آلودہ پانی : متاثرین بڑھ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد میں آلودہ پانی کے متاثرین کی تعداد بڑھتی چلی جار ہی ہے اور مقامی انتظامیہ کے مطابق کم از کم ساڑھے تین ہزار بچوں بڑوں اور بوڑھوں نے سرکاری ہپستالوں سے رجوع کیا ہے جبکہ ایک محتاط اندازے کےمطابق نجی ہسپتالوں اور کلینکوں سے بھی تقریباً اتنے ہی افراد نے علاج کرایا ہے۔ حکام نے اب تک اگرچہ پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن مقامی ذرائع ابلاغ یہ تعداد بارہ تک بتا رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اصل تعداد معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدھ اور جمرات کو فیصل آباد کی ڈیڑھ لاکھ آبادی پر مشتمل غلام محمد آباد کالونی میں نلکوں میں آلودہ پانی آنے سے انتڑیوں اور معدے میں انفیکشن کی یہ بیماری پھوٹ پڑی تھی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ ضلعی رابط افسر اعظم سلیمان خان نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پینے کے پائپوں میں گٹر کے پانی کی آمیزش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے لوگ بیمار ہونا شروع ہوئے اس رپورٹ کی روشنی میں واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر کو تبدیل اور چار کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی رابطہ افسر کا دعوی ہے کہ اب نلکوں میں صاف پانی آرہا ہے لیکن متاثرین کی تعداد میں تیزی سے ہونے والا اضافہ انتظامیہ کے دعوی کی نفی کرتا نظر آرہا ہے۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ غلام محمد آباد کالونی کے نزدیکی سرکاری ہسپتال میں خیمے لگا کر بستر باہرمیدان میں رکھ دیئے گئےہیں۔ ایک ایک بستر پر چار چار بچے یا دو دو مریض لٹائے گئے اور انہیں گلوکوز کی ڈرپ لگائی جارہی تھی۔ ہسپتال کے باہر جماعتہ الدعوۃ کے میڈیکل کیمپ لگے تھے جنہیں پیر کے روز حکومت نے اکھاڑ دیا۔ ضلعی انتظامیہ نے ہیضہ سے بچاؤ کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت شہر میں برف کے گولے بیچنے پر پابندی لگا دی ہے تاہم ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رانا عمران نے بی بی سی کو بتایاکہ مریضوں کے طبی معائنے کی رپورٹوں سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ وبا ہیضہ سے نہیں ہے بلکہ بیکٹیریا کی وجہ انتڑیوں اور معدے میں پیدا ہونے والی سوزش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریض کو قے اور دست آتے ہیں اور اگر اسے فوری علاج نہ مل سکے تو جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ حالات ابھی تک قابو میں نہیں آسکے متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے مریضوں کی تعداد میں کل سے اچانک پانچ گنا اضافہ ہوا ہے مقامی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔انہوں نے بتایاکہ سنیچر کو چوبیس گھنٹے کے دوران جنرل ہپستال میں ایک سو باسٹھ مریض آئے تھے اور اس سے اگلے چوبیس گھنٹوں میں چھ سو افراد آئے۔ انہوں نے کہا بظاہر یہ معاملہ صرف اور صرف گٹر کے پانی کو پینے سے ہو رہا ہے۔انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ پانی کے پائپ عرصہ دراز سے تبدیل نہیں ہوئے اور اب زنگ آلود ہوکر ناکارہ ہوتے رہے ہیں۔ ایک مقامی سماجی کارکن میاں اقبال نے کہا ہے یہ آبادی انیس سو ترپن میں قائم ہوئی تھی اور اسی موقع پر پائپ بچھائے گئے تھے جو اپنی معیادسے پچیس تیئس سال زیادہ گزار چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس سال مریضوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے لیکن ہر سال اسی طرح لوگ بیمار ہوتے ہیں چند دم بھی توڑ جاتے ہیں۔ وہ ہر سال حکام کو درخواستیں دیتے ہیں اور انہوں نے واسا کے ایس ڈی او سے لیکر وزیراعلی پنجاب تک ہر دورازہ کھٹکھٹایا لیکن کبھی ان پائپوں کو بدلنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ضلعی رابطہ افسر نے بتایا کہ ایک ہفتے پہلے آنے والی آندھی طوفان میں بجلی منقطع ہوگئی اور جن ٹیوب ویلوں سے دریائے چناب کا پانی فلٹر کرکے فیصل آباد پہنچایا جاتا تھا وہ دو روز بند رہے نکاسی آب بھی نہیں ہوئی اور نالیوں کا پانی اونچا ہوکر پینے کے پائپوں تک پہنچ گیا اور جب دو روزکے وقفے کے بعد خالی پائپوں میں پانی گیا تو وہ ساتھ آلودہ پانی بھی لیتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ پائپ جہاں جہاں سے ٹوٹے ہیں وہاں سے ان کی مرمت کی جارہی اور اس کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کے فنڈ جاری کر دئیے گئے ہیں اس کے علاوہ بتیس کروڑ روپے سے پانی کی نئی لائنیں بچھائی جائیں گی۔ البتہ فیصل آبادکے متاثرین کا یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ تمام اقدام پانچ قیمتی جانوں کے ضائع ہونے اور ہزاروں افراد کے بیمار ہونے سے پہلے نہیں اٹھائے جائے سکتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||