پرانے خیمے نئی سردی، کیا مقابلہ ممکن ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سردی کی آمد آمد ہے لیکن ابھی تک اکثر متاثرین نئے مکانات تعمیر نہیں کر سکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ایسا لگتا ہے کہ دوسری سردی بھی خیموں میں ہی گزارنی پڑے گی۔ ایسے متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے خیمے دوسری سردی کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ میں زلزلے سے متاثرہ جس علاقے میں گیا، متاثرین کو اس خوف میں مبتلا پایا کہ آنے والی سردی میں ان کا کیا ہوگا۔ پہلی سردی تو انہوں نے جوں توں کرکے گزار لی دوسری کی تو وہ امید نہیں کر رہے تھے۔ انہیں جو خیمے فراہم کئیے گئے وہ ایک سردی تو برادشت کرسکتے ہیں شاید دوسری نہیں۔ بالاکوٹ میں گرلاٹ تحصیل کے محمد انور کا کہنا تھا کہ جب ان خیموں کے کناروں پر مٹی ڈالی جاتی ہے تو یہ گل جاتے ہیں۔ ’ایک دفعہ بارش ہوئی تو وہ گل جاتے ہیں’۔ محمد انور کی طرح دیگر تمام متاثرین بھی امداد کے دوسرے چیک کے منتظر ہیں تاکہ اپنے مکانات پر کام شروع کر سکیں۔ ’جب تک یہ رقم نہیں ملتی ہم تو انہی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں’۔ حاجی محمد معروف بالاکوٹ کے مقامی سماجی کارکن ہیں۔ ان سے اس مسئلے پر بات کی تو انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت سمجھتی ہے ان خیموں کو اب سردی برداشت کرنے کا تجربہ ہوگیا ہے اسی لیئے انہیں اب نئے کی ضرورت نہیں۔ ’یہ خیمے بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ اب جو بارش ان کے اوپر ہوگی وہی ان کے اندر بھی’۔ یونین کونسل بالاکوٹ کے ناظم سجاد احمد نے اعتراف کیا کہ خیمے تو پھٹ چکے ہیں۔ آئندہ سردی میں جو بارشیں ہوں گی اس میں ان میں گزارہ بہت مشکل ہوگا۔ ’جب تک تعمیر نو نہیں ہوتی حکومت کو اس کا خیال رکھنا ہوگا’۔ معاملے کی نزاکت کو جانتے ہوئے سعودی حکومت نے بالاکوٹ کے لیئے فوری طور پر پانچ ہزار پری فیب شیلٹر دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے بتدائی طور پر پچاس آئندہ چند روز میں نصب کئیے جانے ہیں۔ اس سے پچاس ہزار آبادی کے بالاکوٹ کے کچھ لوگوں کا مسلہ تو حل ہوگا لیکن باقی اردگرد کے علاقوں اور دیہات کے لیئے حکومت کیا منصوبہ رکھتی ہے ابھی اس بارے میں کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔ آٹھ اکتوبر کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں بچ جانے والے افراد کے لیئے سب سے بڑا چیلنج سر چھپانے کی جگہ کا انتظام کرنا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق تیس لاکھ افراد بےگھر ہوئے تھے۔ حکومت نے ابتدا میں جو خیمے دیئے وہ سردی کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے لہذا دوبارہ بہتر خیموں کا انتظام کیا گیا۔ مزید لاکھوں خیمے تقسیم ہوئے۔ لیکن زیادہ لوگوں کا خیال تھا کہ انہیں ان کی دوسری مرتبہ سرد موسم میں ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صرف پندرہ سے بیس فیصد لوگوں نے ہی اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کرنے شروع کیئے ہیں۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ موسم کا مقابلہ کرنے والے خیموں کی ضرورت متاثرین کو رہے گی۔ ایک بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیم آئی او ایم نے انتہائی متاثرہ سو یونین کونسلوں میں اس ماہ پناہ گاہوں کی ضرورت سے متعلق ایک سروے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سروے سے معلوم ہوسکے گا کہ سردی کے آنے سے قبل متاثرین کو کن چیزوں کی اشد ضرورت ہوگی۔ | اسی بارے میں ’سردی بہت ہے اور کیا بتائیں‘05 December, 2005 | پاکستان باغ: صرف پچیس فیصد خیمے تقسیم 28 October, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے24 October, 2005 | پاکستان ’خیمے ذخیرہ ہو رہے ہیں‘22 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||