چربی سے امراضِ دل کا اعلاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کے خیال میں دورانِ خون کے امراض کا مریض کی چربی کے خلیوں سے علاج ممکن ہو سکتاہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی چربی میں پائے جانے والے خلیے خون کی نئی نالیوں کے بننے میں تیزی پیدا کرتے ہیں جس سے جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن کی فراہمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح ان خلیوں کو دِل کے مریضوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جلیس رحمان نے کہا کہ ’بہت سےلوگ میں خون کی نئی نالیاں پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور رگوں میں رکاوٹ کی صورت میں وہ قدرتی طور پر خون کی کمی ازالہ کر دیتی ہیں۔ ڈاکٹر جلیس نے کہا کہ اس نئی تحقیق سے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جو خون کی نالیاں نہیں پیدا کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کے ذریعے اُن لوگوں کے علاج کا بھی امکان ہے جن کی خون کی گردش میں کمی کی صورت میں ٹانگیں کاٹنی پڑ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر کیتھ مارچ کا کہنا تھا کہ مذکورہ طریقے سے راتوں رات علاج ممکن نہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ خلیے خون کی نالیاں پیدا کر سکتے جو آکسیجن کو دل یا ٹانگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||