BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چارٹر آف ڈیموکریسی پرگفتگو‘
نواز شریف اور بے نظیر بھٹو
نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان دبئی اور سعودی عرب میں ملاقاتیں ہوچکی ہیں
حزب اختلاف کی دو اہم جماعتوں کے رہنماؤں، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان سوموار کی شام لندن میں ہونے والی ملاقات کے دوارن ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کو آخری شکل دینے کے لیے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما شہباز شریف نے ملاقات سے قبل بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت اے آر ڈی میں شامل سیاسی جماعتیں آئندہ سیاسی عمل میں فوج کو مداخلت کی دعوت دینے سے احتراز کرنے کا وعدہ کریں گی۔

مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹیوں نے بہت کام کر لیا ہے اور بہت جلد اس کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا جائے گا۔

چارٹر آف ڈیموکریسی کے اہم نکات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا بنیادی طور پر اس پر دستخط کرنے والی سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں سے اجتناب کرنے کا عزم کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں سب سے اہم نکتہ انیس سو ستتر کے آئین کو 12 اکتوبر سن انیس سو ننانونے سے قبل کی صورت میں بحال کرنے سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہ اس کے علاوہ پاکستان کے عدالتی نظام کی اصلاحات، آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کی تشکیل، خواتین کے حقوق اور مخلوط طریقے انتخاب کے امور بھی اس چارٹر آف ڈیموکریسی میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا ان میں سے بیشتر امور پر حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں میں عمومی اتفاق رائے پایاجاتا ہے صرف کچھ کے بارے میں زبان اور طریقہ کار پر اختلاف ہے جسے جلد ہی دور کر لیا جائے گا۔

نواز شریف اور بے نظیر کی ایک ساتھ وطن واپسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا جواب تو میاں نواز شریف ہی دیں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بے نظیر کی طرف سے ظاہر کی جانے والی اس خواہش پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر نے دبئی اور سعودی عرب میں ہونے والی بالمشافہ ملاقاتوں میں اس قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی۔ البتہ اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئی ہیں کہ بے نظیر بھٹو نواز شریف کے ہمراہ پاکستان واپسی جانے کی خواہش رکھتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد