BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعمیِر نو میں تاخیر، ملازمتوں میں کمی

تعمیر نو کے بعد لوگ کہاں جائیں گے اس پر یقیناً غور کی ضرورت ہے
پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں قدرتی آفت کے فورا بعد امدادی سرگرمیوں کے لیئے درجنوں کی تعداد میں جب غیرسرکاری تنظیموں نے ان علاقوں کا رخ کیا تو اس سے علاقے میں بڑی تعداد میں نوکریاں پیدا ہوئیں۔ لیکن امدادی مرحلے کے خاتمے اور تعمیر نو کے آغاز میں تاخیر سے ملازمتوں کی تعداد میں وقتی طور پر کمی آئی ہے۔

آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور ملبہ ہٹانے کے لیئے ہزاروں کی تعداد میں افراد کی ضرورت تھی۔

امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ علاقوں میں تیس ہزار ملازمتیں پیدا کیں۔ ملازمتوں کے اس طرح کے یقیناً بے پناہ مواقع پیدا ہوئے لیکن ماہرین کے مطابق یہ عارضی ملازمتیں تھیں۔

امدادی مرحلے کے خاتمے پر بڑی تعداد میں غیرسرکاری تنظیمیں واپس لوٹ گئیں جس سے متاثرہ علاقوں کے افراد پھر سے بے روزگار ہوگئے ہیں۔ مانسہرہ کے جمیل تنولی چار برسوں سے بے روزگار ہیں۔ ان کو ایک فائل بغل میں دبائے ایک غیرسرکاری تنظیم کے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹاتے دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔

تاریخ میں ایم اے کی ڈگری رکھنے والے جمیل نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران انہیں عارضی ملازمت ملی تھی لیکن اب وہ مستقل نوکری کی تلاش میں یہاں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع مانسہرہ کے پچاس فیصد بے روزگار نوجوانوں کو امدادی کارروائیوں کے سلسلے میں نوکریاں ملی تھی جبکہ اتنے ہی ابھی بھی بےروزگار ہیں۔

ان پچاس فیصد کی بے روزگاری کی ذمہ داری انہوں نے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں میں اقربا پروری اور سفارش کو قرار دیا۔ ’یہاں تو ٹیسٹ انٹرویو والی بات ہے نہیں۔ اکثر تعلقات پر بات چلتی ہے۔‘

 امدادی مرحلے کے خاتمے پر بڑی تعداد میں غیرسرکاری تنظیمیں واپس لوٹ گئیں جس سے متاثرہ علاقوں کے افراد پھر سے بے روزگار ہوگئے ہیں

مستقبل کے بارے میں جمیل کچھ زیادہ پُرامید نہیں تھے۔ ’ممکن ہے کوئی موقع مل جائے۔ لیکن جس انداز سے چل رہا ہے مجھے نہیں معلوم آگے کیا ہوگا’۔

گڑھی حبیب اللہ کے گل صنوبر کو شکایت تھی کہ زلزلے کے بعد تعمیراتی کاموں کے لیئے تو اب مزدور بھی میسر نہیں۔ ’ایک تو مہنگائی اور دوسرا اب دو اڑھائی سو میں بھی کام کے لیئے مزدور نہیں ملتا۔‘

ماہرین کے خیال میں ابتدائی ہنگامی حالات میں جو ملازمتوں میں بے انتہا اضافہ دیکھا گیا وہ اب یقینا کم ہوگا تاہم تعمیر نو کے آغاز سے ایک مستقل سطح پر آ کر رک جائے گا۔ یہ سطح توقع ہے کہ آئندہ چار پانچ برس تک برقرار رہے گی۔

صوبہ سرحد میں امدادی تنظیم آکسفیم کے پروگرام مینیجر ادریس خان سے ملازمتوں کی مجموعی صورتحال پر بات کی تو انہوں نے بتایا کہ امدادی مرحلے کے بعد اب امدادی تنظیمیں تعمیر نو کے لیئے منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ جب یہ مرحلہ شروع ہوگا تو تمام شعبوں خصوصاً تعمیرات کے شعبے میں بہت سی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا یہ سب ملازمتیں مقامی افراد سے پر ہوں گی یا باہر سے بھی لوگ لائے جائیں گے، تو ادریس کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا ہے۔ ’اس میں کسی حد تک تو مقامی سطح پر ملتے ہیں لیکن ہائی سکیلڈ لیبر یعنی انجینئر وغیرہ انہیں باہر سے لانے پڑتے ہیں۔‘

اب تک پیدا ہونے والے ملازمتوں کے مواقعوں میں کتنے فیصد مقامی اور کتنے باہر سے لائے گئے ہیں اس بارے میں کوئی باقاعدہ سروے موجود نہیں ہے۔ نہ کوئی ایسے اعداو شمار دستیاب ہیں جن سے یہ دیکھا جا سکے کہ اس تمام بحران کے دوران کتنی ملازمتیں پیدا ہوئیں اور ان میں سے کتنی مقامی اور کتنی باہر کے لوگوں کو ملیں۔

آوکسفیم کے محمد ادریس کا بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کوئی اعدادوشمار دینا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرسرکاری تنظیموں کو اگر مقامی سطح پر مناسب افراد ملتے ہیں تو وہ ان کو ترجیح دیتی ہیں لیکن اگر انہیں میسر نہیں تو پھر باہر سے ہی لانے پڑتے ہیں۔ ’حالانکہ اس سے ان پر اضافی بوجھ اس طرح پڑتا ہے کہ ان کی رہائش کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے اور باہر کے لوگوں کو مقامی حالات سے آگہی بھی نہیں ہوتی۔‘

متاثرہ علاقوں کی بحالی میں یہ ملازمتیں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں لیکن تعمیر نو کے بعد یہ لوگ کہاں جائیں گے اس پر بھی یقیناً غور کی ضرورت ہے۔

متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
زلزلہ: امدادی چیک
زلزلہ زدگان کو چیک تو ملے، پیسے نہیں مل رہے
زلزلہ زدگانزلزلہ زدگان کے لیے
بحالی کا نیا صوبائی منصوبہ
اب سروئرز کے جھٹکے
زلزلہ متاثرین کو جھٹکوں پر جھٹکے
زلزلے کے بعد
امدادی کاموں پر زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی
متاثرین زلزلہزلزلہ کے 400 اپاہج
وہ جنہیں آٹھ اکتوبر کا زلزلہ فالج دے گیا
اسی بارے میں
زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے
04 September, 2006 | پاکستان
جنہیں زلزلہ اپاہج کر گیا
29 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد