’نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بی بی سی کے پروگرام ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ میں اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا ہے کہ ان کے خاندان نے مشرف حکومت کے ساتھ جلا وطنی کے باقاعدہ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔ نواز شریف نے یہ بات اتوار کے روز اس خصوصی پروگرام میں کہی۔ تاہم وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے اور ’مجھے افسوس ہے کہ اس مرتبے کے سیاستدان اس طرح کا جھوٹ بول رہے ہیں‘۔ شیخ رشید کے مطابق شریف خاندان اور مشرف حکومت کے درمیان معاہدے کی دستاویز پر شریف خاندان کے تمام مردوں نے دستخط کیے تھے۔ نواز شریف نے ایک دفعہ جبکہ شہباز شریف نے تین مرتبہ دستخط کیے، یہ اس لیے کے ایک لفظ پر جھگڑا تھا۔‘ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ’میرے سامنے اعجاز بٹالوی مرحوم نے اس دستاویز کی ڈرافٹنگ کو درست کیا تھا۔ اور جب یہ بھائی یہ بیان کر رہے تھے کہ جنرل ان کے پاس جیل میں اس لیے آتے تھے کیونکہ وہ ان کی صحت کی خرابی اور میڈیکل کی درخواست پر غور کر رہے ہیں تو اصل میں اس معاہدے کی فائنلائزیشن‘ کی جا رہی تھی۔‘ جب وزیر اطلاعات سے پوچھا گیا کہ اگر واقعی ایسی کوئی دستاویز موجود ہے تو حکومت اسے منظر عام پر کیوں نہیں لاتی تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ ’اس میں ایک اور ملک جو ہے، اس کے معاملات کا سوال تھا۔ یہ بات درست ہے کہ سعودی عرب کے شاہ عبد اللہ نے اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن اب ایک ایسا وقت آگیا ہے کہ میرے خیال میں اس بارے میں سوچنا ہے کہ اسے اب جاری کرنا چاہیے یا نہیں۔ کیونکہ آجکل ہمارے سعودی عرب سے تعلقات اس نوعیت کے ہیں۔‘ جب وزیر سے پوچھا گیا کہ حکومت نواز شریف کو ملک واپس کیوں نہیں آنے دیتی تو انہوں نے جواب دیا کہ نواز شریف معاہدے کے تحت دس سال تک سیاست نہیں کر سکتے اور اسی کے تحت وہ اگلے پانچ سال تک ملک چھوڑنے کے اس معاہدے کے پابند ہیں اور ایک الیکشن اور ہوگا جس میں وہ شریک نہیں ہو سکیں گے۔ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ وہ چار دن لندن میں رہیں گے اور نواز شریف کو چاہیے کہ وہ کوئی جیوری مقرر کریں جس کو وہ یہ دستاویز دکھا دیں گے۔ |
اسی بارے میں ’پورا شریف خاندان معاہدے کا پابند ہے‘09.07.2002 | صفحۂ اول جرنیلوں کوسبق سکھائینگے: نواز30 January, 2006 | آس پاس جلاوطنی معاہدہ نہیں مفاہمت ہے‘05 February, 2006 | پاکستان فوج شریف مفاہمت: کس کی ضرورت 30.08.2002 | صفحۂ اول شہباز،کلثوم اپیل مسترد07.10.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||