BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 January, 2006, 17:27 GMT 22:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھاشا کی رائلٹی بھی متنازعہ
امان اللہ خان
ان کا کہنا ہے کہ ڈیم کے سلسلے میں علاقے کے لوگوں سے رائے نہیں لی گئی
خود مختار کشمیر کی حامی ایک اہم تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ بھاشا ڈیم سے منسوب امکانی طور پر تعمیر کیے جانے والے ڈیم کی رائلٹی گلگت بلتستان کے لوگوں کو دی جائے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں کالا باغ اور بھاشا ڈیم سمیت پانچ نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی اس منصوبے کے بارے میں مخلفانہ آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کا بھاشا سے منسوب یہ ڈیم متازعہ کشمیر کے علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔

امان اللہ خان نے جن کا تعلق گلگت سے ہے کہا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے نتیجے میں دیامر کے لوگوں کی زمینیں، گھر اور عمارتیں زیر آب آئیں گی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پانی و بجلی کے وزیر لیاقت جتوئی نے حال ہی میں ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ اس ڈیم کی رائلٹی پاکستان کے صوبہ سرحد کو دی جائے گی جو امان اللہ خان کے مطابق گلگت بلتسان کے لوگوں کے ساتھ ایک اور نا انصافی ہوگی۔

جے کے ایل ایف کے رہنما نے کہا کہ اس ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں دیامر کے لوگ بے گھر ہوں گے اور وہ اپنی جائیدادوں سے محروم ہو جائیں گے لہٰذا امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی رائلٹی کے حقدار گلگت بلتستان کے لوگ ہیں اور ان ہی کو رائلٹی دی جانی چاہیے۔

امان اللہ خان کو اس ڈیم کے نام پر بھی اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیم دیامر میں تعمیر کیے جانے کا منصوبہ ہے لیکن اس کا نام صوبہ سرحد کے گاؤں بھاشا کے نام پر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ایسا اس لیے کیا ہے تا کہ صوبہ سرحد کے لوگوں کو اس کی رائلٹی دی جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھاشا ڈیم کا نام تبدیل کرکے دیامر کے نام پر رکھا جائے۔ امان اللہ خان نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو اس صورت میں کشمیری مقامی اور بین الااقوامی سطح پر آواز بلند کریں گے۔

گلگت بلتستان میں بھی اس منصوبے کے بارے میں مخلفانہ آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ شمالی علاقے کی قانون ساز کونسل کے بعض اراکین نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں علاقے کے عوام کی رائے نہیں لی گئی ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد