BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 December, 2005, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: احتجاجی تحریک کا اعلان

بلوچستان آپریشن
بلوچیوں کے مطابق فوجی آپریشن میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں

کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی اور کالا باغ ڈیم کے خلاف بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر کوہلو سے آج کسی فوجی کارروائی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

جمہوری وطن پارٹی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی پاکستان، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندوں نے مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ حکمران کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن فوراً بند کریں، کالاباغ ڈیم کا منصوبہ ترک کریں اور بلوچستان میں لیویز کی جگہ پولیس مسلط کرنے کا کام روکا جائے۔

جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے اسلام آباد کے مظاہرے میں بلوچستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کے پارلیمانی نمائندے شرکت کریں گے۔

اس کے علاوہ پانچ جنوری کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے اور آٹھ جنوری کو بلوچستان کی تمام ضلعی اسمبلیوں کے سامنے مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے بلوچستان میں ستائیس تاریخ کی ہڑتال کو حکومتی پالیسوں کے خلاف ریفرنڈم قرار دیا ہے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں جبکہ کوہلو کے علاقوں سے کسی تازہ فوجی کارروائی کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کے علاوہ گزشتہ رات مچھ کے علاقے میں دو دھماکے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دھماکہ حاجی بشیر کے گھر کے قریب ہوا ہے۔ حاجی بشیر کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

بلوچستان آپریشن
ہلاک ہونے والوں میں بچوں بھی شامل ہیں

اسی طرح دو روز پہلے پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو مسافر کوچ سے اتار کر گولی مار دی گئی تھی۔ گزشتہ دنوں سیکیورٹی فورسز کے ترجمان نے کہا تھا کہ کوہلو کے علاقے میں چھ کیمپوں پر فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔

کوہلو کے ناظم انجینیئر علی گل مری نے کہا ہے کہ اگر کیمپوں پر فورسز نے قبضہ کر لیا ہے تو پھر کوہلو میں راکٹ کون داغ رہا ہے؟ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ترقی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ مقامی اور بلوچستان کے لوگوں کی ترقی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ فوجی کارروائی میں نہ تو ان سے کچھ پوچھا گیا ہے اور نہ ہی انھیں کچھ بتایا گیا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

کارروائی یا منصوبہ؟
بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ
سلام صاحب۔۔۔۔
کاہان اور تلی میں لوگ سہمے ہوئے ہیں: صحافی
جام محمد یوسفبلوچستان بٹ گیا
بلوچستان کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر بٹ گیا
آپریشن کی تیاری
بلوچستان میں فوجی آپریشن کی تیاری جاری
اسی بارے میں
مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے
14 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد