BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی، نواز، مشرف میں کچھ بھی ممکن

بینظیر بھٹو، نواز شریف
بینظیر بھٹو اور نواز شریف بحیثیت حلیف ابھی اجنبی ہیں
ایک بے نام چینی مفکر کا قول ہے کہ زندگی میں اہم باتوں کی نسبت غیر اہم باتوں کو ہمیشہ زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی لندن میں حالیہ ملاقات نے بار بار اس قول کی یاد دلائی۔

ملاقات کے دوران اور اس کے فوراً بعد ہونے والے تجزیات و تبصرات نے اس ذریں قول کو ذرا گھاس نہ ڈالی۔

ٹکراؤ
 اپنے پورے خاندان کی سیاسی تاریخ کے پیش نظر بینظیر کبھی بھی پاکستان کی عسکری قیادت سے کوئی فیصلہ کن ٹکراؤ نہیں چاہیں گی۔ جبکہ نواز شریف 1993 میں پہلی بار اقتدار سے برطرفی سے لے کر اب تک فوجی قیادت سے مسلسل متصادم ہیں
صدر مشرف کے حامیوں نے سارے واقعہ کو ’ناکام سیاستدانوں کا کھیل کہہ کر رد کر دیا۔ صدر کے مخا لفوں نے کوئی خاص وجہ بتائے بغیر اسے نہایت اہم قرار دیا۔ ’ڈیل‘ کا ذکر رہا۔ محترمہ نے کہا ڈیل اور رابطوں میں فرق ہوتا ہے۔ محترم نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں نے اگلے انتخابات سے قبل واپس آنے کا عہد دہرایا۔

اس دوران دونوں رہنماؤں نے کئی بار ایک دوسرے کو دیکھا۔ مسکرائے بھی۔ ایک آدھ بار تو نواز شریف صاحب کی آنکھوں میں شفقت تک کا گمان ہوا۔ پاکستان کے نجی ٹیلیویژن چینلوں پر لندن ملاقات کی فوری جھلکیاں نا کافی تھیں سو یہ تاثر بالکل غلط بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر یہ صحیح ہے تو یہ ملاقات اتنی بے معنی بھی نہیں جتنی صدر صاحب کے حمایتی سمجھ اور سمجھا رہے ہیں۔ ضرورت صرف اہم باتوں سے ہٹ کر غیر اہم باتوں پر توجہ دینے کی ہے۔

بینظیر بھٹو اور نواز شریف بطور سیاسی حریف کے تو ایک دوسرے کو بخوبی جانتے ہیں مگر بطور حلیف تقریباً اجنبی ہیں۔ دونوں نے اپنے اپنے دور میں ایک دوسرے پر مفاد پرستی اور ملک دشمنی کے الزام لگائے۔ بات خاندانوں تک پہنچی۔ ایک کا باپ رسوا ہوا تو ایک کا شوہر۔

دور حکومت میں پالی گئی اس دشمنی کو ذائل ہوتے ہوتے سات سال کا ایک لمبا عرصہ لگا۔ لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی پیدا کردہ بداعتمادی بھی اس عرصہ میں گھل چکی ہے۔ خاص طور پر جب دونوں نے اپنے اپنے دور میں ’ڈیل‘ بھی کی ہے اور آج تک اس کا خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں۔

کچھ بھی ہو سکتا ہے
 گرینڈ الائنس اگر آج بن سکتا ہے تو اپنے منطقی انجام کو پہنچے بغیر ٹوٹ بھی سکتا ہے اور آج اگر بی بی- نواز اتحاد ہو سکتا ہے تو کل بی بی_مشرف یا نواز- مشرف اتحاد بھی ہو سکتا ہے۔ یہی تو ممکنات کا فن ہے
ظاہر ہے جب دونوں ملے تو اس پس منظر سے اٹھنے والے تمام سوالات بھی ان کے ذہن میں ہونگے۔ صرف نواز شریف ہی نہیں بینظیر بھی سوچ رہی ہونگی کہ ڈیل آخر ہے کیا؟ کیونکہ پاکستانی سیاست کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ ممکنات کا فن ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔گرینڈ الائنس اگر آج بن سکتا ہے تو اپنے منطقی انجام کو پہنچے بغیر ٹوٹ بھی سکتا ہے اور آج اگر بی بی - نواز اتحاد ہو سکتا ہے تو کل بی بی - مشرف یا نواز- مشرف اتحاد بھی ہو سکتا ہے۔ یہی تو ممکنات کا فن ہے۔

ایسے ہزاروں وسوسے دل میں لیے بینظیر بھٹو اور شریف مل تو رہے ہیں لیکن کیا وہ اپنے خدشات کا حل نکال سکیں گے؟

نواز شریف صاحب کی مسکراہٹ میں شفقت اور پیار کا عنصر بھی ایک طرح سے انہیں اندیشوں کی عکاسی کر رہا تھا۔

ان کی مسکراہٹ بی بی کے چہرے کے تاثرات سے ذرا ذیادہ بے لاگ شاید اس لیے بھی تھی کہ ان کے ہاتھ میں اپنی حریف کی نسبت بہت کم پتے ہیں۔ آخری انتخابی نتائج کے مطابق قریبا ً چالیس لاکھ کم۔ پھر ان کا جیل سے نکلنے کا طریقہ بھی اب تک ان کے حمایتیوں کے ذہنوں میں کھٹک رہا ہے۔ انہیں ایک قابلِ اعتماد اور طاقتور سیاسی دوست کی اشد ضرورت ہے جو ماضی کے داغ دھونے میں ان کا ساتھ دے۔

بینظیر محلاتی سازشوں میں منجھی ہوئی ایک ماہر سیاستدان ہیں اور نواز شریف سے روابط بڑھانے کے تمام خدوخال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ وہ چاہیں تو نواز شریف کو ایک سیاسی مہرے کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔

اس لحاظ سے دونوں کی موجودہ سیاسی سوچ میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔
اپنے پورے خاندان کی سیاسی تاریخ کے پیش نظر بینظیر کبھی بھی پاکستان کی عسکری قیادت سے کوئی فیصلہ کن ٹکراؤ نہیں چاہیں گی۔ جبکہ نواز شریف 1993 میں پہلی بار اقتدار سے برطرفی سے لے کر اب تک فوجی قیادت سے مسلسل متصادم ہیں۔ اپنی حلیف کے برعکس ان کے خاندان کو ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا اس لیے ان کی معصومیت بھی کافی حد تک برقرار ہے۔

اس طرح کے کئی اور پیچ و خم ہیں جن سے گزر کر بات گرینڈ الائنس اور مشرف مخالف تحریک تک پہنچے گی اور الیکشن میں ابھی سال سے زیادہ کا عرصہ ہے۔

لہذا بہتر یہی ہے کہ ماضی کے حریف اور مستقبل کے حلیفوں کے بیچ آہستہ آہستہ پروان چڑھنے والی محبت کے لیے فی الحال صرف دعا ہی کی جائے۔ ابھی اسے جمہوری یا اصولی پیمانوں سے ماپنے کا وقت نہیں آیا۔

اسی بارے میں
شہباز شریف نواز لیگ کے صدر
02 August, 2006 | پاکستان
’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘
19 October, 2006 | پاکستان
میثاق جمہوریت پر اوس پڑ گئی
20 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد