پانی کی بیماریاں، ہلاکتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر صحت محمد نصیر خان نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں صرف وفاقی حکومت کے چار ہسپتالوں میں ایک سو چالیس افراد پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ وقفہ سوالات کے لیئے یاسمین رحمٰن کے سوال کے پیش کردہ تحریری جواب میں وزیر نے بتایا کہ یہ صرف اسلام آباد اور کراچی کے چار ہسپتالوں میں درج شدہ مرنے والوں کی تعداد ہے۔ تاہم دیگر صوبائی اور نجی ہسپتالوں میں اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ وزیر کا کہنا ہے کہ ان چار وفاقی ہسپتالوں میں گزشتہ چار برسوں میں پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے کل دس ہزار آٹھ سو سے زیادہ مریض داخل کیے گئے۔جبکہ غیر داخل شدہ مریضوں کی تعداد حکومت معلومات میں نہیں بتائی گئی۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ معلومات سے لگتا ہے کہ پاکستان میں آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ ایسی صورتحال میں ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ حکومت اس بارے میں احتیاطی تدابیر کرے بصورت دیگر یہ بیماریاں وبائی صورت اختیار کرسکتی ہیں۔ وزیر صحت نے ایک سوال پر ایوان کو بتایا کہ ڈاکٹر اور پروفیسروں کی ایک سو پانچ اسامیاں خالی پڑی ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں پر کرنے کے لیے کوشش کررہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں عام مریضوں کو اکثر نہ صرف ادویات نہ ملنے کی شکایات ہوتی ہیں وہاں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کی بھی شکایات رہتی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی ساڑھے پندرہ کروڑ سے زیادہ آبادی میں سے چالیس فیصد کو بمشکل صاف پینے کے پانی کی سہولت میسر ہے۔ | اسی بارے میں چربی سے امراضِ دل کا اعلاج07 March, 2004 | نیٹ سائنس مریضوں کےاعضاء کاٹنے کاعمل 27 October, 2005 | پاکستان زلزلےسےمتاثرہ ذہنی مریضوں میں اضافہ10 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||