BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 May, 2006, 04:24 GMT 09:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدترین خشک سالی کا خطرہ

خشک سالی ( فائل فوٹو)
بلوچستان میں ابھی سے خشک سالی کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے ہیں: پاکستان محکمہ موسمیات
پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس برس کم بارشیں ہونے کے سبب ملک کو سنگین خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمر الزمان کے مطابق ملک میں گزشتہ کئی ماہ سے بارشیں نہیں ہوئی ہیں اور آئندہ بھی دو ماہ تک بارشیں ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ان کے مطابق بلوچستان میں ابھی سے خشک سالی کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے ہیں اور اگلے چند ماہ میں صورتحال نہایت گمبھیر ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے حکومت کو ایک تحریری درخواست میں کہا ہے کہ ملک کے دو بڑے آبی ذخائر منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے لہذا پانی کا استعمال انتہائی احتیاط سے کیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے بجلی اور پانی کے وزیر لیاقت جتوئی نے چند روز پہلے ملک میں پانی کی قلت کے بارے میں کہا تھا کہ یہ چند روز میں دور ہو جائے گی کیونکہ پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے شروع ہو گئے ہیں۔

تاہم محکمہ موسمیات نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ ملک میں پانی آئندہ چند روز میں وافر مقدار میں موجود ہو گا۔

محکمہ موسمیات نے گزشتہ ماہ کی چار تاریخ کو اس بارے میں وفاقی زراعت کمیٹی کو بریفنگ دی تھی جس میں ملک میں ممکنہ خشک سالی کا پہلی بار خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

ملک میں بڑے شہروں میں درجہ حرارت بڑھنے کے بعد سے پانی کی شدید قلت ہوتی جا رہی ہے اور چھوٹے ڈیموں، جن میں وفاقی دارالحکومت کو پانی سپلائی کرنے والا راول ڈیم بھی شامل ہے، میں پانی کی سطح خطرے کے نشان تک پہنچ گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس برس سردیوں کے موسم میں بارشیں چالیس فی صد تک کم ہوئی ہیں اور موسم گرما میں بھی بارشیں چالیس سے پچاس فی صد کم ہونے کی توقع ہے۔

ڈاکٹر قمر الزمان کے مطابق موسم گرما میں اس برس شدت رہے گی اور مئی کے آخری دو ہفتوں اور اگلے ماہ یعنی جون میں شدید گرمی ہو گی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں درجہ حرارت ابھی سے بیالیس ڈگری سینٹری گریڈ تک پہنچ گیا ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی گرمی کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے سے وزارت خوراک و زراعت کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اگلے ماہ کے اواخر تک بلوچستان اور سندہ میں دس لاکھ سے زائد افراد کو خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

وزارت خوراک کے کمشنر ڈاکٹر قادر بلوچ کے مطابق اس برس کپاس کی فصل کا ہدف حاصل کرنے کے لیئے پوری کوشش کی گئی مگر بارشیں کم ہونے کے سبب اب کپاس کا ہدف ایک بہت بڑا چیلنج لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ خشک سالی کے باعث مویشیوں کو بھی شدید نقصان ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں اس سے قبل انیس سو ننانوے سے دو ہزار ایک تک خشک سالی آئی تھی جس نے بلوچستان اور سندھ کے کئی علاقوں میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا تھا۔

اسی بارے میں
واپڈا: خشک سالی کی وارننگ
26 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد