخر ہم بھی تو پاکستانی ہیں۔‘

اسی بارے میں
جہانگیرہ میں ڈیم مخالف ریلی
29 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد