بھاشا ڈیم: نام اور رائلٹی پر تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر اور صوبہ سرحد کے ضلع کوہستان کے درمیان بھاشا ڈیم کے نام اور رائلٹی پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ دونوں اضلاع کے لوگ اس ڈیم کی رائلٹی پر اپنے حق کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خدشات دور نہ ہونے کی صورت میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں بھاشا ڈیم پر فروری سے کام کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ یہ ڈیم شمالی علاقہ اجات اور صوبہ سرحد کے سرحدی علاقے میں تعمیر کیا جانا ہے۔ اس اعلان کے بعد سے ضلع دیامر اور کوہستان کے نمائندوں کے درمیان اس منصوبے کے نام اور رائلٹی پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ دعوی کوہستان سے صوبائی وزیر مال مولانا عصمت اللہ اور ضلع ناظم ڈاکٹر سیف الرحمان سمیت کئی سابق اراکین پارلمینٹ نے آج پشاور میں پیش کیا۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عصمت اللہ کا کہنا تھا کہ اس ڈیم کا پاور ہاؤس چونکہ ان کے ضلع میں تعمیر ہوگا لہذا اس کی رائلٹی پر ان کا حق بنتا ہے۔ اس بارے میں انہوں نے انیس سو پچپن کے ایک سرکاری اعلامیے کا ذکر کیا جس کے مطابق ضلع کوہستان کی حد ضلع دیامر کی مشہور وادی کھنبری نالہ کے سامنے تک ہے۔ ان کے مطابق دونوں اضلاع کی پولیس اور انتظامی کنٹرول بھی اس حد بندی کی توثیق کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ بھاشا ڈیم بھاشا گاؤں کے مقام پر بن رہا ہے لہذا یہ نام ہی اس کے لئے مناسب ہے۔ ’بھاشا ڈیم کا نام سروے ٹیم نے بیس بائیس برس قبل تجویز کیا تھا۔ اس اب اگر وفاقی حکومت نے کسی دباؤ میں آکر تبدیل کرنے کی کوشش کی تو یہ ہمارے لئے نا قابل قبول ہوگا۔’ صوبائی وزیر نے گزشتہ روز مقامی آبادی کا موقف جاننے کے لئے وزیر مملکت برائے پانی و بجلی امیر مقام کے دورہ دیامر چلاس پر تنقید کی اور کہا کہ کوہستان کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔ ’یہ ہمارے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔’ مولانا عصمت اللہ نے کہا کہ کوہستان کے لوگ بھاشا ڈیم کے مخالف نہیں لیکن چونکہ ڈیم ان کی سرزمین پر تعمیر کیا جا رہا ہے لہذا انہیں اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ’دوسری صورت میں لوگ سخت مایوسی کا شکار ہوکر مشتعل ہونگے۔ اس سے ایک شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے جس پر قابو پانا انتہائی مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔’ مولانا عصمت اللہ کا کہنا تھا کہ ڈیم کی تعمیر سے کوہستان کے پندرہ سے بیس ہزار افراد متاثر ہونگے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ یہ موقف صرف ان کے ضلع کا نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا بھی ہے۔ ضلع دیامر کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ڈیم چونکہ ان کے علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے لہذا اس کا نام بھاشا سے تبدیل کرکے دیامر ڈیم رکھا جائے۔ مبصرین کے خیال میں وفاقی حکومت کو ڈیم کی تعمیر شروع کرنے سے قبل مقامی افراد کی شکایات اور خدشات ضرور دور کر لینی چاہیے۔ | اسی بارے میں ’پہلے بھاشااور منڈا ڈیم بنیں گے‘ 17 January, 2006 | پاکستان کالاباغ کی مخالفت، بھاشا کی حمایت29 December, 2005 | پاکستان ’کالا باغ پر بھاشا کو فوقیت دی جائے‘28 December, 2005 | پاکستان کالاباغ سے پہلے بھاشا اور منڈا ڈیم18 January, 2006 | پاکستان قوم پرستوں کو بھاشا بھی نامنظور17 January, 2006 | پاکستان بھاشا کی رائلٹی بھی متنازعہ19 January, 2006 | پاکستان کالاباغ سے پہلے بھاشا اور منڈا: اخبار کیا کہتے ہیں19 January, 2006 | پاکستان بھاشا ڈیم پر بھی خدشات کا اظہار 25 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||