بی بی، نواز، مشرف میں کچھ بھی ممکن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بے نام چینی مفکر کا قول ہے کہ زندگی میں اہم باتوں کی نسبت غیر اہم باتوں کو ہمیشہ زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی لندن میں حالیہ ملاقات نے بار بار اس قول کی یاد دلائی۔ ملاقات کے دوران اور اس کے فوراً بعد ہونے والے تجزیات و تبصرات نے اس ذریں قول کو ذرا گھاس نہ ڈالی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے کئی بار ایک دوسرے کو دیکھا۔ مسکرائے بھی۔ ایک آدھ بار تو نواز شریف صاحب کی آنکھوں میں شفقت تک کا گمان ہوا۔ پاکستان کے نجی ٹیلیویژن چینلوں پر لندن ملاقات کی فوری جھلکیاں نا کافی تھیں سو یہ تاثر بالکل غلط بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صحیح ہے تو یہ ملاقات اتنی بے معنی بھی نہیں جتنی صدر صاحب کے حمایتی سمجھ اور سمجھا رہے ہیں۔ ضرورت صرف اہم باتوں سے ہٹ کر غیر اہم باتوں پر توجہ دینے کی ہے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف بطور سیاسی حریف کے تو ایک دوسرے کو بخوبی جانتے ہیں مگر بطور حلیف تقریباً اجنبی ہیں۔ دونوں نے اپنے اپنے دور میں ایک دوسرے پر مفاد پرستی اور ملک دشمنی کے الزام لگائے۔ بات خاندانوں تک پہنچی۔ ایک کا باپ رسوا ہوا تو ایک کا شوہر۔ دور حکومت میں پالی گئی اس دشمنی کو ذائل ہوتے ہوتے سات سال کا ایک لمبا عرصہ لگا۔ لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی پیدا کردہ بداعتمادی بھی اس عرصہ میں گھل چکی ہے۔ خاص طور پر جب دونوں نے اپنے اپنے دور میں ’ڈیل‘ بھی کی ہے اور آج تک اس کا خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں۔
ایسے ہزاروں وسوسے دل میں لیے بینظیر بھٹو اور شریف مل تو رہے ہیں لیکن کیا وہ اپنے خدشات کا حل نکال سکیں گے؟ نواز شریف صاحب کی مسکراہٹ میں شفقت اور پیار کا عنصر بھی ایک طرح سے انہیں اندیشوں کی عکاسی کر رہا تھا۔ ان کی مسکراہٹ بی بی کے چہرے کے تاثرات سے ذرا ذیادہ بے لاگ شاید اس لیے بھی تھی کہ ان کے ہاتھ میں اپنی حریف کی نسبت بہت کم پتے ہیں۔ آخری انتخابی نتائج کے مطابق قریبا ً چالیس لاکھ کم۔ پھر ان کا جیل سے نکلنے کا طریقہ بھی اب تک ان کے حمایتیوں کے ذہنوں میں کھٹک رہا ہے۔ انہیں ایک قابلِ اعتماد اور طاقتور سیاسی دوست کی اشد ضرورت ہے جو ماضی کے داغ دھونے میں ان کا ساتھ دے۔ بینظیر محلاتی سازشوں میں منجھی ہوئی ایک ماہر سیاستدان ہیں اور نواز شریف سے روابط بڑھانے کے تمام خدوخال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ وہ چاہیں تو نواز شریف کو ایک سیاسی مہرے کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں کی موجودہ سیاسی سوچ میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ اس طرح کے کئی اور پیچ و خم ہیں جن سے گزر کر بات گرینڈ الائنس اور مشرف مخالف تحریک تک پہنچے گی اور الیکشن میں ابھی سال سے زیادہ کا عرصہ ہے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ ماضی کے حریف اور مستقبل کے حلیفوں کے بیچ آہستہ آہستہ پروان چڑھنے والی محبت کے لیے فی الحال صرف دعا ہی کی جائے۔ ابھی اسے جمہوری یا اصولی پیمانوں سے ماپنے کا وقت نہیں آیا۔ | اسی بارے میں اعتدال پسند ماحول ضروری ہے: بےنظیر20 August, 2006 | پاکستان ’میثاق جمہوریت امید کی کرن‘02 July, 2006 | پاکستان شہباز شریف نواز لیگ کے صدر 02 August, 2006 | پاکستان ’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘19 October, 2006 | پاکستان جمہوریت کا تختہ الٹنے پر یوم سیاہ05 July, 2006 | پاکستان میثاق جمہوریت پر اوس پڑ گئی20 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||