رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | کم خوش قسمت متاثرین ہیں جنہیں ابتدائی 25 ہزار کا چیک دیا گیا ہے |
آٹھ اکتوبر کے زلزلہ سے متاثرہ صوبہ سرحد کے پانچ اضلاع کے متاثرین نے امدادی سرگرمیوں بالخصوص ’ایرا‘ اور ’پیرا‘ کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور امدادی ادارے دعوؤں اور اعلانات کی بجائے متاثرین کی بحالی کاکام مکمل کریں۔ جمعرات کو پشاور میں غیر سرکاری تنظیم سلام تحریک کے امیر مولانا وصی الرحمان اور زلزلے سے متاثرہ بٹ گرام ، ایبٹ آباد، شانگلہ ، مانسہرہ اور کوہستان اضلاع کے نمائندوں نے مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحالی اور امدادی سرگرمیوں کے ذمہ دار ادارے ’ایرا‘ اور ’پیرا‘ نے متاثرین کو مکمل طور پر مایوس کردیا ہے اور بقول ان کے ان اداراوں کے قیام کی وجہ سے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرا اور پیرا سمیت تمام حکومتی ادارے امدادی و بحالی کے کاموں میں ناکام ہوگئے ہیں اور مزکورہ علاقوں میں متاثرین کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایرا، پیرا اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر خُرد برد کی اطلاعات مل رہی ہیں اور ان اداروں کے اہلکاروں نے متاثرین کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شلٹر ہومز کی تعمیر میں استعمال ہونے والی جستی چادروں کی کوالٹی انتہائی خراب ہے جس کی وجہ سے چادروں کو زنگ لگنا شروع ہوگیا ہے جبکہ خیمہ بستیوں اور سکولوں کی تعمیر میں بھی کروڑوں کرپشن کی گئی ہے۔
 | کتنے متاثرین کو چیک نہیں ملے؟  کم خوش قسمت متاثرین ہیں جنہیں ابتدائی 25 ہزار کا چیک دیا گیا ہے جبکہ حقیقت ہے کہ 99 فیصد سے زائد متاثرین کو اب تک یہ امدادی چیک بھی نہیں دیا گیا ہے  |
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت متاثرین کو امدادی چیک دینے کے عمل میں بہت زیادہ تکلیف دی جارہی ہے اور کم خوش قسمت متاثرین ہیں جنہیں ابتدائی 25 ہزار کا چیک دیا گیا ہے جبکہ حقیقت ہے کہ 99 فیصد سے زائد متاثرین کو اب تک یہ امدادی چیک بھی نہیں دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزکورہ امدادی چیک کے بعد حکومتی اعلان کے مطابق مکانات کی تعمیر کےلیئے 75 ہزار روپے کی دوسری قسط بھی نہیں دی گئی جس کے بعد تیسری قسط 75 ہزار روپے ملنے کی امید تقریناً ختم ہوچکی ہے۔ متاثرین نے تجویز پیش کی کہ ایرا اور پیرا جیسے اداروں کی کوئی ضرورت نہیں لہذا ان اداروں کو فی الفور ختم کرے، وفاقی صوبائی اور ضلعی محکموں کے ذریعے بحالی اور امداد کاکام کیا جائے۔ آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو آنے والے ہولناک زلزلہ کو اگلے ماہ ایک سال پورا ہو رہا ہے۔ اس تباہ کن زلزلے میں ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔ |