BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 September, 2006, 18:57 GMT 23:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد: زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی

کم خوش قسمت متاثرین ہیں جنہیں ابتدائی 25 ہزار کا چیک دیا گیا ہے
آٹھ اکتوبر کے زلزلہ سے متاثرہ صوبہ سرحد کے پانچ اضلاع کے متاثرین نے امدادی سرگرمیوں بالخصوص ’ایرا‘ اور ’پیرا‘ کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور امدادی ادارے دعوؤں اور اعلانات کی بجائے متاثرین کی بحالی کاکام مکمل کریں۔

جمعرات کو پشاور میں غیر سرکاری تنظیم سلام تحریک کے امیر مولانا وصی الرحمان اور زلزلے سے متاثرہ بٹ گرام ، ایبٹ آباد، شانگلہ ، مانسہرہ اور کوہستان اضلاع کے نمائندوں نے مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحالی اور امدادی سرگرمیوں کے ذمہ دار ادارے ’ایرا‘ اور ’پیرا‘ نے متاثرین کو مکمل طور پر مایوس کردیا ہے اور بقول ان کے ان اداراوں کے قیام کی وجہ سے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرا اور پیرا سمیت تمام حکومتی ادارے امدادی و بحالی کے کاموں میں ناکام ہوگئے ہیں اور مزکورہ علاقوں میں متاثرین کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دی جارہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایرا، پیرا اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر خُرد برد کی اطلاعات مل رہی ہیں اور ان اداروں کے اہلکاروں نے متاثرین کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شلٹر ہومز کی تعمیر میں استعمال ہونے والی جستی چادروں کی کوالٹی انتہائی خراب ہے جس کی وجہ سے چادروں کو زنگ لگنا شروع ہوگیا ہے جبکہ خیمہ بستیوں اور سکولوں کی تعمیر میں بھی کروڑوں کرپشن کی گئی ہے۔

کتنے متاثرین کو چیک نہیں ملے؟
 کم خوش قسمت متاثرین ہیں جنہیں ابتدائی 25 ہزار کا چیک دیا گیا ہے جبکہ حقیقت ہے کہ 99 فیصد سے زائد متاثرین کو اب تک یہ امدادی چیک بھی نہیں دیا گیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت متاثرین کو امدادی چیک دینے کے عمل میں بہت زیادہ تکلیف دی جارہی ہے اور کم خوش قسمت متاثرین ہیں جنہیں ابتدائی 25 ہزار کا چیک دیا گیا ہے جبکہ حقیقت ہے کہ 99 فیصد سے زائد متاثرین کو اب تک یہ امدادی چیک بھی نہیں دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزکورہ امدادی چیک کے بعد حکومتی اعلان کے مطابق مکانات کی تعمیر کےلیئے 75 ہزار روپے کی دوسری قسط بھی نہیں دی گئی جس کے بعد تیسری قسط 75 ہزار روپے ملنے کی امید تقریناً ختم ہوچکی ہے۔

متاثرین نے تجویز پیش کی کہ ایرا اور پیرا جیسے اداروں کی کوئی ضرورت نہیں لہذا ان اداروں کو فی الفور ختم کرے، وفاقی صوبائی اور ضلعی محکموں کے ذریعے بحالی اور امداد کاکام کیا جائے۔

آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو آنے والے ہولناک زلزلہ کو اگلے ماہ ایک سال پورا ہو رہا ہے۔ اس تباہ کن زلزلے میں ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔

اب سروئرز کے جھٹکے
زلزلہ متاثرین کو جھٹکوں پر جھٹکے
زلزلہ متاثرین بٹگرام: تین ہلاک
زلزلہ متاثرین میں امداد پر تنازعہ
زلزلہ زدگانزلزلہ زدگان کے لیے
بحالی کا نیا صوبائی منصوبہ
زلزلہ: امدادی چیک
زلزلہ زدگان کو چیک تو ملے، پیسے نہیں مل رہے
متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
زلزلے سے متاثرہ پچےزلزلہ زدہ علاقے
بچوں کو سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد