BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 September, 2006, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنہیں زلزلہ اپاہج کر گیا

زلزلہ
سینکڑوں لوگوں کو زلزلے نے عمر بھر کے لیئے معذور بنا دیا۔
’ہسپتالوں سے جان چھوٹے تو کسی اور بات پر دھیان دیں۔ میں تو ایک سال سے ہسپتال کے بستر پر پڑا ہوں۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ اللہ نے اگر جان بچائی ہے تو میں ایک بھرپور زندگی ضرور گزاروں گا۔‘

یہ الفاظ ہیں پشاور میں ملک کے اپنی نوعیت کے واحد پیراپلیجک سینٹر میں زیر علاج محمد خالد کے۔ پینتیس سالہ خالد بھی ان تقریباً چار سو افراد میں شامل ہے جو گزشتہ برس آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے میں ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جانے سے نچلے آدھے دھڑ کے فالج کا شکار ہوئے ہیں۔

آٹھ اکتوبر کے دن جب صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر زلزلے کی صورت میں آسمان ٹوٹ پڑا تو ہزاروں لوگ تنکوں کی طرح گرتے مکانات کے ملبے تلے دب کر ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اس زلزلے نے ستر ہزار سے زائد افراد کی جان لی اور تقریباً اتنے ہی لوگوں کو زخمی کیا۔ لیکن ان زخمیوں میں سے سینکڑوں خالد جیسے بدقسمت ہیں جنہیں اس قدرتی آفت نے عمر بھر کے لیئے معذور بنا دیا۔

ویسے تو اس بابت کوئی باقاعدہ سروے نہیں ہوا لیکن ماہرین کے خیال میں ان ستر ہزار سے زائد زخمیوں میں تقریبا چار سو ایسے تھے جن کے ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچنے سے ان کے نچلے آدھے دھڑ فالج کا شکار ہوئے۔ ایسے مریضوں کے ظاہری زخم تو شاید بھر جائیں لیکن اس معذوری سے وہ تمام عمر کے لیئے پیچھا نہ چھڑا سکیں گے۔

ایسے ساٹھ مریض گزشتہ ایک برس کے دوران پیراپلیجک سینٹر میں زیر علاج رہے۔ یہ سب زلزلے کے فوراً بعد ابتدائی دنوں میں یہاں لائے گئے تھے اور کئی ماہ کے صبر آزماں علاج کے بعد اپنے اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔

چار سو میں سے صرف ساٹھ کا اس مرکز میں آنا، جوکہ خصوصی طور پر بنا ہی اسی کی دھائی میں افغانستان جنگ کے پیراپلیجک مریضوں کے لیئے تھا، کافی تعجب خیز بات دکھائی دیتی ہے۔ سینٹر کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالقیوم آفریدی نے بتایا کہ اس کی وجہ اس وقت ہنگامی حالت میں زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی لیجانا تھا۔ ’تمام ہیلی کاپٹر اسلام آباد سے آجا رہے تھے۔‘

ان مریضوں کے مسئلے کی سنگینی کے بارے میں ڈاکٹر قیوم آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو پھر اس کا علاج نہ پاکستان اور نہ ہی بیرون ملک ممکن ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی کامیابی کسی کو نہیں ملی ہے۔

اگرچہ اس سینٹر میں زیر علاج تمام مریض واپس جاچکے ہیں لیکن مختلف پیچیدگیوں کی وجہ سے ان میں سے بعض واپس بھی آئے ہیں۔ ان میں بالاکوٹ کے محمد خالد بھی شامل ہیں جو آٹھ اکتوبر سے قبل ماربل اور ٹائلیں لگانے جیسا سخت کام کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے لیکن اب ایک برس سے بستر تک محدود ہیں۔

 ’میرے زخم کافی بڑے بڑے تھے تو میں یہ سوچ کر چلا گیا کہ شاید اچھی آب و ہوا میں یہ زخم جلد بھر جائیں گے۔ یہ ہوا بھی اور میری صحت بھی بہتر ہوئی لیکن مناسب تربیت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ایک جگہ طویل مدت کے لیئے بیٹھے رہنے کی وجہ سے دوسرے زخم پیدا ہوگئے ہیں۔

وہ چند ماہ قبل ہسپتال چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے پاس بالاکوٹ چلے گئے تھے۔ ان سے مکمل صحتیابی کے بغیر ہسپتال سے چلے جانے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس کی بڑی وجہ پشاور کی گرمی تھی۔

’میرے زخم کافی بڑے بڑے تھے تو میں یہ سوچ کر چلا گیا کہ شاید اچھی آب و ہوا میں یہ زخم جلد بھر جائیں گے۔ یہ ہوا بھی اور میری صحت بھی بہتر ہوئی لیکن مناسب تربیت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ایک جگہ طویل مدت کے لیئے بیٹھے رہنے کی وجہ سے دوسرے زخم پیدا ہوگئے ہیں۔ ایک زخم بچانے کی خاطر دوسرا زخم ملا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بڑا زخم بہتر ہوا ہے۔‘

خالد کی ماں، بہن گھر میں اس کے ساتھ تھے جب زمین ہلی اور دونوں مارے گئے لیکن اس کا ایک بھائی جو دوکان پر تھا وہ بھی مبلہ تلے آ رہا۔ اس نے بھاری آواز میں کہا کہ بستر پر پڑے رہنے کی وجہ سے ملنے والے زخم تو اب تمام عمر ان کے ساتھ چلیں گے۔ ’زلزلہ تو ایک آزمائش تھی اللہ تعالی کی طرف سے۔ بس جان بچ گئی۔‘

دیکھ بھال کون کرے
 بہت سے ایسے مریض جن کے گھربار زلزلے میں تباہ ہوئے اور ان کی رہنے کی کوئی جگہ نہیں لہذا وہ ایک سال سے ہسپتالوں میں ہی پڑے ہیں۔ پیراپلیجک سینٹر کے فزیو تھراپسٹ محمد ظہور نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد اور دیگر کئی مقامات پر ہسپتالوں میں جا کر دیکھا ہے کہ آدھے دھڑ کے فالج کے سینکڑوں مریض آج بھی وہاں پڑے ہیں کیونکہ وہ واپس جائیں تو کہاں جائیں۔ ان کا گھر نہیں رہا ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ ایک سال میں ان کی زندگی کتنی تبدیل ہوئی ہے اس کا کہنا تھا کہ سب کچھ ہی بدل گیا ہے۔ جسم کے زخموں کے علاوہ اسے دل کے زخم بھی برداشت کرنے پڑے۔ گزشتہ برس عید کی بعد اس کی منگیتر سے شادی ہونی تھی جو اب شاید ممکن نہ ہو۔

اس کا کہنا تھا کہ پشاور کے لوگوں نے اس مشکل وقت میں اس کی بڑی مالی امداد کی ہے۔ ’ایک تو کام چلا گیا ہاتھ سے، دوسرا علاج اور اپنے خرچے بھی ہیں۔ لیکن عام لوگوں نے بہت مدد کی ہے۔‘

آئندہ کے بارے میں کیا سوچا ہے، اس بارے میں پیراپلیجک سینٹر کے ایک عام وارڈ میں پڑے خالد کا کہنا تھا: ’سب سے پہلے تو یہی ہے کہ یہ معذوری ختم، مطلب یہ معذوری تو رہے گی ذہنی طور پر تو میں تیار ہوگیا ہوں۔ کوئی ایسا کام کرنے کا سوچا ہے جو انسان کرسی پر بیٹھ کر بھی کرسکے۔ پہلے ہسپتالوں سے چھٹی تو ہوجائے پھر کچھ کرنا ہے۔‘

بہت سے ایسے مریض جن کے گھربار زلزلے میں تباہ ہوئے اور ان کی رہنے کی کوئی جگہ نہیں لہذا وہ ایک سال سے ہسپتالوں میں ہی پڑے ہیں۔ پیراپلیجک سینٹر کے فزیو تھراپسٹ محمد ظہور نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد اور دیگر کئی مقامات پر ہسپتالوں میں جا کر دیکھا ہے کہ آدھے دھڑ کے فالج کے سینکڑوں مریض آج بھی وہاں پڑے ہیں کیونکہ وہ واپس جائیں تو کہاں جائیں۔ ان کا گھر نہیں رہا ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔

ان مریضوں کے لیئے آٹھ اکتوبر تباہی کا نہیں بلکہ ایک انتہائی مشکل اور صبر آزماں زندگی کے آغاز کا دن تھا۔ ایک سال بعد بھی وہ اپنے آپ اور اپنے زخموں سے جنگ میں مصروف ہیں۔

زلزلے کے بعد
امدادی کاموں پر زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی
زلزلے کو بھلا دیا
میڈیا کی تمام تر توجہ کالاباغ ڈیم پر ہو گئی
زلزلہ زدہ خواتینزلزلہ:خواتین کا المیہ
خواتین سے زیادتی کے کئی واقعات کو دبا دیا
’ گئی جند‘
مہربانی ہے خاناں دی: ایک پاگل کی کہانی
بچےبردہ فروشی کا خطرہ
زلزلے کے بعد بچوں کو بردہ فروشوں سے خطرہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد