جہانگیرہ میں ڈیم مخالف ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ منصوبے کالا باغ ڈیم کی مخالف میں جمعرات کو ایک مرتبہ پھر تین صوبوں کی سیاسی جماعتوں نے صوبہ سرحد میں جہانگیرہ کے مقام پر ایک بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی جس میں اس کی تعمیر ہر قیمت پر روکنے کا اعلان کیا گیا۔ جلسے میں ایک دلچسپ پیش رفت پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) کی اس میں شرکت جبکہ مسلم لیگ (ن) کی غیرموجودگی تھی۔ صوبہ سرحد میں کالا باغ ڈیم کی سب سے بڑی مخالف جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اس ریلی کا انعقاد کیا تھا اور اسی کا رنگ اس پر غالب تھا۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنے اپنے پرچم اٹھا رکھے تھے جس سے پنڈال کافی رنگین ہوگیا تھا۔ جلسے میں صوبہ سرحد، بلوچستان اور سندھ کی تمام ڈیم مخالف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) مرکزی حکومت میں وزارت داخلہ کا اہم قلمدان اپنے پاس رکھتی ہے اور اب تک کالا باغ ڈیم پر اس کا موقف قدرے غیرواضح تھا۔ اس جماعت کے مرکزی رہنما میاں مظفر شاہ نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ اس منصوبے سے متعلق تمام سرکاری رپورٹیں غلط ہیں اور اس منصوبے سے نہ بجلی ملے گی اور نہ پانی بلکہ صوبہ سرحد کا اس میں صرف نقصان ہی ہے۔ پی پی پی (شیرپاؤ) کا کہنا ہے کہ لوگوں کے خدشات دور کیے بغیر اس منصوبے کا اعلان نہیں ہونا چاہیے۔ مبصرین اس شرکت کو صدر پرویز مشرف کی اتفاق رائے کی کوششوں کو ایک دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی غیرموجودگی کی وجہ واضح نہیں ہوسکی ہے۔ اس جماعت کے صوبائی رہنماؤں نے چند روز قبل ہی اس احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا کہ جماعت کی مرکزی قیادت نے جس کا تعلق پنجاب سے ہے انہیں اس مظاہرے میں شرکت سے منع کیا ہو۔ اس احتجاج میں جسے کئی مبصرین ڈیم مخالفین ’طاقت کا مظاہرہ‘ بھی قرار دے رہے ہیں صوبہ سرحد میں حکمراں مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام کے فضل الرحمان اور سمیع الحق گروپ کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور اپنی مخالفت کے عزم کو دہرایا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی نے اس موقع پر اپنی پشتو تقریر میں کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان اعلان جنگ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باچہ خان کے نقش قدم پر چلنے والے اس منصوبے کو روکنے کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ’آج جوش کا دن بھی ہے اور ہوش کا بھی۔ آج تک ہماری جنگ حقوق کی تھی۔ ہمارے بھوکے بچوں کو بچانے کی جنگ تھی لیکن ہمیں اب کہا جا رہا ہے کہ تمارے بچوں کو بھی ہم دریا میں ڈبوں دیں گے تاکہ مسلہ ہی ختم ہو جائے۔ اب یہ جنگ بقا کی جنگ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ گھر سے نکل چکے ہیں اور اب ایک جنرل کو اپنا فیصلہ واپس لینے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے اور ان کے پاس اب صرف دو راستے ہیں یا تو دیوار سے لگانے والے کے پاؤں پکڑ لیں یا اس کا گریبان۔ ’میرا ہاتھ تو گریبان تک ہی جا سکتا ہے۔‘ دیگر سیاستدانوں نے بھی اس منصوبے کی بھرپور مخالفت کی اور اس کی تعمیر کسی قیمت پر نہ ہونے کے عہد کو دہرایا۔ جلسے سے خطاب میں بلوچستان کے سینیٹر ثناء اللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا فوجی کارروائی اور بمباری کی زد میں بلوچوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے پشتونوں کے ساتھ ہیں۔ جلسے میں منظور کی گئی قرار داد میں کالا باغ ڈیم کو ملک کی تباہی کا منصوبہ قرار دیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے سرحد کی زرخیز زمین سیم و تھور کا شکار ہوجائے گی۔ قرار داد میں الزام لگایا گیا کہ اس ڈیم سے فوج چولستان کے علاقے میں اپنی اراضی کے لئے پانی کا بندوبست کرنے کے لئے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ایک اور قرار داد میں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ جلسے میں جو چار گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا تقاریر پر زیادہ اور نعروں پر کم توجہ دی گئی۔ مصروف جی ٹی روڈ پر جہانگیرہ چوک کے مقام پر جمعرات کے روز اس ریلی کے انعقاد کی وجہ سے تمام دن ٹریفک متاثر رہی اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ | اسی بارے میں ’کالا باغ پر بھاشا کو فوقیت دی جائے‘28 December, 2005 | پاکستان نوشکی، حب اور سبی میں دھماکے29 December, 2005 | پاکستان کالاباغ کی مخالفت، بھاشا کی حمایت29 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: احتجاجی تحریک کا اعلان 29 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں وبا بھیلنے کی اطلاع29 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم کا اعلان جلد ہوگا: مشرف29 December, 2005 | پاکستان نوشکی بم حملہ، تین افراد زخمی29 December, 2005 | پاکستان کالاباغ: امریکہ سے درخواست 29 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||