کالا باغ ڈیم: رخ اب سرحد کی طرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت نے متنازعہ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے کی جاری کوششوں کے سلسلے میں صوبہ سندھ کے بعد اب صوبہ سرحد کا رخ کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے صوبائی دارلحکومت پشاور میں گزشتہ دو روز تک اس مسئلہ پر صوبائی حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں اور سیاستدانوں کے علاوہ صحافیوں سے بھی بات چیت کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر کافی مختصر دوروں پر پشاور آتے رہے ہیں۔ اس تازہ اور تفصیلی میل ملاپ کا بظاہر مقصد صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ پشاور سے پہلے سرحد میں رائے عامہ کی نبض دیکھنی تھی۔ خیال ہے کہ صدر بھی بہت جلد اس سلسلے میں پشاور کا دورہ کریں گے۔ صحافیوں سے جمعہ کو بات چیت میں شیخ رشید نے سوالات کے جوابات کم اور ان کے معیار پر زیادہ بات کی۔ اکثر سوالات پر جوکہ خدشات زیادہ تھے انہوں نے یہ کہہ کر نظر انداز کر دیے کہ یہ پرانی باتیں ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ کوئی نئی بات سامنے لائیں۔ اس بارے میں سوالات، خدشات اور اعتراضات تو وہیں ہیں جو پہلے دن سے اس منصوبے کے بارے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔ کئی لوگوں کے خیال میں اصل مسئلہ شاید حکومت کی جانب سے تسلی بخش جوابات کا نہ ملنا ہے۔ وفاقی وزیر اور مرکزی حکومت کے ترجمان شیخ رشید احمد کے پاس ایسے سوالات کے جوابات نہیں تھے کہ صوبے میں پیدا ہونے والی بجلی پر رائلٹی اور خالص منافع میں حصے جیسے معاملات میں نہ تو آئینی ضمانت اور نہ وفاقی حکومت کی یقین دہانیاں آج تک کام آئیں اور مسئلہ جوں کا توں کھڑا ہے تو کالا باغ ڈیم پر کون کس کی ضمانت کا اعتبار کرے۔ ایک اور سوال جو یقینا سندھ میں بھی کئی مرتبہ اٹھایا جا چکا ہے اور اٹھایا جاتا رہے گا وہ ہے تین صوبائی اسمبلیوں کی کالا باغ مخالف قرار دادیں۔ اس کا جواب انہوں نے کہا آپ صدر سے لیں۔ اس آبی منصوبے کے بارے میں جو بداعتمادی کی فضا موجود ہے وہی حال سرحد میں بھی ہے۔ اس کی نوعیت اور وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں لیکن اس کا حاصل نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ان کے ذہن میں اس منصوبے کے اعلان کے بارے میں ڈیڈلائن انتہائی واضح ہے لیکن وہ اس کا اعلان نہیں کریں گے کیونکہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ اس مسئلہ پر لوگ اپنے
البتہ یہ وضاحت وہ نہیں کر سکے کہ اتفاق رائے کی عدم موجودگی میں وہ یہ کیسے کر پائیں گے۔ عوامی سطح پر تو اتفاق رائے کی پہلی کوشش یعنی اخبارات میں اشہتارات کے ذریعے کالا باغ ڈیم کی حمایت کے لیے راستہ ہموار کرنے کے منصوبے کو پہلے روز ہی بند کر دیا گیا۔ اس کی بظاہر وجہ سندھی اخبارات کی جانب سے ان اشتہارات کو شائع نہ کرنے کا فیصلہ تھا۔ لیکن شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ مہم صرف ایک روز کی ہی تھی۔’ہمارا مقصد حاصل ہوگیا۔ تمام قوم نےاس کے خلاف اور حمایت میں لکھنا شروع کردیا۔ اب یہ تو نہیں کہ اشتہار روز ہی دیا جائے۔ یہ حکومت کا موقف تھا جو ہم نے عوام کے سامنے رکھ دیا‘۔ شیخ رشید نے اعتراف کیا کہ وہ لوگوں کے پچاس سال پرانے موقف تبدیل کرنے جا رہے ہیں اور اس میں وقت ضرور لگےگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے تین اعتراضات کو وفاقی حکومت ضرور دور کرے گی۔ اب اس میں کتنا وقت لگتا ہے یا وفاقی حکومت کتنا انتظار کرسکتی ہے اس کا جواب بھی شاید مرکزی حکومت کے ہی پاس ہے۔ فیصلے اسی نے کرنے ہیں۔ اب وہ سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے یا نہیں اس سوال کا جواب ہی مستقبل کی صورتحال واضع کرے گا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||