تعمیِر نو میں تاخیر، ملازمتوں میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں قدرتی آفت کے فورا بعد امدادی سرگرمیوں کے لیئے درجنوں کی تعداد میں جب غیرسرکاری تنظیموں نے ان علاقوں کا رخ کیا تو اس سے علاقے میں بڑی تعداد میں نوکریاں پیدا ہوئیں۔ لیکن امدادی مرحلے کے خاتمے اور تعمیر نو کے آغاز میں تاخیر سے ملازمتوں کی تعداد میں وقتی طور پر کمی آئی ہے۔ آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور ملبہ ہٹانے کے لیئے ہزاروں کی تعداد میں افراد کی ضرورت تھی۔ امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ علاقوں میں تیس ہزار ملازمتیں پیدا کیں۔ ملازمتوں کے اس طرح کے یقیناً بے پناہ مواقع پیدا ہوئے لیکن ماہرین کے مطابق یہ عارضی ملازمتیں تھیں۔ امدادی مرحلے کے خاتمے پر بڑی تعداد میں غیرسرکاری تنظیمیں واپس لوٹ گئیں جس سے متاثرہ علاقوں کے افراد پھر سے بے روزگار ہوگئے ہیں۔ مانسہرہ کے جمیل تنولی چار برسوں سے بے روزگار ہیں۔ ان کو ایک فائل بغل میں دبائے ایک غیرسرکاری تنظیم کے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹاتے دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔ تاریخ میں ایم اے کی ڈگری رکھنے والے جمیل نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران انہیں عارضی ملازمت ملی تھی لیکن اب وہ مستقل نوکری کی تلاش میں یہاں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع مانسہرہ کے پچاس فیصد بے روزگار نوجوانوں کو امدادی کارروائیوں کے سلسلے میں نوکریاں ملی تھی جبکہ اتنے ہی ابھی بھی بےروزگار ہیں۔ ان پچاس فیصد کی بے روزگاری کی ذمہ داری انہوں نے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں میں اقربا پروری اور سفارش کو قرار دیا۔ ’یہاں تو ٹیسٹ انٹرویو والی بات ہے نہیں۔ اکثر تعلقات پر بات چلتی ہے۔‘ مستقبل کے بارے میں جمیل کچھ زیادہ پُرامید نہیں تھے۔ ’ممکن ہے کوئی موقع مل جائے۔ لیکن جس انداز سے چل رہا ہے مجھے نہیں معلوم آگے کیا ہوگا’۔ گڑھی حبیب اللہ کے گل صنوبر کو شکایت تھی کہ زلزلے کے بعد تعمیراتی کاموں کے لیئے تو اب مزدور بھی میسر نہیں۔ ’ایک تو مہنگائی اور دوسرا اب دو اڑھائی سو میں بھی کام کے لیئے مزدور نہیں ملتا۔‘ ماہرین کے خیال میں ابتدائی ہنگامی حالات میں جو ملازمتوں میں بے انتہا اضافہ دیکھا گیا وہ اب یقینا کم ہوگا تاہم تعمیر نو کے آغاز سے ایک مستقل سطح پر آ کر رک جائے گا۔ یہ سطح توقع ہے کہ آئندہ چار پانچ برس تک برقرار رہے گی۔ صوبہ سرحد میں امدادی تنظیم آکسفیم کے پروگرام مینیجر ادریس خان سے ملازمتوں کی مجموعی صورتحال پر بات کی تو انہوں نے بتایا کہ امدادی مرحلے کے بعد اب امدادی تنظیمیں تعمیر نو کے لیئے منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ جب یہ مرحلہ شروع ہوگا تو تمام شعبوں خصوصاً تعمیرات کے شعبے میں بہت سی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا یہ سب ملازمتیں مقامی افراد سے پر ہوں گی یا باہر سے بھی لوگ لائے جائیں گے، تو ادریس کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا ہے۔ ’اس میں کسی حد تک تو مقامی سطح پر ملتے ہیں لیکن ہائی سکیلڈ لیبر یعنی انجینئر وغیرہ انہیں باہر سے لانے پڑتے ہیں۔‘ اب تک پیدا ہونے والے ملازمتوں کے مواقعوں میں کتنے فیصد مقامی اور کتنے باہر سے لائے گئے ہیں اس بارے میں کوئی باقاعدہ سروے موجود نہیں ہے۔ نہ کوئی ایسے اعداو شمار دستیاب ہیں جن سے یہ دیکھا جا سکے کہ اس تمام بحران کے دوران کتنی ملازمتیں پیدا ہوئیں اور ان میں سے کتنی مقامی اور کتنی باہر کے لوگوں کو ملیں۔ آوکسفیم کے محمد ادریس کا بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کوئی اعدادوشمار دینا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرسرکاری تنظیموں کو اگر مقامی سطح پر مناسب افراد ملتے ہیں تو وہ ان کو ترجیح دیتی ہیں لیکن اگر انہیں میسر نہیں تو پھر باہر سے ہی لانے پڑتے ہیں۔ ’حالانکہ اس سے ان پر اضافی بوجھ اس طرح پڑتا ہے کہ ان کی رہائش کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے اور باہر کے لوگوں کو مقامی حالات سے آگہی بھی نہیں ہوتی۔‘ متاثرہ علاقوں کی بحالی میں یہ ملازمتیں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں لیکن تعمیر نو کے بعد یہ لوگ کہاں جائیں گے اس پر بھی یقیناً غور کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں تودے گرنے سے بارہ زلزلہ متاثرین ہلاک24 July, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ خاندانوں کے لیئے بھینسیں26 July, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ علاقوں میں ہیضہ، 9 ہلاک07 August, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے 04 September, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیئے یورپی امداد21 September, 2006 | پاکستان امداد: زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی21 September, 2006 | پاکستان جنہیں زلزلہ اپاہج کر گیا29 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||