 | | | میاں محمد نوازشریف بی بی سی سٹوڈیوز میں |
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نےاس وقت کے پاکستان کے صدر رفیق تارڑ سے کہا تھا کہ نواز شریف کو پھانسی نہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ بل کلنٹن کو ان سے ہمدردی تھی۔ پانچ سالہ جلاوطنی کے بعد نواز شریف بی بی سی ارود کے پروگرام ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ میں سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ یہ پروگرام ویب کاسٹ کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا۔ نواز شریف نے ایک سامع کے اس خیال کی شدت سے تردید کی کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے کوئی بھی ڈیل کی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ اگر وہ ڈیل کے خواہاں ہوتے تو وہ چودہ ماہ جیل میں نہ گزارتے۔انہوں نے کہا کہ انہیں نہ تو پرویز مشرف سے ملنے کی کوئی خواہش تھی اور نہ ہی ایسا ہوا ہے بلکہ پاکستان فوج کے تین جرنیلوں نے ان سے رابطہ کیا اور ایک کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’اگر میں ان کی آفر کو مان لیتا تو میں مکمل طور پر آزاد ہوتا۔‘ مبنیہ ڈیل کے بارے میں نواز شریف نے مزید کہا کہ اگر وہ جنرل پرویز مشرف کو صدر مان لیں تو وہ (مشرف) خود انہیں لینے یہاں آ ئیں۔ انہوں نے کہا انہیں بہتر سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی اور حکومت اسے سزائے موت میں بدلنا چاہ رہی تھی۔ نواز شریف نے کہا کہ اپنے اقتدار کیلیےجنرل پرویزمشرف نےملک کو داؤ پر لگا دیا۔  | | | بیگم کلثوم نواز شریف بی بی سی سٹوڈیوزمیں |
میزبان شاہ زیب جیلانی نے جب نواز شریف سے یہ پوچھا کہ انہیں ایک عرصے بعد پاکستانی عوام سے بی بی سی کے ذریعہ رابطہ کیسا لگ رہا ہے تو نواز شریف سے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہو رہی ہے۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کےساتھ سیاسی مفاہمت کے بارے میں سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’بینظیر اور ہمارے درمیان ایک ’کوڈ آف کنڈکٹ‘ پر بات ہو رہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت نظریہ ضرورت کے تحت نہیں بلکہ اس کی ضرورت پاکستان کو ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا آئندہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ ان افراد سے کیا سلوک کریں گے جو انہیں چھوڑ گئے، نواز شریف نے کہا کہ ’لوٹے مشرف کے ساتھ ہیں۔ مشرف صاحب صفائی کا چھ نکاتی ایجنڈا لیکر آئے تھے مگر ان کی کابینہ میں خود نیب زدہ شامل ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے آئین میں چودھویں ترمیم کی تاکہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو سکے تاہم جنرل مشرف نے اقتدار میں آنے کے بعد اس ترمیم کو وقتی طور پرختم کیا تا کہ ہارس ٹریڈنگ ہو سکے۔ کالا باغ ڈیم کی حمایت کے سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ’جب تک تمام صوبوں کی رضامندی نہ ہو، کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہیے۔ میں نے اپنے دور میں اس منصوبے پر اس لیے کام نہیں کیا کیونکہ مجھے صوبوں کی مخالفت کا علم تھا۔‘ نواز شریف نے مزید کہا کہ گوادرپورٹ کی ترقی سمیت بلوچستان کی ترقی کے دیگر منصوبے انکے دور حکومت میں شروع ہوئےتھے۔ |