BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 January, 2006, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف کا سخت لہجہ

نواز شریف نے حکومت سے پسِ پردہ مفاہمت کے تاثر کو دور کردیا۔
سعودی عرب میں پانچ سال سے زیادہ جلاوطنی گزار کر نوازشریف کی لندن میں آمد اور جرنیلوں کے احتساب کی باتوں سے قومی سیاست کی گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا پیپلزپارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے ساتھ میچ پہلے سے جاری ہے۔

اگر نواز شریف نرم الفاظ میں بولتے اور حکومت پر ہلکا ہاتھ رکھتے تو اس سے یہ مطلب اخذ کیا جاسکتا تھا کہ نواز شریف کے سعودی عرب سے لندن جانے کے پس پردہ حکومت سے ان کی کوئی مفاہمت موجود ہے۔ انہوں نے کم سے کم فی الوقت اس تاثر کو تو دور کردیا۔

وزیراطلاعات شیخ رشید بار بار شہباز شریف کے لیے مثبت باتیں کرکے اور مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے متحد ہوکر انتخابات لڑنے کی پیش گوئیاں کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

جلاوطنی سے دوچار نواز شریف ایک مضبوط لیڈر ہونے کا تاثر بھی دینا چاہیں گے اور اپنے کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھنا چاہیں گے خاص طور سے ایسے وقت میں جب ملک میں عام انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ اور صدر جنرل پرویز مشرف کے دوروں اور مختلف شہروں میں ترقیاتی اسکیموں کے اعلانات سے تو یوں لگتا ہے کہ وہ الیکشن مہم کے لیے ابھی سے راہ ہموار کررہے ہیں۔

یہ بات بھی معنی خیز ہے کہ پاکستان کے نجی چینلوں نے جس طرح حالیہ دنوں میں پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویزالہی کی کوریج میں بہت اضافہ کردیا ہے اور چند ہفتے پہلے ان چینلوں کو بھارت کے مقبول چینلوں پر کیبل میں نشر کرنے پر پابندی لگا کر زبردست مالی فائدہ پہنچایا گیا ہے۔

آج وزیراعلی پنجاب نے ایک بار پھر بہت واضح انداز میں کہا ہے کہ صدر مشرف سنہ دو ہزار سات کے بعد بھی فوجی وردی میں رہیں گے کیونکہ وہ ملک میں استحکام کی علامت ہیں۔ وہ صدر مشرف کے لیے وہی خدمت انجام دینے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں جو سترہ سال پہلے نواز شریف نے جنرل ضیاءالحق کے لیے انجام دی تھی۔

وزیراعلی پنجاب پیپلزپارٹی کے خلاف بھی زوردار مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔ وہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت پر بھی پیپلزپارٹی پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں اور اسے ایک علاقائی جماعت قرار دے رہے ہیں جس نے پنجاب کے مفاد کو نظر انداز کردیا۔

خود سے ملک سے باہر مقیم پیپلزپارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری ہونے پر بھی حکومت کے وفاقی وزراء اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے درمیان مخالفانہ بیان بازی جاری ہے۔

پیپلزپارٹی حکومت کی درخواست پر جاری ہونے والے ریڈ نوٹس کے جواز کو انٹرپول میں چیلنج کرچکی ہے اور اسے پارٹی کی قائد کا میڈیا ٹرائل قرار دیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی بار بار اعلان کررہی ہے کہ بے نظیر اگلے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جلد ملک واپس آجائیں گی۔

حزب مخالف کا تیسرا بڑا گروہ مذہبی جماعتوں خصوصا جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی پر مشتمل متحدہ مجلس عمل بھی ابھی حکومت سے لاہور میں ہونے والی مخلوط میراتھن کے معاملہ پر میچ کرکے فارغ ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کے قائد قاضی حسین احمد نے حکومت کی جانب سے میراتھن کرانے کو یہودی ایجنڈا قرار دیا تھا۔

ان حالات میں نواز شریف کا لندن میں کارکنوں سے خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف پر ان کا نام لیے بغیر سخت تنقید نے ماحول کی تپش کو اور بڑھا دیا ہے۔ ان کا اصل معاملہ کیا ہے اس کا علم تو ان کے بیانات سے زیادہ ان کے عملی اقدامات سے ہوگا کیونکہ پاکستان کی سیاست میں کہنے اور کرنے میں فرق رہا ہے۔

شہباز شریفشہباز میں تبدیلی؟
شہباز شریف کا لہجہ بدلا بدلا ساکیوں نظر آرہا ہے؟
شہباز شریفشہباز کی واپسی
بدلتے پینترے، اعصاب کی جنگ یا نورا کشتی؟
شہباز شریفشہباز کی واپسی
معرکہ آرائی نہیں عوامی خدمت کرنے جا رہا ہوں
شہباز شریفبراستہ ہیتھرو
میاں شہباز شریف کا آخری باضابطہ انٹرویو
نواز شریف اور جنرل مشرفکارگل اور چار کا ٹولہ
کارگل جنگ چار جرنیلوں کی جنگ تھی: نیا انکشاف
اسی بارے میں
نواز شریف لندن پہنچ گئے
29 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد