کالاباغ: مشترکہ مفاد کونسل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے متنازعہ کالا باغ ڈیم سمیت آبی ذخائر کی تعمیر کا معاملہ آئینی ادارے ’مشترکہ مفادات کی کونسل‘ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم وزیر اطلاعات شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اتفاق رائے قائم کرنا مشکل ہے اس لیے اکثریتی رائے سے ہی نئے آبی ذخائر کی تعمیر کا فیصلہ ہوگا۔ یہ فیصلہ سنیچر کے روز وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے طویل اجلاس میں تفصیلی غور کے بعد کیا گیا۔ صدر سے کہا گیا ہے کہ وہ کونسل تشکیل دے دیں۔ شیخ رشید احمد کے مطابق یہ کونسل آٹھ برس بعد دوبارہ تشکیل دی جارہی ہے۔ آئینِ پاکستان کی شق ایک سو تریپن کے مطابق پانی اور قدرتی وسائل کے متعلق وفاق اور صوبوں کے درمیان یا پھر صوبوں کے درمیان پانی کے منصوبوں کے بارے میں اختلاف رائے کی صورت میں کوئی بھی فریق معاملہ ’مشترکہ مفادات کی کونسل‘ میں پیش کرسکتا ہے۔ یہ کونسل صدر تشکیل دیتے ہیں اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اس کےممبر ہوتے ہیں جبکہ چار اراکین وفاقی حکومت نامزد کرتی ہے۔ آئین کے مطابق وزیراعظم کے رکن ہونے کی صورت میں وہ اس کونسل کے چیئرمین ہوں گے، بصورت دیگر اس عہدے کے لیے صدر کسی بھی رکن کو نامزد کریں گے۔ یہ کونسل اکثریت رائے سے فیصلہ کرسکتی ہے اور اس کے باوجود بھی اگر کسی فریق کو اعتراض ہو تو معاملہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جاسکتا ہے اور مجلس شوریٰ کا فیصلہ حتمی تصور ہوتا ہے۔ وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتایا کہ متنازعہ آبی ذخائر کے بارے میں اتفاق رائے حاصل کرنا مشکل ہے اس لیے اب وہ اکثریتی رائے کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ واپڈا کے ماہرین نے کابینہ کو بریفنگ دی اور چھ گھنٹے اس پر تفصیلی بحث کی گئی۔ ان کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے وزراء نے کھل کر اپنے تحفظات اور خدشات اظہار کیا۔ وزیر کے مطابق واپڈا کے ماہرین چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی کالا باغ سمیت تمام آبی ذخائر کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ شیخ رشید نے دعوٰی کیا کہ بھاشا، کالا باغ، منڈا اور اکھوڑی کے مقامات پر چار ڈیم بنانے ہوں گے۔ تاہم پہلےکون سا ڈیم بنے اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے دعوٰی کیا کہ ستمبر سن دوہزار پانچ میں لگائے گئے اندازے کے مطابق کالا باغ ڈیم کی کل لاگت چھ ارب دس کروڑ ڈالر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سے نہریں نکالنے یا نہ نکالنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق سندھ کا مطالبہ ہے کہ نہریں نہ نکالی جائیں۔ بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کچھ خفیہ بیرونی ہاتھ اس میں ملوث ہیں۔ لیکن اس بارے میں تفصیل بتانے سے انہوں نے گریز کیا اور کہا کہ سفارتی معاملوں میں اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں گولی کا جواب گولی سے ہی دے گی۔ | اسی بارے میں کالا باغ ڈیم نے زلزلہ بھلا دیا31 December, 2005 | پاکستان کالاباغ: امریکہ سے درخواست 29 December, 2005 | پاکستان سینیٹ: کالاباغ کے مسئلہ پر تلخی30 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم کا اعلان جلد ہوگا: مشرف29 December, 2005 | پاکستان کالاباغ کی مخالفت، بھاشا کی حمایت29 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||