BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 23:43 GMT 04:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف اے آر ڈی سے بات کریں‘

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے وفود کے درمیان ملاقات لندن میں چودہ مئی کو ہوگی
سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی کوششیں ترک کر کے ملک کے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیئے اے آرڈی سے بات چیت کرنی چاہیے۔

انہوں نے یہ بات سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

لندن کے پارک لین علاقے میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ صدر مشرف اور ان کی حکومت میڈیا میں جھوٹی خبریں چھپوا کر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان غلط فہمیوں پیدا کرکے اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا اصل مقصد صدر مشرف کے حامی پارلیمانی گروپ کو سیاسی فائدہ پہنچانا ہے جو دو سابق وزرائے اعظم کی ملک واپسی کا سوچ کر بہت پریشانی میں مبتلا ہے۔

بینظیر بھٹو نے نواز شریف سے اپنی ملاقات کو جمہوریت کی بحال کے لیئے پہلا ضروری اقدام قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایسے اقدامات کے ذریعے جمہوریت کی بحالی کی طرف اپنا سفر جاری رکھے گی۔

ملاقات میں کون کون شریک تھا
ملاقات میں پی پی پی کی نمائندگی بینظیر بھٹو، مخدوم امین فہیم، واجد شمس الحسن اور ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰن ملک نے کی جبکہ نواز لیگ کے وفد میں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، اے آر ڈی کے سیکریٹری اقبال ظفر جھگڑا اور سید غوث علی شاہ شامل تھے

’اس سفر میں ہمارا اگلا پڑاؤ جمہوریت کے منشور پر اتفاق رائے ہو گا اور اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے وفود کے درمیان ملاقات لندن میں چودہ مئی کو ہوگی۔‘

بینظیر بھٹو نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی حتمی منظوری اتحاد برائے جمہوریت کے سربراہ اجلاس میں دی جائے گی جو دو جولائی کو ہوگا۔

پاکستان میں آئندہ انتخابات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فریقین کے مابین موجودہ ملاقات اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کو مزید تقویت دے گی اور ملک کے سیاسی منظر نامے میں بہتر تبدیلی کا پیش خیمہ ہوگی۔

بلوچستان کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں موجودہ صورتِ حال اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ملک میں جب بھی فوجی حکومت ہوئی ہے لوگوں کے حقوق چھینے گئے ہیں۔

ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جمہوری حکومت کے دور میں پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں سابق ہندوستانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط ہوئے تھے جبکہ میاں نواز شریف کے دور میں وزیر اعظم واجپئی کے ساتھ اعلانِ لاہور پر دستخط ہوئے تھے۔

دونوں لیڈروں نے اگلی ملاقات پر اتفاق کیا ہے لیکن اس سے قبل مئی میں دونوں جماعتوں کے وفود ملیں گے

اس موقع پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں جماعتوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیئے ہر ممکن اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں کی ملک واپسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ موجودہ ملاقات کو ان کی ملک واپسی کے سلسلے میں پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ دونوں جماعتیں پہلے بھی تعاون کر رہی تھیں اور آئندہ بھی مل کر جمہوریت کی بحالی کے لیئے جدوجہد جاری رکھیں گی۔

’مشرف جو چاہیں کر لیں ہم میں پھوٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ ہم سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے اور مشرف کی پچ پر نہیں کھیلیں گے۔‘

’ہم کوئی بکاؤ مال نہیں ہیں اور حکومت کی کسی سازش میں نہیں آئیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا ایک ایسی حکومت کے ساتھ تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس کے پاس خود اپنے اقتدار کا کوئی جواز نہ ہو۔

اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے وفود کے مابین دو گھٹنے کے ملاقات ہوئی۔

غلط فہمیوں پھیلائی جا رہی ہیں
 صدر مشرف اور ان کی حکومت میڈیا میں جھوٹی خبریں چھپوا کر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان غلط فہمیوں پیدا کرکے اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے
بے نظیر بھٹو

ملاقات میں پی پی پی کی نمائندگی بینظیر بھٹو، مخدوم امین فہیم، واجد شمس الحسن اور ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰن ملک نے کی جبکہ نواز لیگ کے وفد میں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، اے آر ڈی کے سیکریٹری اقبال ظفر جھگڑا اور سید غوث علی شاہ شامل تھے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ پریس ریلیز کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملک میں بگڑتی ہوئی سیاسی اور معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ایک قومی اتفاق رائے سے قائم ہونے والی نگران حکومت حکومت کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔

پریس ریلیز کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جمہوریت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھنے اور 1973 کے آئین کی بحالی کے عزم کا اعلان کیا۔

دونوں رہنماؤں نے قومی اسمبلی کے سابق سپیکر یوسف رضا گیلانی، نواز لیگ کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی، ایم این اے خواجہ سعد رفیق، لیگی رہنما زعیم قادری، جنید بلند، بسم اللہ کاکڑ، پیر مکرم، آفاق احمد خان اور عامر خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد