شاہجہان کی نہر اب گندہ نالہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں گرمی کی ابتداء ہوتے ہی سینکڑوں بچے شہر کی ہسلی نہر میں نہاتے نظر آتے ہیں جبکہ شہر میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے ادارے واسا کا کہنا ہے کہ اس نہر میں کم سے کم چوالیس جگہوں پر سیوریج کا غلیظ پانی ڈالا جاتا ہے۔ لاہور جنرل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ضیاللہ چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے مریض آرہے ہیں جو گندی نہر اور شہر کے پانچ چھ دوسرے آلودہ تالابوں میں نہانے کی وجہ سے جلد کی خارش، سوجن، فنگس کے انفیکشن، آنکھوں کی جلن، ٹائیفائڈ، پیچش اور پیٹ کے دوسرے امراض جیسے گیسٹرو انٹرائٹس کا شکار ہیں۔ لاہور کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں جیسے میو، سروسز، گنگا رام، چلڈرن ہسپتال وغیرہ کے اعداد وشمار کے مطابق اس ماہ پیٹ کے امراض کے شکار مریضوں کی تعداد میں پچاس فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ شاید پونے چار سو سال پرانی تاریخ کی حامل ہسلی نہر سے لاہور کے شہریوں کی وابستگی اتنی زیادہ ہے کہ اس کے سیوریج میں تبدیل ہوجانے کے باوجود ہزاروں لوگ اس میں نہانے سے گریز نہیں کرتے۔ لاہور کے مؤرخین کے مطابق یہ نہر کسی زمانے میں شہر کی فصیل سے پانچ میل دور تھی اور چھاؤنی اور شہر کے درمیان سے گزرنے والی اس نہر کا نام ہسلی نہر تھا۔
سنہ سولہ سو تینتیس میں مغل بادشاہ شاہجہان کے عہد میں شالامار باغ کے انجینئر علی مردان نے باغات کے فواروں، درختوں ارو پودوں کو پانی دینے کے لیے یہ نہر راوی دریا سے نکالی تھی۔ اس زمانے میں یہ نہر شالامار باغات کی زرعی اراضی بھی سیراب کرتی تھی۔ بعد میں نہر کی چوڑائی اور رُخ میں تبدیلیاں آتی رہیں۔ سکھ حکمران رنجیت سنگھ کے عہد میں لاہورکی نہر سے ایک شاخ نکالی گئی تاکہ سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل کے تالاب کو پانی مہیا کیا جاسکے۔ اٹھارہ سو اکیاون میں انگریز حکمرانوں نے اس نہر کو چوڑا کیا اور اس کےکنارے پختہ کیے۔ اس وقت یہ نہر دریائے راوی سے نکلنے والی لوئر باری دو آب سے نکلتی تھی اور واہگہ سے موہلنوال تک اس کی لمبائی اسًی کلومیٹر تھی۔ جب پاکستان بنا تو بھارت نے دریائے راوی کا پانی مادھو پور ڈیم بنا کر روک لیا۔ پاکستان نے سرحد کے ساتھ ساتھ بی آر بی نہر نکالی جسے دریائے چناب سے پانی مہیا کیا گیا۔ اس بی آر بی نہر سے لاہور کی نہر کو بھی پانی فراہم کیا گیا۔ گویا راوی کے کنارے آباد لاہور شہر کی اس نہر میں راوی کی بجائے چناب کا پانی دوڑتا ہے۔ شہر کی آبادی بڑھی اور نہر کے ساتھ ساتھ آبادیاں بن گئیں تو اس میں سیوریج کا گندا پانی ڈالا جانے لگا۔ واسا کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق جلو موڑ سے ہربنس پورہ تک نہر میں چھ جگہوں پر گندا پانی ڈالا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک سیوریج سوزو واٹر پارک کا اور پانچ نئی رہائشی آبادیوں کے ہیں۔ نہر میں سب سے زیادہ گندگی ہربنس پورہ سے دھرم پورہ تک کے علاقےمیں ڈالی جاتی ہے جہاں صوبائی محکمہ انہار کے دفاتر اور رہائشی کالونیوں کے سیوریج کا پانی کم سے کم تیس مقامات پر اس میں گرتا ہے۔
ٹھوکر نیاز بیگ سے موہلنوال تک (جہاں نہر ختم ہوجاتی ہے) اس نہر میں مختلف کارخانوں کا آلودہ پانی کم سے کم آٹھ مقامات پر نہر میں گرتا ہے۔ واسا لاہور کا کہنا ہے کہ نہر میں گرنے والے چوالیس مقامات کے گندے پانی کو نہر کے متوازی ایک سیوریج بچھا کر اس میں ڈالا جائے گا جسے ایک ڈسپوزل سٹیشن کے ذریعے جی ٹی روڈ کے نالے میں گرایا جائے گا۔ واسا نے نہر کے متوازی ساٹھ انچ قطر کے سیوریج بچھانے کا کام شروع کردیا اور اس کےلیے دس کروڑ روپے کے ٹھیکے بھی جاری کردیے گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہجہان کے عہد میں بننے والی یہ ہسلی نہر دوبارہ ایک صاف ستھرے پانی کی نہر میں کتنے عرصہ میں بحال ہوسکے گی جس میں نہانے والے لاہور کے ہزاروں لوگوں کو متعدد بیماریوں لاحق ہونے کا خدشہ نہ رہے۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت03 May, 2006 | پاکستان پانی کی بیماریاں، ہلاکتوں میں اضافہ16 February, 2006 | پاکستان ’آبپاشی کے لیئے پانی کی قلت ہے‘19 April, 2006 | پاکستان پاکستان: پانی کے مسائل کا خطرہ15 May, 2006 | پاکستان آلودہ پانی : متاثرین بڑھ گئے22 May, 2006 | پاکستان سرحد میں پانی کی قلت22 May, 2006 | پاکستان کراچی: آلودہ پانی سے 70 افراد بیمار24 May, 2006 | پاکستان فیصل آباد میں آلودہ پانی 26 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||