BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 October, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میثاق جمہوریت پر اوس پڑ گئی

سابق وزرائے اعظم نواز شریف، بے نظیر
دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں پہلے والی گرم جوشی نظر نہیں آئی۔
پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کے درمیان جمعرات کے روز بالآخر وہ ملاقات ہوگئی جس کا چرچا کئی ہفتوں سے جاری تھا۔

توقع کے مطابق اس ملاقات سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ اگرچہ ملاقات کے اختتام پر ہونے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے کسی اختلاف کا عندیہ نہیں دیا تاہم بیانات کے بین اسطور گرم جوشی کی بجائے رسمی اظہار کا رنگ نمایاں رہا۔

اس ناکامی کا تعلق دونوں رہنماؤں کی صلاحیت یا نیت سے نہیں کیونکہ پاکستان میں سیاست اور اقتدار کے مہرے اسی طرح سجائے جاتے ہیں کہ آئینی طریقہ کار اور سیاسی عمل کے تسلسل کے بجائے انہونی، سازش اور بے یقینی کی فضا طاری رہتی ہے۔

ایسی صورتحال میں پہل کاری کا موقع سیاسی رہنماؤں کے بجائے ان عسکری اور انتظامی عناصر کے پاس رہتا ہے جو دستور اور قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاست اور اقتدار کی کنجیاں اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔

نواز شریف
نواز شریف کچھ بجھے بجھے نظر آ رہے تھے۔

بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی یہ ملاقات 13 مئی کے بعد سے پہلا بالمشافہ رابطہ ہے جب دونوں رہنماؤں نے ’میثاقِ جمہوریت‘ پر دستخط کیے تھے۔

’میثاقِ جمہوریت‘ میں بیان کردہ اُصولی موقف خاصا خوشنما تھا لیکن اس معاہدے کی نازک پتیوں پر گزشتہ پانچ مہینے میں کافی اوس پڑی ہے۔ اس دوران بے نظیر بھٹو اور حکومت کے درمیان پس پردہ رابطوں کی خبر نکلی جس کی تصدیق یہاں تک پہنچی کہ بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف نے بھی محتاط لفظوں میں اس کا اقرار کیا۔

حتیٰ کہ ڈاکٹر شیرافگن کو ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت یاد آنے لگی اور چودھری شجاعت انتخابات کے بعد مشترکہ حکومت سازی کا امکان تسلیم کرنے لگے۔ حقوقِ نسواں بل پر اکھاڑ پچھاڑ میں وقتی طور پر معاملہ دائیں بازو کے مذہبی عناصر کے حق میں رہا تاہم اس معاملے پر صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان اصولی مفاہمت بالکل واضح رہی۔

میثاق جمہوریت کے پانچ ماہ بعد
 ’میثاقِ جمہوریت‘ میں بیان کردہ اُصولی موقف خاصا خوشنما تھا لیکن اس معاہدے کی نازک پتیوں پر گزشتہ پانچ مہینے میں کافی اوس پڑی ہے۔

پیپلز پارٹی اور حکومت کے مابین یہ رابطے واضح طور پر نتیجہ خیز تو نہیں رہے مگر ان سے حزبِ اختلاف میں باہمی اعتماد کو خاصا دھچکا پہنچا، شاید ایک سطح پر اس کوشش کا مقصد بھی یہی تھا۔

پاکستان کے سیاسی منظر پر پایا جانے والا نظریاتی ابہام دلچسپ ہونے کے باوجود معروف جمہوری عمل کے لیے زیادہ مفید نہیں ہے۔ فی الوقت مسلم لیگ (ق) صدر مشرف کی بنیادی سیاسی حلیف ہے لیکن مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ سطحی قیادت خارجہ اور داخلہ امور پر صدر مشرف کے نقطہ نظر سے زیادہ اتفاق نہیں کرتی۔

بے نظیر نے کہا کہ فوج سے ڈیل نہیں ہو رہی۔

مذہبی مدارس کو قواعد و ضوابط کے دائرے میں لانے سے لے کر حقوقِ نسواں بل تک صدر مشرف کی کوششوں کے تناظر میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے ہر ممکن سطح پر انہی عناصر کا ساتھ دیا ہے جو صدر مشرف کے ایجنڈے کے کھلے مخالف ہیں۔

اسی طرح اے آر ڈی میں پیپلز پارٹی کی حلیف ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اپنے تاریخی پس منظر اور نواز شریف اپنی افتاد طبع کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے نقطہ نظر سے زیادہ اتفاق نہیں رکھتے۔ اس سے سیاسی بساط پر دائیں بازو کے عناصر کو دونوں فریقوں سے تائید مل جاتی ہے۔

حکومتی پارٹی میں شجاعت حسین اور اعجازالحق موجود ہیں تو اے آر ڈی میں راجہ ظفر الحق اور شہباز شریف پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال میں پرویز مشرف اور حزب اختلاف دونوں مخمصے کا شکار ہیں۔

نواز شریف کو کچھ سوالات کے جواب چاہیے۔

1979 میں جنرل ضیاالحق نے افغانستان میں مغرب کی پشت پناہی سے سوویت یونین کی مخالفت کا بیڑا اٹھایا تو اس کے لیے انہوں نے داخلی سطح پر سیاسی صف بندی، ذرائع ابلاغ، نظام تعلیم اور امتیازی قوانین کے ذریعے جو اجتماعی نمونہ تیار کیا اس میں ضیا الحق کے داخلی حلیفوں اور بین الاقوامی حامیوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ یہ سہولت پرویز مشرف کو حاصل نہیں۔

ضیاءالحق کا متعارف کردہ داخلی قوتوں کا توازن نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوا بلکہ ربع صدی میں گوناگوں مفادات کے باہم تعامل سے نہایت طاقت ور ہوچکا ہے۔ پرویز مشرف بین الاقوامی منظر پر جو سمت اختیار کرنا چاہتے ہیں، داخلی محاذ پر اس کی زبردست مزاحمت موجود ہے۔

پرویز مشرف کے لیے پیپلز پارٹی کی صورت میں ایک ایسا ممکنہ حلیف موجود ہے جو انہیں داخلی اور بیرونی محاذوں پر یکساں حمایت مہیا کر سکتا ہے۔ لیکن اس میں دقت یہ ہے کہ تمام تر کمزوریوں کے باوجود پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ عوامی تائید پر قائم ہے۔ چنانچہ ایسی عسکری ہیئت مقتدرہ پیپلز پارٹی پر پوری طرح اعتماد کرتے ہوئے ہچکچاتی ہے جس نے سارا کھیل ہی جمہوری عمل پر فوجی بالادستی کے لیے سجایا ہے۔

نواز شریف کا دو ٹوک انداز
برطانیہ آنے کے بعد سے نوازشریف کا رویہ زیادہ دو ٹوک ہے جبکہ بے نظیر بھٹو ڈھل مل یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔

مسلم لیگ (نواز) کے علم میں ہے کہ پرویز مشرف کی اقتدار میں موجودگی کے دوران نواز شریف کے لیے سیاست کے مرکزی دھارے میں واپسی کا امکان موجود نہیں چنانچہ برطانیہ آنے کے بعد سے نوازشریف کا رویہ زیادہ دو ٹوک ہے جبکہ بے نظیر بھٹو ڈھل مل یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔

بے نظیر اور نواز شریف ملاقات میں چار نکات حل طلب تھے۔ اس میں سے ایک دونوں رہنماؤں کی وطن واپسی کا ٹائم فریم تھا۔ ایک سوال ارکانِ پارلیمنٹ کے استعفوں کا تھا۔ تیسرا نکتہ یہ تجویز تھی کہ متحدہ مجلس عمل سمیت وسیع تر حکومت مخالف اتحاد قائم کیا جائے۔ چوتھا سوال دونوں جماعتوں میں ان سیاسی عناصر کی واپسی کا تھا جو سن 2002 کے انتخابات سے پہلے اور فوراً بعد حکومت کا حصہ بن گئے تھے۔ ان چاروں نکات پر بے نظیر اور نواز شریف کی ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی بلکہ دونوں رہنماؤں میں نقطہ نظر کا اختلاف زیادہ کھل کر سامنے آیا ہے۔

پرویز مشرف کی ممکنہ حلیف
 پرویز مشرف کے لیے پیپلز پارٹی کی صورت میں ایک ایسا ممکنہ حلیف موجود ہے جو انہیں داخلی اور بیرونی محاذوں پر یکساں حمایت مہیا کر سکتا ہے۔

حکومت کے اہم ترین مخالف اتحاد میں یکسوئی کا یہ فقدان حکومت کے لیے نہایت اطمینان بخش ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ حکومت اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2007 کے نصف اول میں کسی وقت انتخابات کا اعلان کرکے کوشش کرے گی کہ پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کی جماعتوں کو اس طرح کے ملے جلے نتائج دیے جائیں جس سے سیاستی جماعتیں پاکستان کے حقیقی حکمران طبقے کو چیلنج نہ کرسکیں۔

اس سے صدر مشرف کے لیے آئندہ پانچ برس کے لیے صدر منتخب ہونے اور فوجی سربراہ کا عہدہ برقرار رکھنے میں سہولت پیدا ہو جائے گی۔

نواز شریف اور بے نظیر ملاقات میں جمہوری قوتوں کے لیے خوش آئند نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ اگرچہ پاکستان کے حالات میں کسی بھی وقت ناقابلِ پیش گوئی واقعات رونما ہونے کا امکان باقی رہتا ہے لیکن فی الحال حکومت کے لیے عید کی خوشیاں گہنانے کا کوئی امکان نہیں۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔)

اسی بارے میں
’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘
19 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد